آن لاٸن کلاسز کے رونے

آن لاٸن کلاسز کے رونے

ہائے
سوچا تھا یونیورسٹی جا کر پارٹی کریں گے
مگر یہ نا پتا تھا آنلاٸن کلاسزز کا مزہ چکھیں گے
کیاکیاخواب تھےآنکھوں میں سجائے ہم نے
اپنے ساتھ ساتھ ٹیچرز بھی ہیں رولائے ہم نے
یونیورسٹی دیدار کیے بغیر پڑھنا پڑھ رہا ہے
ٹیچرز کو دیکھے بغیر روداد کو سمجھنا پڑھ رہا ہے
ایک اورداستان ہےالگ
ذمہ داری ٹیچرز نےمجھ پےجو ہے ڈالی
میں کیسے بولوں مجھ سے یہ نہیں جاتی ہے سنبھالی
یوں دیکھو تو میں لگتی ہوں نرالی
یہ سب رولے جھنجھٹ مجھ پے ہیں بھاری
بچے جو دوسرے ہیں لیکچرز میں لیٹ آتے
ان کے لیے بھی ٹیچرز مجھے ہیں باتیں سناتے
روتے ہیں جو آتے لگے انہیں ٹھوکر
انہیں کون سمجھائے میں نہیں ان کی نوکر
ٹیچرز دیتے ہیں پی ڈی ایف اور لنک ایسے ہمیں
نا کوئی اور کام ہو موبائل پے جیسے ہمیں
یہ لاٸن ایپ اور یوٹیوب لنک کے رولے ہیں الگ سے
جیسے ہرعلاقے میں نیٹ ورک آتا ہےخوب دب کے
اب تو آن لائن ٹیسٹ بھی ہونے لگے ہیں
ان کوسوچ سوچ کرہوش کھونےلگےہیں
بن بیٹری کے موبائل پڑاہے بیکار
اب ہم لائٹ کی اذیت سے بھی ہونے لگے ہیں دو چار
موباٸل جو گروپ کےچکر میں ہیں ہینگ ہوتے
بیچارے سٹوڈنٹس ہیں ان باکس آ کر روتے
وہ جی آر موبائل لیکچر میں تھا ایسے اٹکا
نا ٹھیک سے سارا لیکچر سنا پڑھانا ہی لگا رٹا
اسائنمنٹ کے رونے الگ ہوتے ہیں پڑے
نا گروپ کی بنے نا ٹھیک نیٹ ورک چلے
یہاں اختلاف رائے تو سننی پڑتی ہے سبھی کی
ایک کی سنو تو چار اور رولے آلگتے ہیں گلے
ایک بات اور ہےانمول
ٹیچرز بھی آگئے ہیں تنگ ہم سے
آنلائن کلاسزز کوروتے ہیں غم سے
چھوڑ کر سبھی گھرداریاں اپنی
روشناس کرواتے ہیں ہمارے مستقبل کواپنے اندازِ قلم سے
ہےیہ جو سارا قصہ داستاں
ہے ابھی تک سارا رواں

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *