اف یہ گاوٴں کی گوریاں پارٹ ١

یہ ان بنوں کی بات ہے جب میرے منگیتر گورش کاتبالہ گاوں میں ہوگھا ان
تھا کیونکہ جس گائوں تبادہ ہوا وہ ہمارے شہر سے بار
میل کے فاصلے پر تھا۔ راستہ بھی خراب تھا کیونکہ ُدھر جانے والی سڑک
بھی وخ نہ بی تھی۔
گورش نے اپنے منیجر سے بات کی کہ سر آپ کچھ کریں اور میرا تبائلہ ڑکوا.
دیں۔ روزان سائیکل پر انی ذور آت جات میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ یہ میرے
بس میں نہیں ہے ورنہ ضرور تمہارا تبادلہ زکوا دیتا۔ دراصل جس شخص نے
جگہ یہاں تبالہ کروایا ہے وہ کافی رسوخ والا ہے۔ اپ اس کو ادھر
ان نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ ٹرانسفر آرٹر وصول کرلو اور اپنی.
ڈاو۔ابھی جوائننگ دے دو۔ بعد میں کسی سیاسی اٹر و
رسوخ والے بندے کو تلاش کر کے شہر کی ڈوسری برانچ میں کوشش کریں
گے تب تک کوئی سیٹ نکل آئے گی
منیجر صحیح کہہ رہا ھا۔ بڑی مشکل سے نوکری لگی تھی لٰذا اس کے
سمجھانے سے گورش نے گاتوں جانے کا فیصلہ کرلیا اس کے تبائلے سے
میں بھی داس تھی۔ پہلے وہ ڈیوٹی کے بعد جلد گھر آ جات تو میں کسی بہاتے
خالہ کے گھر جا کر اُس کا دیدار کر لی تھی لیکن یہ مسکن تہ رہا تھا وہ اب
صبح تڑکے کا نکلا رات گئے گھر لوٹ پاا تھا۔ اتوار کو اتا گھر پر ہوتے تب
بھی ہم اہر قدم نہ رکھ سکتے تھے۔
پہلے روز ڈیوٹی پر جاتے ہوئے جب گورش سائیکل پر گھر سے نکلا تو بہت
ایوجھل بل کے ساتھ گاتوں گیا تھا۔ دماغ میں سوچوں کا انار تھا۔ خالہ نے آیت
پڑھ کر بیٹے کے ماتھے پر پھونکی حفاظت کی دُعا کی: میں نے بھی اہ
دروازے کی جھری سے اس کو گلی میں جاتے دیکھا تھا وہ بہت مضممل لگ
١تھا۔‏ جی چاہا دوڑ کر اس کے ساتھ چلی جائوں۔
ات سے کچھ پہلے وہ واپں آیا تو ماں سے بولا۔ آج پہلے ہی دن بہت تھکن ہو
گئی ہے۔ سڑک بھی ٹوٹی پھوٹی ہے۔ سائیکل پنکچر ہو جاتی تو گھر نہ پہنچ
تا یہ نوکری تو سزا ہوگئی ہے۔ بٹا سائیکل پر ضرور جاتا ہے+ گاتوں کوئی
سواری نہیں جائی کیا؟ ماں ایک ہی پراتے ماٹل کی لاری صبح گاتوں سے
شہر کو آئی ہے اور شام کو شہر سے جاتی ہے۔ میں نے آج پہلی مرتیہ سائیکل
پر ان لمبا سفر کیا ہے۔ ڈیوٹی وقت پر پہنچنا تھا۔ گاتوں کی برانچ چھوٹی سی
ہے وہاں کا اسٹاف بھی محض ایک منیجر+ کیشتر اور گن مین پر مشتمل ہے۔
اسب گانوں کے مقامی ہیں۔ جب چاہے أتھکر گھر چلے جاتے ہیں۔ منیجر
کہہ رہ تا اگر میں ایک دو گھنٹے کو غیر حاضر ہو جانوں تو برانچ کو تم تے
ہی سنبھالا ہے۔ اس کی بائیں من کر میں اور پریشان ہوھا۔
مہینہ تھا۔ گرمی زوروں پر تھی۔ سائیکل پر روز کا سفر گورش کو
نڈھال کئے دے رہ تھا۔ چھٹی تو وہاں دو بجے ہو جاتی تھی لیکن ڈھرپ اہ
گرمی کی وجہ سے گورش:
چار پاچ بھے ہی واپسی کے لئے نکتا تھا۔ وہ
کا انتظار کرتا۔ گن مین کا گھر نزدیک تھا وہ بچارا:
نے کو گھر سے لا کر دینے لگا ایک روز اس نے
تم چاہو تو میں تمہاری رہاتش کا بندوست گاتوں
ان تپتے دنوں میں روزانہ تم ات لمباسفر کر کے کہیں
سار نہ پڑ جاتو۔ میں سوچ رہا ہوں مناسب داموں ملے تو موٹر سائیکل خریدِ
لوں۔ گورش نے جواپ دیا۔
گورش نے او سے بھی ذکر کیا کہ خالو جان اگر آپ کی نظر میں کوئی مناسبِ
موٹر سائیکل ہو تو بتاینے گا۔ میں خریدنا چاہا ہوں۔ میرے والد موٹر سائیکل:
کے ٹیلر کے پاس ملازم تھے۔ انہوں نے تسلی دی کہ خاظر جمع رکھو جوتہی
کوئی اچھی موٹر سائیکل بکنے آئی: میں تم کو غبر کر دوں گا۔
یہ روز کا معمول ہوگی۔ چیٹی کے بعد متیجر اور کیشتر چلے جائے؛ سہ پہر
ڈھلنے تک گورش ہرانچ میں موجود رہتا برانچ کے أوپر چوہارہ تھا جس کی
گن مین کے پاس تھی۔ اس نے وہاں ایک کھاٹ ڈال کر اس پر کھیس اور
یہ رکھدیا تھا۔ انی کا مٹکاء گلاس بھی مہیا کر دی تاکہ جتنی دیر گورش آرام,
کرنا چاہے اس چوبارے پر کر سکے۔ دفتری اوقات میں گن مین چانے وغیرہ
بھی اسی چوہارے پر بناتا تھا یہ تو سہولت ہوگئی کہ چھٹی کے بعد آرام کی
جگہ گورش کو میسر آ گئی۔ چوبارے کے سامنے سڑک ہار کھیت تھے
ایک کنواں بھی تھا گاتوں کی لڑکیاں اس کنویں سے پانی بھرنے آیا کرتی۔
گورش سے جب انتظار کی گھڑیاں نہ کتیں وہ کبھی اخبار پڑھتا اور کبھی:
چوبارے کی منڈیر پر آکر کھیتوں کا نظارہ کرنے لگت۔ جہاں درختوں پر آمِ
لگے ہوتے اور کونل کوکتی تو یل میں ہوک آٹینے لگئی۔ وہ سوچتا جانے کیوں
کونل اس موسم میں اننے دردتاک انداز سے کوکتی ہے۔ خدا جاتے کون اس گا
پیارا بچھڑ گیا ہے اور یہ کس کو بلاتی رہٹی ہے۔
ایک بن چارپائی پر لیٹے ہوئے ہور ہو گیا تو کمرے سے باہر گیا اور
چربارے سے کھیتوں کی جاتب دیکھنے لگا۔ اس کو کنوہی کے پاس ایک دلکئل
نقوش والی حسیفہ نظر آئی جو کنویں سے ڈول کھینچ رہی تھی۔ اس لڑکی کی
نظر بھی چوبارے کی طرف آُٹھ گئی۔ گورش کو اپنی طرف دیکھتے پاکر اس
نے سی کو دوبارہ گنویں میں چھوڑ دیا جس سے پانی میں زور سے ڈول
گرنے کی آواز گونجی۔ اننے میں دو تین اور لڑکیاں گھڑے لئے وہاں آگئیں۔
انہوں نے جلدی جلدی ڈول سے اپنے گھڑے بھرے اور چل دیں لیکن پہلی والی
ان کے ساتھانہ گئی۔ وہ پھر سے ڈول کنویں میں گرا کر أوپر کھینچتی مگر
باہر نکالنے کی بجائے زمتی کو چھوڑ دیتی تو پاتی سے بھرا ٹول زور سے
کنویں میں جا گرتا جس سے چھپاکے کی آواز گونجتی۔ یہ حرکت اس نے دس
مرتبہ کی ہوگی تبھی گورش سمجھ گیا کہ وہ ُس کو متوجہ کرنے کو یسا کر
رہی ہے۔ وہ پیچھے بٹ گیا اور کمرے میں جاکر چارپائی پر لیٹ گیا لیکن پائی
سے بھرے ڈول کے کنویں میں گرنے کی گونچ دیر تک اس کے دماغ میں
گونمتی رہی۔
ذڈوسرے روز سہ پہر کو جب ساری لڑکیاں کب کی پانی بھر کر جا چکی تھیں:
یہ لڑکی کنویں پر آئی اور پہلے کی طرح اس نے بھرے ہوئے ڈول اوپر کھینچ
کر دوبارہ انہیں کنویں میں گرانا شروع کر دیا۔ آواز پر گورش اُٹھ بیٹھا۔ یہ آواز
ایسی تھی جیسے کوئی اُس کو بلانے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ کمرے سے باہر
آیا اور کنویں کی سمت دیکھا۔ لڑکی اُس کو دیکھنے لگی؛ جیسے کہ اُسی کی
دید کی منتظرء اسی خاطر بھری دوپہر میں آ گئی تھی۔
گورش نے سوچا یہ ٹھیک بات نہیں۔ وہ اس گائوں کا ربنے والا نہیں ہے۔ کسی
نے یہاں اسے اس لڑکی کی طرف تکتے دیکھ لیا تو اچھا نہ ہوگا۔ ابھی سہ پہر
کی تمازت باقی تھی۔ چوبارے کو تالا لگا کر وہ نیچے آیاء سائیکل اُٹھائی اور
چابی گن مین کے گھر دے کر کچی سڑک پر آ گیا۔ تبھی وہ حسینہ جس کا نام
سوہنی تھاء سڑک پر آ گئی اور گورش سے کہا۔ میری کلائیاں نازک ہیں۔ گھڑا
اٹھا کر سر پر نہیں رکھ سکتی۔ ذرا میری مدد کر دو۔ ناچار گورش نے سائیکل
کو ایک قریبی درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا کر دیا اور اس کے ساتھ کنویں
تک گیا۔ پانی سے بھرا گھڑا اٹھا کر اس کے سر پر رکھا اور جلدی سے واپس
مڑ گیا۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی اُس کو گائوں کی اس گوری کے ساتھ دیکھ
نہ لے۔ وہ اس کے سر پر گھڑا رکھتے ہوئے پسینے میں نہا گیا تھا۔
جلدی سے سائیکل پر بیٹھ کر اپنے رستے روانہ ہو گیا اور مڑ کر بھی پیچھے
کی سمت نہ دیکھا۔ سوچا آئندہ ہرگز اس وقت باہر نہ نکلوں گا۔ گھر آکر اس نے
یہ بات اپنی ماں کو بتائی۔ وہ بولیں۔ ارے بیٹا گائوں کی لڑکیاں ایسی ہی نڈر
ہوئی ہیں اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں۔ تم بس احتیاط کیا کرو۔ وہ
کنویں پر ہو تو چوبارے سے مت جھانکا کرو۔ دوچار دن میں آپ ہی سمجھ
جائے گی۔
سوہنی مگر ہار ماننے والی نہ تھی۔ وہ روزانہ آتی اور چھٹی کے وقت کنویں
میں پانی سے بھرے ڈول بار بار گرانے کا شغل شروع کر دیتی۔ دو چار دن
گورش چوبارے میں ذم سادھے پڑا رہا لیکن کب تک بالآخر ایک روز وہ پھر
بابر نکلا اور منڈیر سے جھانکا۔ تبھی لڑکی نے اپنے گھڑے کی جانب اشارہ
کیا کہ میرے سر پر رکھ دو۔ وہ نہ رہ سکا اور سیڑھیاں اُتر کر کھیت کی
طرف چلا گیا۔ پانی سے بھرا گھڑا اس کے سر پر رکھا جو کافی بھرا ہوا تھا۔
پانی نے چھلک کر دونوں کے کپڑوں کو بھگو دیا۔ وہ مسکرا کر بولی۔ شہری
+ تم کو تو گھڑا سر پر رکھنا بھی نہیں آتا۔ کل یہاں اس وقت خود ہی آجانا۔
مجھے ڈول کو کنویں میں گرا گرا کر تم کو بُلانا نہ پڑے۔
اس ین گورش نے ماں سے لڑکی کی شکایت نہیں کی۔ آج تو گھر آکر سفر کی
تھکاوٹ بھی محسوس نہ ہوئی تھی۔ ان کو لگا کہ جیسے تازہ تم ہے۔ اب وہ اس
لڑکی کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ اگلے دِن چھٹی تھی۔ زندگی
میں پہلی بار وہ چھتی اس کو کھلی تھی۔
اگلے دن منیجر نہ آیا تو اس کا کام بھی گورش کو کرنا پڑا۔ دیر تک برانچ میں
بیٹھا رہا۔ گن مین چائے بنانے چلا گیا اور کیشئر کھانا کھانے۔ تب ایک لڑکا
رُومال میں بندھا ایک برتن لایا اور گورش سے کہا کہ باجی سوہنی نے بھیجا
ہے۔ یہ ساگ روٹی ہے کھالو اور برتن اس درخت کے نیچے رکھ دیناء میں لے
جائوں گا۔
لڑکا چلا گیا۔ گورش نے رُومال کھولاء تازہ ساگ کی خوشبو اس کے نتھنوں
میں گھستی چلی گئی۔ اسے زور کی بھوک لگی تھی۔ جلد جلد بڑے بڑے نوالے
کھالئے۔ برتن درخت تلے رکھ دینا چاہتا تھا لیکن اسی وقت کیشئر اور گن مین
آگئے تو اس نے برتنوں کو میز تلے چھپا دیا۔
چھٹی کے بعد یہ دونوں چلے گئے۔ وہ رومال میں بندھے برتن کو لے کر
درخت کی طرف آیا۔ اس کی اوٹ میں اسے سوہنی کھڑی مل گئی۔ یہ تم کھڑی
ہو۔ ہاںء تو کیا برتن نہ لے جاتی۔ تم نے دیر کر دی وہ بچہ آیا تھا۔ یہاں برتن نہ
ملے تو چلا گیا۔ اچھا تمہارا شکریہ مگر اب دوبارہ یہ عنایت مجھ پر مت کرنا۔
ایسا نہ ہو کسی دن تمہارے گائوں والے میری مرمت کو آجائیں۔ ان کی یہ مجال
نہیں ہے۔ یوں بھی یہاں کا ہر مرد مزدوری کرنے سعودی عرب یا دبئی گیا ہوا
ہے۔ سارے گائوں میں عورتیں رہ گئی ہیں یا پھر بچّے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا
ہے۔ ہاں بھئی صحیح ہے یہ۔ تھوڑے سے لوگ ہیں یہاں جو کھیتی باڑی میں
کھپے رہتے ہیں یا پھر تم جیسے چند ایک جو سرکاری نوکری کر رہے ہیں۔ تم
ہو بڑے ڈرپوک۔ ویسے تم نے یہ نہیں بتایا کہ میں نے ساگ کیسا بنایا تھا۔ بہت
لذیذ تھا۔
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *