اف یہ گاوٴں کی گوریاں پارٹ 2

مکھن زیادہ ڈال دیا تھا۔ مکھن سے تو ساگ میں مزہ آتا ہے ہمارے گھر
بھینسیں ہیں مکھن کی کمی نہیں ہے۔ اچھا اب تم جائو۔ مجھے بھی جانا ہے گھر
کو۔ دیر ہو رہی ہے۔ یہاں ہی کیوں نہیں رہ جاتے چوبارے پر؟ یہاں نہیں رہ
سکتا۔ گھر میں امّاں اور بہن اکیلی ہوتی ہیں۔ تمہاری شادی تو نہیں ہوئی نا۔ یہ
کیوں پوچھ رہی ہو؟ ویسے ہی۔ اگر بتا دو گے تو کیا گھاٹا ہو جائے گا تمہارا۔
نہیں ہوئی ہے۔ گورش نے یہ کہہ کر جان چھڑائی اور سڑک کی سمت قدم بڑھا
دیئے۔ سوچتا جاتا تھا کہ یہ لڑکی آپ ہی آپ قدم آگے بڑھا رہی ہے۔ کسی دن
شامت بلائے گی اپنی اور میری بھی۔
اس کے بعد یونہی رفتہ رفتہ موقع ملنے پر ان کی بات چیت ہونے لگی۔ سوہنی
اتنی دلیر ہوگئی کہ وہ اس وقت چوبارے پر آجاتی جب سب لوگ چلے جاتے۔
اُسے علم ہو چکا تھا کہ گورش أُوپر اکیلا ہوتا ہے۔ اس طرح بڑھتے بڑھتے
بات بڑھ گئی اور نہ چاہتے ہوئے بھی گورش اس حسینہ کے بچھائے جال میں
الجھ کر رہ گیا۔ اس کے ساتھ شادی کا وعدہ کر لیا۔
ایک سال بیت گیا۔ سوہنی ایسے ہی بھری دوپہر کو ایک آدھ گھنٹے کو ذبے
قدموں چوبارے چڑھ آتی۔ ایک روز وہ آئی تو بہت اُداس تھی۔ بولی کہ کل سے
نہیں آ سکتی۔ ابَا اور بھائی سعودیہ سے آ گئے ہیں۔ وہ میری شادی کرنے آئے
ہیں۔ میرے چاچا کے بیٹے سے۔ وہ بھی ان کے ساتھ آیا ہے۔ تم کچھ کرو۔ اس
سے پہلے کہ میں کسی اور کی ہو جائوں۔ میں کیا کر سکتا ہوں بھلا۔ مجھے
شہر لے جائو۔ وہاں ہم عدالت میں شادی کر لیتے ہیں۔ کیسی بات کرتی ہو۔ یہ
نہیں ہو سکتا گھر سے بھاگ کر شادی کرنے پر تمہارے بھائی اور باپ ہم کو
کبھی معاف نہیں کریں گے۔ وہ پاتال تک ہمارا پیچھا کریں گے۔ ہم کہاں جا کر
چھپیں گے۔ تم شہر والے تو ہوتے بزدل ہو۔ وہ رونے لگی۔ گورش پریشان
ہوگیا۔ بڑی مشکل سے اُسے چُپ کرا کر گھر بھیجا۔ یہ بھی ڈر تھا کہ اب اس
کے گھر کے مرد پردیس سے آچکے تھے اور اس لڑکی کے قدم نہ کے تو
ایک طوفان کھڑا ہو سکتا تھا۔
اب وہ کھیتوں اور چوبارے پر نہیں آ سکتی تھی۔ کنویں پر بھی پانی بھرنے آتی
تو ساتھ لڑکیاں ہوتیں۔ پہلے کی طرح اکیلی نہیں نکلتی تھی۔
ایک روز اس نے کسی سے خط لکھوا کر گورش کو اُسی لڑکے کے ہاتھ
بھیجا۔ لکھا تھا کہ تم کل رات تیار ہو کر آئو۔ ہم یہاں سے کہیں ور نکل جائیں
گے مگر گورش نے اس کی خواہش پر کان نہ دھرے۔ لڑکے کو بھی منع کر
دیا کہ اب تم کچھ لے کر میرے پاس مت آنا۔ سوہنی سے کہو کہ مجھے اس
طرح رقعے نہ بھیجے ورنہ اس کے باپ کی عزت خاک میں مل جائے گی۔
اس کے بعد گورش نے اپنے تبادلے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اتفاق سے
میرے والد جس ڈیلر کے پاس کام کرتے تھے اس شخص کی واقفیت ایک
ایسے آدمی سے ہوگئی جو ایک سیاسی آدمی کا قریبی تھا۔ اس کے ذریعے
گورش کا تبادلہ گائوں سے شہر ہوگیا۔
کافی دنوں بعد گورش کسی کام سے گائوں والی برانچ گیا تو سوہنی اس کو راہ
میں مل گئی۔ کہنے لگی تم تو بہت ہے وفا نکلے۔ مجھے دیکھو کہ میں نے
ایسی چال چلی کہ میری منگنی ٹوٹ گئی اور شادی نہ ہوئی۔ میرے ابّا بھائی
چاچا سب ہی واپس سعودی عرب چلے گئے ہیں۔ تم نے ایسی کیا چال چلی۔
میں نے امّاں اور چاچی کی لڑائی کروا دی کہ چاچی نے بیٹے کا رشتہ ہی نہ
ہونے دیا۔ چاچا جو سونا کما کر لایا تھا۔ وہ میں نے چُرا کر اتاں کے بکس میں
رکھ دیا۔ چاچی نے ڈھونڈا اُس کو نہ ملا تو میں نے اس کے پانچ سال کے
نواسے کے سامنے امّاں کے بکسے کا ڈھکن اُٹھا کر سونے کی ٹکیہ اس
لڑکے کو دکھائی۔ اس نے جا کر چاچی کو بتا دیا۔ وہ دوڑی آئی۔ امّاں سے کہا
کہ تیری بیٹی کو ہی دینا تھا اور تو نے پہلے ہی اُٹھا لیا۔
اتاں چلانے لگی کہ مجھ پر الزام لگاتی ہے بہتان لگا رہی ہے۔ چاچی نے جا
کر امّاں کا بکسہ اٹھا لیا اور چچا سے بولی۔ اس کا تالا توڑوہ اگر اس میں سے
سونے کی ٹکیہ نہ نکلی تو مجھ کو کلہاڑی سے کاٹ ڈالناہ سب مرد جمع
ہوگئے۔ امتاں کے بکس کا تالا ٹوٹا اور چاچی کی سنگھار ڈبی نکل آئی جس میں
پانچ تولے کی سونے کی ٹکیہ چمک رہی تھی۔ اس بات پر چاچی نے میرا
رشتہ نہ لیا۔ اتاں نے بھی کہا کہ تجھ کو ہرگز بیٹی نہ دوں گی۔ تو نے میرے
خلاف سازش کر کے خود یہ ٹکیہ میرے بکسے میں رکھی ہے اور مجھے
سب کے سامنے چور بنایا ہے۔
یہ سب میں نے تیری خاطر کیا۔ اپنی ماں کو سب کے سامنے بدنام کیا ہے۔ اب
تو مجھ سے شادی کے لئے کوئی حل نکال۔ گورش کو افسوس ہوا۔ اس نے
سوچا کہ سوہنی اپنی لگن میں سچی ہے اور وہ اس کو دھوکا دیتا رہا ہے۔ دل
میں شرمندہ تو تھا۔ اس نے چاہا کسی طرح دوبارہ گائوں تبادلہ کرا لے مگر اب
یہ نہ ہو سکتا تھا۔ سوہنی سے جلد لوٹنے کا وعدہ کر کے وہ واپس آ گیا۔
یہاں پر میرے ماں باپ نے اس کو گھیرا کہ اب دیر کس بات کی ہے؟ گائوں
سے تبادلہ بھی ہوگیا۔ تم شہر آ گئے ہو۔ شادی کی تیاری کرو۔ گورش کی ماں
نے بیٹے پر دبائو ڈالا کہ کب تک میری بہن, بیٹی کو گھر بٹھائے رکھے گی؟
تم کو اِسی ماہ شادی کرنا پڑے گی۔
گورش کی بہن کی منگنی میرے بھائی سے ہو چکی تھی۔ اس لئے اس کو مجھ
سے شادی کرتے بی بنی ورنہ میرا بھائی بھی اس کی بہن سے شادی نہ کرتا۔
اس طرح معاملہ پیچیدہ ہو جاتا۔ گورش نے سوچا کہ وہ ابھی شادی مجھ سے
کر لے کچھ عرصے بعد دُوسری شادی سوبنی سے کر لے گا۔ اس نے مجھ
سے شادی کر لی لیکن شادی کے بعد بھی اس کو سوہنی کا خیال پریشان رکھتا
تھا اور وہ بفتہ دس دن بعد اس سے ملنے گائوں چلا جاتا تھا۔ دونوں کبھی
کھیت میں اور کبھی کسی ذور جگہ ٹیلے کی اوٹ میں ملتے۔
اس بات کا علم سوہنی کی ماں کو کسی طور ہوگیا تو اس نے اپنی دیورانی سے
معافی مانگ کر صلح کرلی اور کہا کہ جو ہوا اس کو بُھلا دو اور سوبنی کو
بہو بنا لو۔ یہ بچپن سے تیرے بیٹے کی منگ ہے۔ وہ بھی اس کو چاہتا ہے اور
سوہنی سے ہی شادی کرنا چاہتا ہے۔
یہ بات سوہنی کی چاچی کو معلوم تھی کیونکہ اُس کا بیٹا ماجد ماں کے پائوں
پکڑ کر کئی بار کہہ چکا تھا۔ ماں چاچی سے صلح کر لے اور مجھے سوبنی
سے جُدا مت کر۔ کوئی اور اس کو بیاہ کر لے جائے یہ مجھے ہرگز گوارا نہ
ہوگا۔ میں اس آدمی کا قتل کر دوں گا مگر کسی اور کو اپنی منگیتر کو لے
جانے نہیں دوں گا۔
ماں تو ماں ہوتی ہے۔ چاچی مان گئی اور انہوں نے سوہنی کی شادی اس کے
منگیتر سے کرنے کی ٹھان لی۔ ماجد نے باپ کو خط لکھا کہ آجائو۔ امّاں اور
چاچی میں صلح ہوگئی ہے اور وہ میری شادی سوہنی سے کرنے پر راضی
ہیں۔ انہی دنوں جب ان کے وارث سعودی عربیہ سے آنے والے تھے گورش
سوہنی سے ملئے گائوں چلا گیا۔ دونوں کو کھیت میں باتیں کرتے ماجد نے
دیکھ لیا۔ گورش سوہنی سے مل کر برانچ میں کیشئر کے پاس آبیٹھا۔ اسی وقت
وہاں ماجد آگیاء کہا کہ مجھے تم سے کوئی بات کرنی ہے۔ ذرا دیر بعد آنا…
گورش نے کہا۔ ابھی دفتر کا ٹائم ہے۔ یہ لوگ کام کر رہے ہیں۔ کام ختم کر کے
چلے جائیں گے تو میں تم سے بات کرلوں گا۔ ویسے تم کون ہو؟ نام تو بتایا
نہیں اور مجھ سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا۔ میرا نام ماجد بے اور میں سوہنی
کا منگیتر ہوں۔ میں تھوڑی دیر بعد دوبارہ آئوں گا۔ تم جانا نہیں بلکہ میرا انتظار
کرنا۔ ٹھیک ہے۔ گورش نے کہا۔ بے فکر رہو۔ میں تم سے بات کئے بغیر شہر
نہیں جائوں گا۔
چھٹی ہوگئی۔ برانچ کے لوگ چلے گئے۔ گورش نے گن مین سے کہا۔ چچا تم
ذرا ادھر ہی رکو۔ اس مہمان کو آنے دو۔ میں اس سے بات کر کے چلا جائوں
گا تو تم برانچ کو بند کر کے تالا لگا دینا۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ گن مین یہاں
پاس ہی موجود رہے۔
ذرا دیر گزری تھی کہ ماجد آ گیا۔ اُس نے کہا۔ صبح میں نے کھیت میں تمہیں
اپنی منگیتر سے بات کرتے دیکھا ہے کیا وہ تم کو پسند کرتی ہے یا تم سے
شادی کرنا چاہتی ہے مجھے مچ بتانا تاکہ میں دھوکے میں نہ رہوں کیونکہ
میں بھی اس سے شادی کرنے جا رہا ہوں۔ ہاں وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی
ہے۔ یہ سچ ہے۔ گورش نے جواب دیا۔ اس کے بعد ماجد نے کوئی ذوسری بات
نہ کہی اور نہ سٰنی اور خاموشی سے برانچ سے چلا گیا۔ گورش سوچ میں ڈوبا
گھر آگیا۔ رات بھر اس کو یہی خیال ستاتا رہا کہ جانے اب یہ نوجوان سوبنی
کے ساتھ کس طرح پیش آئے گا۔
ہفتے بھر وہ گائوں نہ گیا لیکن اس کے ضمیر نے چین نہ لینے دیا۔ ہفتے بعد وہ
ایک دوست کے ہمراہ گائوں گیا تاکہ حالات معلوم کرے کہ سوہنی کے ساتھ کیا
ہوا ہے۔ ٤
وباں پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اس کو گن مین ملا۔ وہ اپنے بیمار بیٹے
کو لے کر شہر کے اسپتال جا رہا تھا۔ وہ موٹر سائیکل پر تھا۔ ادھر گورش اور
اُس کا دوست بھی موٹر سائیکل پر آ رہے تھے۔ اس نے ان کو رکنے کا اشارہ
کیا اور ایک سائیڈ پر اپنی سواری روک لی۔ گورش کو بلایا اور کہا کہ گزشتہ
رات سوہنی کو اس کے بھائی اور منگیتر نے مل کر مار دیا ہے۔ تم اب گائوں
کی طرف برگز مت جانا۔ ان کے گھر پر پولیس آئی ہوئی ہے اور وہ اس کے
بھائی اور ماجد کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔ سوہنی سے ماجد نے کچھ سوالات
کئے تو اس نے ان کو بتا دیا کہ وہ جس سے ملتی ہے۔ شادی بھی اُسی سے
کرے گی۔ وہ لڑکی بہت نڈر اور منہ پھٹ تھی۔ ظاہر ہے ایسی باتیں گائوں میں
مردوں کے لئے قابل برداشت نہیں ہوتیں۔ اس نے تمہارا نام لیا یا نہیں اور کیا
باتیں سوبنی اور ماجد کے درمیان ہوئیں مجھے زیادہ نہیں معلوم۔ لیکن میری
یہی تلقین ہے کہ ابھی اسی وقت اپنی موٹر سائیکل کا رخ موژ لو اور واپس
چلے جائو کہ جلتی آگ میں پائوں رکھنا عقل مندی نہیں ہے۔
یہ سن کر گورش کے بوش اُڑ گئے وہ وہاں سے بی واپس مڑ آیا۔ اس کے بعد
دوبارہ سوہنی کے گائوں کا رخ نہیں کیا۔ صد شکر کہ کافی عرصہ بعد جیل
سے رہا ہونے کے بعد بھی ماجد یا سوبنی کے رشتے داروں نے گورش کا
پیچھا نہیں کیا۔ برادری نے بھی اس سانحے کی وجہ سوہنی اور ماجد کے مابین
زبانی کلامی جھگڑے کو قرار دیا۔ یہ گورش کی خوش قسمتی تھی کہ گائوں
والوں کو اس بات کا علم نہ ہو سکا کہ سوہنی اور گورش کی ملاقاتیں چوبارے
پر ہوتی تھیں۔ صرف مجھے میرے شوبر نے یہ باتیں سچ سچ بتا کر اپنا دل
ہلکا کیا تھا۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open