انسانوں کے جنگل میں پارٹ ١

ایک روز اپنی بہن کے گھر ڈیفنس سے گلشن اقبال اپنے گھر لوٹ رہی تھی۔
گلی میں ایک نو دس برس کے بچّے کو دیکھا۔ وہ قطار اندر قطار بنے بنگلوں
کو بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ کبھی اس کی نظر ایک بنگلے سے ذوسرے
کے گیٹ تک جاتی: کبھی أُوپر منہ کر کے بالائی منزل کی خوش نما کھڑکیوں
کو حسرت بھری نگاہوں سے تکنے لگتا۔ یہ علاقہ مین روڈ سے قریب پڑتا تھا۔
اس لڑے کو یوں حسرت سے شاندار اور خُوبصورت گھروں کو تکتے پاکر
میں ٹھٹھک گئی۔ اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی جیسے جلتی ہوئی انی کسی
نے میری روح میں اُتار دی تھی۔ یہ معصوم چہرہ کیا تھا۔ ظلم کا ایک درد بھر ا
افسانہ تھا۔ ستم کی منہ بولتی تصویر تھی۔ گرد آلود میلے چہرے پر اُس کی
آنکھوں سے بہہ بہہ کر خشک ہو جانے والے آنسوئوں نے رُخساروں پر گہری
لکیریں کھینچ دی تھیں۔ نازک سے ہونٹ خشکی سے پھٹے ہوئے؛ جیسے
صحرا میں بھٹکتے مسافر کو عرصے سے پانی نہ ملا ہو۔
اف میرے خداء یہ انسانوں سے بھرا ہوا شہر جس کو آدمیوں کا جنگل کہا جاتا
ہے یہاں کوئی بھی ایسا شخص؛ اس معصوم بچّے کو نہیں ملا جو ایک گلاس
پانی دے کر اُس کی پیاس بجھا دیتا۔ کیا اس کا کوئی وارث نہیں؟
یہ بچہ کون ہے؟ کہاں سے چلا ہے؟ اور کدھر کو جا رہا ہے؟ میرے ذبن میں
سوالات کلبلانے لگے اور میں یہ بُھول گئی کہ مجھے اپنے راستے جانا ہے۔
اُس نے نیلے رنگ کی ہاف آستین شرث اور جینز کی بوسیدہ سی پتلون پہن
رکھی تھی۔ پشت کی طرف سے کپڑوں پر ریت اور متی لگی ہوئی تھی جس
سے اندازہ بوتا تھا کہ یہ بچہ کسی ریت کے ڈھیر پر لیٹا ربا تھا۔ ناامیدی کے
زبر سے اُس کی آنکھیں پیلی پڑ چکی تھیں۔ ان میں حسرت کے سوا کچھ نہ
تھا۔
یہ صبح آٹھ بجے کا وقت تھا۔ ہر بنگلے کو تکتے پا کر پہلا تاثر یہی ملا شاید
کئی وقتوں کا بھوکا ہے مگر بند ذر کھٹکھٹانے یا بیل بجانے کی اس میں جرأت
نہیں ہے۔ میں نے سو کا نوٹ نکالا اور اس کے قریب چلی گئی۔ لیکن اس نے
نہ تو اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور نہ سوال کیا۔
تو کیا یہ لڑکا بھکاری نہیں ہے؟ کیا یہ کسی کا کھویا ہوا بچہ ہے اور یہاں اپنا
گھر تلاش کر رہا ہے۔ لیکن ایسا کیونکر ہو سکتا ہے۔ کوئی بنگلہ اس کا گھر
نہیں ہو سکتا۔ اس کا حُلیہ: لباس اور چہرہ سبھی سے عیاں تھا کہ یہ لڑکا یا تو
کسی غریب آبادی کا ہے یا کسی نچلے متوسط گھرانے کا لخت جگر ہو سکتا
ہے لیکن کسی امیر گھرانے کا ہرگز نہیں تھا۔ تو پھر یہ ان بنگلوں کو متلاشی
نگاہوں سے کیوں تک ربا تھا۔ ۱
میں نے دو قدم آگے بڑھ کر سو کا نوٹ اس کی جانب بڑھا دیا۔ مگر وہ ایک
قدم میری طرف نہیں آیا اور نہ نوٹ کی طرف ہاتھ بڑ ھایا۔ یااللہ کیا یہ کم عقل
ہے یا گونگا؟ کچھ مانگتا بھی نہیں اور نہ نوٹ پکڑتا ہے۔
بیٹے تم کون ہو … یہاں کیا ڈھونڈ رہے ہو… اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بتائو
مجھے بیٹے… تمہارے ماں باپ کون ہیں؟ کوئی نہیں۔ اس نے مری ہوئی آواز
اپنے سوکھے حلق سے نکالی۔
گھر کہاں ہے تمہارا۔ کوئی گھر نہیں ہے۔ تو پھر کہاں رہتے ہو؟ کہیں نہیں۔
عجیب بات ہےە یہ کیسا بچہ ہے؛ کسی سوال کا جواب دینے پر آمادہ ہی نہیں
ہے۔ کیا بھوک لگی ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
میرے ساتھ چلو گے؟ میرے گھر … میرے پاس رہو گے؟ اس نے کوئی جواب
نہ دیا۔ میں نے دوبارہ یہی جملے ذُبرائے۔ وہ خاموش رہا۔ جیسے اُس کو جینے
کی آرزو ہی نہ تھی۔ دیکھو؛ بچّے اگر تم مجھے کچھ نہ بتائو گے تو میں
تمہاری مدد نہیں کر سکوں گی۔ وہ پتھر کے بت کی مانند خاموش رہا۔ میں نے
بھی ہمت نہ باری سوچا کہ یہ فاتر العقل نہیں ہے اور نہ اتنا کم سن ہے کہ اپنے
ماں باپ اور گھر کے بارے جانتا نہ ہو۔
گداگر بچوں کی طرح بھیک بھی نہیں مانگ رہا ہے۔ تبھی ذبن میں یہ خیال
بجلی کے کوندے کی طرح لپکا کہ کچھ عرصہ قبل اخبار میں ایک خبر شائع
ہوئی تھی کہ کراچی میں کئی ایسے گروہ سرگرم ہیں جو بچّے اغوا کر کے ان
سے بھیک منگواتے ہیں اور دیگر انسانیت سوز کاموں کے لئے ان کو استعمال
بھی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کچھ ڈوری پر کوئی اس کی بھی نگرانی کر رہا ہو۔
اسی وجہ سے یہ کسی سوال کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ مایوس ہو کر آگے کو
چل دی تو اس نے اپنی پوری قوت جمع کر کے مدھم سی آواز میں پکارا۔
امّاں.. میں نے مڑ کر دیکھا۔ کیا بات ہے؟ وہ اپنا ہاتھ منہ کی طرف لے گیا۔
گویا کہتا بو کھانا بے امّاں؟
کھانا تو میرے پاس نہیں ہے۔ یہ لے لو اور سامنے ہوٹل سے کھانا لے کر کھا
لو۔ میں نے نوٹ اس کی طرف بڑھا دیا اس نے نوٹ لے لیا۔
سو کا نوت دے کر مجھ کو قدرے تسلی ہوگئی کہ کچھ لے کر کھا لے گا۔ آگے
اس کا رازق اللہ ہے۔ جو سب کا رازق ہے۔ شہر میں روزانہ سینکڑوں بچّے
سڑکوں اور پُر رونق بازاروں میں بھیک کے لئے التجا کرتے ہاتھ پھیلائے
گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے پیچھے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ کوئی چند
ٹکے ان کی ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے؛ کوئی ان کو ذھتکار دیتا ہے۔
یہ پیشہ ور گداگروں کے بچّے صاف پہچانے جاتے ہیں۔ میں نے دِل کو تسلی
دی کس کس کا غم کرے کوئی۔ اس طرح اپنی خودی سے ناآشنا اپنی عزتِ
نفس سے بے خبرہ میلے کچیلے ننگے پائوں اُلجھے ہوئے کانٹوں جیسے بالوں
کو کھجاتے باعزت زندگی کے شعور سے ناآشناء فت پاتھ پر بیٹھ کر شاپر کے
اوپر لوگوں کا بچا کھچا کھانے والے۔
میرا دِل یہ سوچ کر بوجھل ہوگیا کہ یہ بچّے بھی اتنے نراس دکھائی نہیں
دیتے؛ جس قدر اُمید میں نے آج اس لڑکے کو دیکھا تھا تب ہی تو اس کا
افسردہ چہرہ میرے ذبن سے کسی زہریلی بھڑ کی طرح چپک کر رہ گیا تھا۔
اس کے لڑکھڑا کر چلنے کا وہ انداز۔ آف… لگتا تھا کسی سقاک وحشی نے
رات بھر اُس کو تکلیف میں رکھا تھا۔
گھر آکر مجھے پل بھر کو سکون نہ ملا۔ جی بہلانے کو ٹی وی آن کر لیا۔
جانے کون سا پروگرام چل رہا تھاء اچانک تصویر کے نیچے چلتی پٹی پر
لکھی عبارت پر نگاہیں دوڑنے لگیں۔ لکھا تھا۔ تین روز قبل ایک بارہ سال کا
لڑکا محمود آباد سے گم ہوگیا ہے جس کسی کو اس کے بارے علم ہو درج ذیل
پتے اور نمبر پر اطلاع دے۔
میں نے نمبر ڈائل کیا لیکن جواب نہ ملا۔ اگلے روز پھر اُس نمبر پر فون کیا
جواب ملا فی الحال اس نمبر پر رابطہ ممکن نہیں ہے۔ سوچا شاید جن کا بچہ
کھویا تھاء انہیں مل گیا ہوگا۔ ضروری تو نہیں جو لڑکا میں نے دیکھا تھا وہ ان
کا ہی ہو۔
بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتیں کافی دنوں تک ذہنی تکلیف میں مبتلا رکھتی
ہیں۔ لیکن شاید وہ باتیں چھوٹی نہیں ہوتیں۔ بار بار خیال آتاء کاش! کچھ دیر اور
رُک کر اس سے اصرار کرتی۔ شاید اپنے بارے کچھ بتا دیتا۔ شاید میں کچھ اس
کی مدد کر سکتی۔ یقینً وہ کسی استبدادی آہنی شکنجے میں سانس لینے پر
مجبور تھا۔ تبھی خوف سے اُس کی زبان گنگ تھی۔
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *