انسانوں کے جنگل میں پارٹ ۲

مجھے ترنم عزیز نامی بچی کے اغوا اور قتل کا واقعہ یاد آ گیا جو غالباً
7ء یا 1978ء میں ہوا تھا۔ ایسے واقعات پڑھ کر یقیناً ان والدین کے دلوں
میں موجود زخموں کی ٹیسیں بڑھ جاتی ہیں جن کے بچّے اغوا ہو چکے ہوتے
ہیں۔ اب رہ رہ کر مجھے اپنے مرحوم شوبر یاد آنے لگے جو ایک وکیل تھے
اور ایسے معاملات میں پوری طرح سرگرم ہو جایا کرتے تھے۔ اغوا شدہ
بچوں کے والدین کی پوری پوری دادرسی کرنے کی تگ و دو کرتے تھے۔
انہوں نے کوئٹہ سے ایک بچہ بازیاب کروایا تھا۔ وہ واقعہ بھی مدت بعد آج پھر
سے ذبن میں تازہ ہوگیا۔ ۱
میرے شوبر کا ایک دوست پولیس آفیسر کوئٹہ میں تعینات تھا۔ اس کی دعوت
پر وہاں گئے ہوئے تھے۔ اس روز کسی سنسان علاقے سے گزر رہے تھے کہ
انہوں نے درختوں کی اوٹ میں چند مردوں کے ساتھ ایک معصوم بچّے کو
دیکھا۔ وہ بچہ ادھر اُدھر ایسے دیکھ رہا تھا جیسے بہت خوفزدہ ہو۔ وہ کسی
سہمے ہوئے کبوتر کی مائند لگ رہا تھا۔ انہوں نے ان لوگوں کو ذوربین سے
دیکھا تھا۔
میرے شوبر نے اپنے دوست مجتبیٰ صاحب سے کہا۔ مجھے یہاں معاملہ
صحیح نہیں لگتا۔ آئو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے جیپ کو وہیں چھوڑا اور پیدل ان
لوگوں کے پاس سے ایسے گزرے جیسے وہاں موجود لوگوں کو دیکھا تک
نہیں ہے۔
اعجاز کے دوست مجتبیٰ اس وقت پولیس کی وردی میں نہیں تھے۔ وہ پشتو
بھی جانتے تھے اور وہ لوگ پشتو میں بات کر رہے تھے۔ ایک شخص نے
دوسرے سے کہا کہ تم اس بچّے کو لے جائو اور اس کی ماں کے پاس لاہور
پہنچا دینا۔ بچّے کو ہدایت کی: خاموشی سے جانا۔ راستے میں شور نہ مچانا
ورنہ یہ تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچانے کی بجائے جان سے مار دے گا۔
سمجھ گئے نا تم۔ وہ بچّے سے جھوٹ بول رہے تھے۔
یہ فقرے جب مجتبیٰ صاحب نے مٰنے… کچھ آگے جا کر وائرلیس پر اپنے
ڈرائیور سے کہا کہ جیپ کو اس جگہ جلد لے کر آجائو۔ جیپ میں دو گن مین
بھی موجود تھے۔ چشم زدن میں پولیس جیپ اس درخت کے سامنے آکر رزک
گئی جہاں یہ لوگ بچّے سمیت موجود تھے۔ جیپ دیکھ کر یہ سرپٹ بھاگ
نکلے لیکن بچّے کو وہاں ہی چھوڑ دیا۔ مجتبی نے بچّے کو جیپ میں بٹھا دیا۔
بعد میں بچّے نے بتایا کہ یہ لوگ اسے اس آدمی کو فروخت کر رہے تھے۔ یہ
بات وہ سمجھ چکا تھا اسی لئے خوفزدہ تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ اس نے
یہ بھی بتایا کہ اس کو لاہور سے اغوا کیا گیا تھا۔
اعجاز لاہور آ رہے تھے لہٰذا مجتبیٰ صاحب نے بچّے کو ان کے حوالے کیا
اور انہوں نے اس کو اس کے والدین تک پہنچا دیا۔ یہ بچہ سات سال کا تھا اور
کہتا تھا کہ میرا گھر بڈھا دریا کے پاس ہے۔ یہ ””اولڈ ریور“’ لاہور میں تھا اور
بچہ پنجگور سے بازیاب ہوا تھا۔
لاہور میں دریائے راوی کے پاس جب ہم اس کو لے کر گئے تو ایک جگہ
مسجد کے قریب اس نے کہا۔ روکو؛ گاڑی روکو۔ وہ سامنے میرا گھر ہے۔ وہ
دوڑتا ہوا ایک چھوٹے سے گھر میں جاگھسا۔ پکارنے لگا۔ امّاں… امّاں۔ ایک
عورت نکل کر آئی اور بچّے کو دیکھ کر اس سے لپٹ گئی۔ وہ منظر دیدنی
تھا۔ ہماری آنکھیں بھی اشک بار ہوگئی تھیں۔
یہ غریب لوگ تھے۔ انہوں نے ہماری بہت آئو بھگت کی تھی۔ یہ جمعے کا دن
تھا۔ اُسی دم نماز کا وقت ہوگیا تو مسجد سے اذان کی آواز بلند ہونے لگی۔ بچّے
کا باپ سجدے میں گر گیا اور اپنے رَبّ کا شکر بجا لایا تھا کہ اس کا کھویا ہوا
اکلوتا بیٹا مل گیا تھا۔ اُس بچّے کا نام انہوں نے سلیم رکھا تھا۔
سلیم چھ بہنوں کا بھائی تھا اور گھر سے کچھ ذور شام کو سپارہ پڑھنے جایا
کرتا تھا۔ اس روز بھی وہ مدرسے سے پڑھ کر لوٹ رہا تھا کہ مغرب کے وقت
ایک سنسان گلی سے گزرتے ہوئے تین آدمی اس کے پاس آ گئے۔ اس پر ایک
بڑی سی چادر ڈال دی۔ چادر میں لپیٹ کر کندھے پر ڈالا اور پھر قریب کھڑی
ویگن میں ڈال کر فرار ہوگئے۔ یہ لوگ اس کو پنجگور لے آئے۔ وہ روتا تو
ڈراتے دھمکاتے تھے۔
ان کے پاس اس عمر کے اور بھی بچّے تھے۔ ان بچوں کو وہ فروخت کر دیا
کرتے تھے۔ نجانے کتنے معصوم ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے اور کتنی مائوں
کے کلیجے کے ٹکڑے سفاک ہاتھوں۔ حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوگئے۔
جن کا پھر کبھی کسی کو پتا ہی نہ چلا کہ کہاں گے۔ سلیم کی قسمت اچھی تھی
کہ وہ اپنے والدین کو واپس مل گیا۔
جب یہ واقعہ اور معصوم سلیم کا والدین سے ملنا یاد آتا۔ ِل کو راحت ملتی تھی
لیکن آج اس بچّے کو جب سے دیکھا تھا دِل کا چین جاتا رہا تھا۔ سوچتی..۔
کاش ذنیا کے جس کونے میں جہاں کہیں بھی معصوم بچوں کو ظلم و جبر کا
نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں کوئی غیبی مہربان ہاتھ ان ہاتھوں کو توڑ دے جو ان
معصوموں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ کاش! ان سبھی کو بچا لینا ہمارے بس میں ہوتا
کہ جن کی معصومیت کو یہ درندے اپنے شیطانی عزائم پورے کرنے کے لئے
پامال کر ڈالتے ہیں اور پھر اپنی شناخت کے خوف سے ان کو بے دردی سے
قتل بھی کر ڈالتے ہیں۔
پہلے تو کبھی کبھار ایسے واقعات سُننے میں آتے تھے لیکن آج کل آئے دن ہی
یہ واقعات منظرعام پر آنے لگے ہیں میں تو کچرا چُننے والے معصوم بچوں
کی معصومیت اور غربت کو دیکھ کر گھنٹوں ڈسٹرب رہا کرتی تھی لیکن اس
بچّے کی آنکھوں میں تو میں نے ایسی وحشت دیکھی تھی جیسے سدھائے
ہوئے جانور کی آنکھوں ہوتی ہے۔ تو کیا انسان اور درندے میں کوئی فرق
نہیں رہا کہ بچوں اور معصوم جنگلی جانوروں میں یہ سنگدل اغوا کنندگان
کوئی تمیز نہیں کر سکتے۔ خدا ایسے لوگوں کو یا تو راہ ہدایت دے یا پھر ان
کو اپنی قدرت سے جہنم رسید کر دے جو اتنے بھیانک جرائم کا ارتکاب کر
کے بھی قانون کے شکنجے سے بچ جاتے ہیں۔
اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد میں نے ایک اخبار میں کسی بارہ سالہ بچّے
کو زیادتی کے بعد قتل کر دینے کی خبر پڑھی تو ایک بار پھر سکون لت گیا۔
جانے کیوں بار بار خیال اُسی بچّے کی طرف جانے لگا جس کو بنگلوں کی
قطاروں کے درمیان چلتے اور بند دروازوں کو حسرت سے تکتے پایا تھا۔
جس نے مجھے کسی سوال کا جواب نہ دیا تھا۔ جو بے حد وحشت زدہ اور
خوف سے بھری نم آنکھیں لئے بے بسی کی تصویر بنا لڑکھڑاتا پھر رہا تھا۔
تو کیا… کہیں یہ خبر اسی کے بارے میں تو نہیں ہے؟ کیا وہ کسی کے چنگل
سے تو نہیں نکل بھاگا تھا۔
جانے ایسے کتنے ہی سوالات دماغ میں ہلچل مچانے لگے۔ بے شک یہ صرف
خدشات ہی تھے۔ لیکن آئے روز جب بچوں کے بارے ایسی خبریں ایسے
حادثات: منظرعام پر آتے ہیں تو ہر ماں کو ایسے خدشات بے سکون کر دیتے
‎ہیں۔ ہے شک مائیں بچوں کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرنا چاہٹیں مگر وہ
غریب مزدور اور محنت کش ماں باپ کیا کریں جو اپنے کم سن بچّے اللہ کے
آسرے پر اکیلے چھوڑ کر صبح سے شام تک محنت مزدوری کو جانے پر
مجبور ہوتے ہیں۔ ان کےپیچھے یہ نادان گلیوں اور میدانوں میں آوارہ گھومتے
پھرتے ہیں اور ایسے ہی بچوں کی تلاش میں پیشہ ور بردہ فروش یا پھر سفاک
جنونی اپنی حیوانی خواہشات کی بھی چڑھانے کو تاک میں رہتے ہیں۔ خدا
جانے یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور کب ہمارے وطن میں ایسے جرائم کی بیخ
کنی ہوگی؟

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *