اک زرہ سی بات پر پارٹ ١

چھ برس کی تھی کہ والدہ نے مجھے سر ڈھانپ کر رکھنے کی تربیت دینا
شروع کردی۔ میں تو عر تین کسی سے الویح کسی کک لو اتار کر
پھینک دیتی تو پیار سے پھر اوڑھا دیتیناور نصیحت کرتیں۔ بیٹی! دیکھو اس
میں تمہارا ہی بھلا ہے۔ کھلے سر پھرنے کی عادت ہوجائے گی تو بیمار پڑ
جائو گی۔ غرض کبھی کوئی تاویل تو کبھی کوئی… ان کی ان باتوں سے میرا
دماغ گھومتا رہتا لیکن شکایت کس سے کرتی۔ پیار تو سب کرتے تھے لیکن
میری الجھن کو کوئی نہ سمجھتا تھا۔ والد سے بھی بس یہی سننے کو ملتا۔
بیٹی! تم کو گھر سے باہر نہیں جھانکنا اور نہ کھلے سر پھرنا ہے اسی میں
ہماری خوشی ہے۔ بھائی بھی کچھ کم نہ تھا۔ اگر کھڑکی بھی کھلی دیکھتا تو
آکر خود بند کردیتا۔ لگتا تھا میرے گھر والے مجھے پرندوں کے سائے تک
سے بچا کر رکھنا چاہتے تھے۔ کبھی جو پژوس میں جانے کا کہتی تو ماں
سمجھاتیں۔ بیٹی! کسی کے گھر بلاوجہ نہ جانا چاہئے۔ بیٹیاں اپنے گھر میں
اچھی لگتی ہیں۔ غرض بچپن ہم جولیوں کے ساتھ کھیلئے؛ اوڑھنی سنبھالنے
اور ماں کی نصیحتیں پلے باندھتے گزر گیا۔ سات سال کی عمر میں اسکول
بھیجا۔ پہلی جماعت کا قاعدہ انہوں نے گھر پر پڑھا دیا۔ مطلب یہ تھا کہ میں
کچھ سمجھدار ہوجائوں تاکہ ٹیچر کی ڈانٹ ڈپٹ سہوں اور نہ لڑکیاں مجھ کو
تنگ کریں۔ دراصل وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ کسی انمول شے کی
طرح ہر کسی کی نظر سے بچا کر رکھنا چاہتی تھیں۔ میں ان کی نظر میں ایک
گڑیا تھی۔ اسکول بھی خود چھوڑنے جاتیں۔ اتنی احتیاط قدرت کو پسند نہ
آئی۔انہوننے مجھے سہیلی کی سنگت سے بھی محروم رکھا تھا۔ کسی کے وہم
و گمان میں بھی نہ تھا کہ اچھی بھلیء صحت مند اور توانا خاتون ایک دن
اچانک اس جہان سے رخصت ہوجائے گی۔ان کے اس دنیا سے چلے جانے
کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ماںء بچونکےلئے کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔
میں تو ان کے بنا سوتی نہ تھی۔ انہی کو دیکھا اور ان سے ہی سنگت تھی۔ دل
اور گھر دونوں خالی خالی ہوگئے۔ کبھی ایک پل کو وہ مجھ سے جدا نہ ہوئی
تھیں۔
والد میری خاطر نوکری نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ چند دن پھپھوء کچھ والدا کی
رشتے دار ورگ عورائ تلق قارف مار ےساھ ران لزاق کینتکنیے ا
مسئلے کا کوئی مستقل حل تو نکالنا تھا۔ بہت سوچ سمجھ کر پھپھو نے میرے
والد کی دوسری شادی کرا دی کہ میری بچی گھر میں تنہا کیونکر رہے گی۔
بھائی لڑکا تھاء میٹرک پاس کرچکا تھاء اب کالج جاتا تھا پھر شام کو ٹیوشن
پڑھتا تھا۔
سوتیلی ماں آگئی۔ شروع دنوں میں حسن سلوک سے پیش آئی لیکن میرے دل
نے ماں کی جگہ اس عورت کو قبول نہ کیا۔ اس نے بھی بات سمجھ لی۔ مجھے
کہا کہ تم مجھ کو خالہ کہہ سکتی ہو۔ خالہ بھی ماں ایسی ہوتی ہے۔ اس خاتون
کی نگرانی میں میں نے میٹرک کرلیا۔ رفتہ رفتہ ان کو قبول بھی کرنے لگی
تھی کہ میری زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آگئی۔
بس 2 سے ا کے اد رھ والد کی ہدایت پر
عمل کرتی تھی۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ خیال ذہن سے نکال دوء ایسا
ناممکن ہے۔ تمہارے والد نہیں مانیں گے۔میں نے بڑی منتیں کیں بے سود
رہیں اور کالج جانے کی خواہش ایک حسرت بن گئی۔ مجھ کو ہر وقت روتے؛
اداس اور ملول دیکھ کر نئی امی نے ابو کو سمجھایا کہ دنیا آگے جارہی ہے
اور تم پیچھے کی طرف سفر کررہے ہو۔ آج کل سب کی بیٹیاں کالج جارہی
ہیں تم بھی اریبہ کو جانے دو مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہوں نے
میرے باپ کوکہا کہ پھر ایک بات مان لو میری بیٹی بھی اب اریبہ جتنی
ہوگئی ہے۔ بھابی اس کا خیال نہیں کرتیں سارے گھر کا کام بھی میری بچی
کرتی ہے پھر بھی ممانی اس کے ساتھ احسن سلوک نہیں کرتی۔ تم اجازت دو
کہ میں اس کو لے آئوں اور اپنے ساتھ رکھ لوں؛ اس طرح گھر میں دو بچیاں
ہوں گی تو تمہاری بیٹی خوش رہے گی اور وہ گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ
بھی بٹا لے گی۔
والد نے اس بات پر غور کیا اور اس لڑکی خالدہ کو اپنے ساتھ لے آئے۔ میری
سوتیلی ماں خوش ہوگئی۔ اس کی پہلے شوہر سے بیٹی تھی اور والد کے ساتھ
نکاح ثانی کے بعد اس کی نانی نے ساتھ نہ بھیجا کیونکہ والد نہیں چاہتے کہ
کسی اور کی بیٹی ان کے گھر رہے۔
خالدہ آگئی تو اپنی ہم عمر کو گھر میں دیکھ کر میں خوش ہوگئی۔ دل بہل گیا۔
اب میں اس سے خوب باتیں کرتی؛ وہ بھی اچھی لڑکی تھی۔ میرے ساتھ گھل
مل گئی۔ ہم دونوں ایک کمرے میں سوتیں ہر وقت ساتھ رہتیں۔ اب تو میں خالدہ
کو گھر کا کام کرتے دیکھ کر خود بھی کام کرنے لگی۔ ہم دونوں مل کر ساتھ
کام کرتیں تو امی کو سکھ ملا۔ میرا بھی دھیان بٹ گیا۔ ابو بھی اس کا بیٹی
سمجھ کر خیال رکھتے کیونکہ میری ماں نہیں تھی تو اس کا باپ نہیں تھا۔
خالدہ سے ملنے کبھی کبھی اس کی ماموں زاد مسرت بھی آنے لگی۔ بیوی کے
رشتے کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے مسرت کو آنے سے نہیں روکا۔ اب
میرے پاس ایک نہیں دو سہیلیاں ہوگئیں۔ وہ جب چاہتی آجاتی لیکن مجھے اس
کے گھر جانے کی اجازت نہ تھی۔
مسرت ایک تیز لڑکی تھی۔ بہت باتونی بھی تھی۔ وہ میرے کمرے میں آجاتی
اور ہم تینوں خوب باتیں کرتے۔ اس دوران خالدہ امی کے پاس کچن میں بھی
چلی جاتی اور کھانا بنانے میں ماں کی مدد کرتی تب میں مسرت کو نہ جانے
دیتیء اپنے پاس بٹھائے رکھتی۔ میرا دل اس سے لگ گیا تھا۔ وہ ہمارے گھر
ہفتے میں ایک بار آتی تھی۔ جب آتی؛ من کرتا اس کو جانے نہ دوں۔ جلد ہی اس
کی باتوں سے مجھ کو پتا چل گیا کہ وہ اپنی پھوپی اور ان کی بیٹی خالدہ کیلئے
دل میں کینہ رکھتی ہے۔ شاید اس کی ماں کی فطرت کا اثر تھا جو اپنی نند
(امی) سے جلتی تھیں اور ماں نے بیٹی کا دل بھی ان سے برا کردیا تھا۔
مجھ کو مسرت سے دوستی پیاری تھی۔ میں اس کی باتیں دل کے کانوں سے
سنتی اور اثر بھی لیتی تھی۔ رفتہ رفتہ مجھے ان باتوں میں صداقت محسوس
پرنۓلگیو ھی افر آسی نر الف سو ےتشر 2ال تزاقوزئ سرت نزک گا
جب پھوپی ہمارے گھر آتی ہیں تو تمہاری خوب برائیاں کرتی ہیں۔
ابو کی عادت تھی کہ وہ بچپن سے مجھ پر شفقت کے ساتھ کڑی نظر بھی
رکھتے تھے اور جو بات میری انہیں غلط محسوس ہوتی؛ اس پر ٹوکتے تھے۔
ایک روز امی نے مجھ کو کچن میں کسی کام سے بلایا تو مجھے برا لگا اور
میں نے اونچے لہجے میں ان کو اپنے کمرے سے ہی جواب دیا کہ کیا بات
ہے بلاتی رہتی ہیں میں نہیں آتی۔ اپنا کمرہ صاف کررہی ہوں۔ حالانکہ میں
اس وقت بستر پر دراز تھی۔ مجھے علم نہ تھا کہ ابو گھر پر ہیں۔ والد صاحب
کو اس طرح بلند آواز سے امی کو جواب دینے پر غصہ آیا اور وہ اپنے کمرے
سے اٹھ کر میرے کمرے میں آگئے۔ میں لیٹی ہوئی رسالہ دیکھنے میں محو
تھی۔ انہوں نے آکر رسالہ میرے ہاتھ سے چھین لیا اور انگریزی رسالے کا
مطالعہ کرتے دیکھ کر ان کو اس قدر غصہ آیا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی
بار مجھے ایک تھپڑ رسید کردیا۔
میں نے والد کے تھپڑ کا بہت زیادہ اثر لے لیا۔ دن بھر روتی رہی۔ والاہ نے
پوچھاء میں نے کچھ نہ بتایا۔ البتہ خالدہ کو بتا دیا۔ اسے بہت افسوس ہوا۔ مجھے
چپ کرایا۔ اگلے روز والد دفتر چلے گئے تب مسرت آگئی۔ وہ اپنا رسالہ لینے
آئی تھی۔ میں نے بتا دیا کہ وہ ابو نے مجھ سے چھین لیا ہے بلکہ تھپڑ بھی
مارا ہے یہ دیکھو۔ اس نے بہت ہمدردی کی۔ بولی۔ ارے اس رسالے میں تو
کچھ بھی نہیں وہ رسالے تو تم نے کبھی دیکھے نہ ہوں گے جو واقعی برے
ہوتے ہیں۔ خدا جانے کیوں ایک عام سے فلمی رسالے پر انہوں نے اس طرح
مارا ہے۔ یہ تو بہت ظالم آدمی ہیں۔ اگر میرے والد ایسے ہوتے تو سچ مچ میں
گھر سے چلی جاتی۔ تمہاری ہمت ہے جو اتنی پابندیوں کے باوجود قیدیوں کی
طرح رہ رہی ہو۔ میں نے کہا۔ جی تو چاہتا ہے کہ کہیں چلی جائوں لیکن نہیں
جاسکتی۔ جائوں بھی ٹو کہاں جائوں؟ کہنے لگی تو تمہیں خبر نہیں ہے کہ ہر
شہر میں ایک دارالامان ہوتا ہے ہمارے شہر میں بھی ہے۔
ایک بار میری خالہ کی لڑکی گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی تھی۔ جب گھر
سے نکلی تو چلتے چلتے تھک گئی اور ایک پارک میں جاکر بیٹھ گئی۔ وہاں
ایک پولیس والا آیا۔ وہ کچھ دیر اس کو دیکھتا رہا۔ پھر لڑکی کے پاس آیا اور
پوچھا کہ تم یہاں اکیلی کس کے انتظار میں بیٹھی ہو؟ میں گھر چھوڑ آئی ہوں
میرے گھر والے بہت ظالم ہیں۔ ماں سوتیلی ہے ظلم کرتی ہے اور باپ ان کی
جھوٹی شکایتوں پر مارتے ہیں۔ اب میں گھر نہ جائوں گی۔ تم مجھے دارالامان
پہنچا دو۔ پولیس والا شریف آدمی تھاء اس نے نوشین کو سمجھایا۔ وہ بولی۔ تم
چلے جاو اکر مجھے تنگ کیا تو می رہل کے نیچے آکر خودکشی کرلوں۔
گی۔ تبھی پولیس والے نے اس کو کسی طور دارالامان پہنچا دیا۔ کچھ دنوں بعد
دارالامان والوں نے خالو کو فون کیا اور وہ بیٹی کو نا کن گھو کے آٹے۔
مجھے نوشین نے بتایا کہ وہ تو بڑے سکون کی جگہ تھی۔ جو لڑکیاں وہاں
رہتی ہیں ان کے بڑے مزے ہوتے ہیں۔ میں تو غصے میں تھی اور دکھ سے
کلیجہ پھٹ رہا تھاء سو میں نے کہا۔ مجھے بتائو کہ وہ جگہ کہاں ہے۔ اگر
دوبارہ ابو نے امی کی شکایت پر مجھے مارا تو میں وہاں چلی جائوں گی۔
مسرت ایک شیطانی دماغ کی لڑکی تھی۔ شاید اپنی پھپھو سے کوئی بغض
نکالنا چاہتی تھی۔ اس نے کہا۔ میری خالہ کے پاس اس جگہ کا فون نمبر ہوگا۔
ایک عورت انچارچ ہے وہ فون اٹھائے گی اور تمہاری بات سنے گی۔ لیکن
ہمارے گھر تو فون نہیں ہے۔ بولی۔ پاگل لڑکی! اپنے گھر سے کوئی لڑکی فون
نہیں کرتی کرے گی تو وہ کیوں بھلا لڑکی کو گھر سے لے جائیں گے البتہ
تم باہر سے وہاں فون کرسکتی ہو۔ کسی کال سینٹر سے فون کرلینا۔ ایک تو
تمہارے گھر کی پچھلی سڑک پر ہے۔ وہاں دکان میں چلی جاناء کہنا کہ مجھے
فون کرنا ہے۔ وہ پیسے لے کر فون کرنے دیتے ہیں۔ نمبر میں تم کو لا دوں
گی۔
ان دنوں موبائل فون عام نہیں تھے۔ میں نے مسرت سے کہا۔ اس بار آئو تو نمبر
ضرور لے آنا۔ وہ بولی۔ ہاں… ہاں۔ ضرور برے بھلے وقت میں یہ نمبر کام
آتے ہیں۔ سوتیلی مائیں ایسے ہی چھپ کر وار کرتی ہیں۔ ہماری پھوپی بھی
تمہارے ابو کے تمہارے پیچھے کان بھرتی ہیں تبھی تو انہوں نے تمہیں تھپڑ
مار دیا۔ تم اگر وہ باتیں سنو جو یہ ہمارے گھر آکر کرتی ہیں تو کانوں کو ہاتھ
لگائو گی اور اس عورت سے نفرت ہوجائے گی۔ تم نہیں جانتیں خالدہ بھی
ایسی ہی ہے۔ میرا نہ بتانا ورنہ وہ میرے ابو سے شکایت کرکے پٹوا دیں گی۔
(جار یىی بے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *