اک زرہ سی بات پر پارٹ 2

ابھی میں پانچ برس کی تھی کہ والدین نے میرا گھر سے نکلنا بند کردیا۔ وہ
مجھے کسی کے گھر جانے دیتے اور نہ گلی محلے کی لڑکیوں کے ساتھ
کھیلنے دیتے تھے۔ بے شک وہ مجھ سے بہت محبت کرتے
بھائی مجھ سے بارہ سال بڑا تھا۔ وہ بھی ساتھ نہ کھیلتا بلکہ نظر رکھتا کہیں
باہر نہ چلی جائوں۔ امی؛ ابو کی شادی ہوئی تو سال بعد میرے بھائی حماد کی
شکل میں ایک بیٹا عطا ہوا ۔والدہ بہت خوش تھیں۔ پھر دعا کرنے لگیں۔ خدا
حماد کو کوئی بھائی یا بہن دے اور وہ اکیلا نہ رہے۔ گھر میں میرے والدین
کے علاوہ کوئی اورنہ تھا جبکہ بچے بچوں سے کھیل کر خوش رہتے ہیں۔
حماد کمزور سا تھا۔ اسکول میں لڑکے اکثر مارپیٹ کردیتے اور وہ روا ہوا
گھر آجاتا۔
استاع امیدون کے سلازے ہی زگ گرآرکاًہے۔ واقام کے بھی بہت دمائیں کین
اف :حماد کا بہن یا بھاٹی دے دے۔ دعافیں کرتے بازہ سال گزر گئےکپکے:ہیں
کہ آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک۔ یہی مثال امی پر بھی صادق آئی اور
الله تعالیٰ نے ان کی مراد پوری کردی۔ میں خوشی کی نوید بن کر ماں کی گود
میں آگئی لیکن اس وقت تک حماد چھٹی جماعت پاس کرچکا تھا۔
مجھے ان دنوں تک زمائے کی ہوا نہیں لگی تھیء دنیا کا کچھ پتا ہی نہیں تھا۔
ان دنوں بہت حساس ہورہی تھی اور مسرت نے بھی سوتیلی ماں کے خلاف
باتیں کرکے دل برا کیا تھا۔ اب مجھے لگتاء واقعی یہ عورت اپنی سگی بیٹی
کی طرفداری کرتی ہے اور ابو سے میری برائیاں کرتی ہے کیونکہ اب جب
اکیلی خالدہ کام کرتی اور میں نہ کرتی تو ابو مجھے بلا کر کہتے۔یہ بچی
فلا ا ا حا ا ا ا
سیکھنا؟ مجھے لگتا کہ ماں نے ان سے شکایت کی ہے۔ وہ خالدہ کو ایک لفظ
بھی نہ کہتے بلکہ مجھ سے زیادہ اس کا خیال رکھتے۔ بیٹی… بیٹی کرکے کام
بتاتے اور مجھے اکثر ٹوک دیتے۔ایک دن میں چھت سے اپنے دھلے ہوئے
کپڑے اتارنے گئی تو ابو گھر آگئے۔ انہوں نے پوچھا۔ تم کیوں اوپر گئی تھیں؟
امی سے کہا کہ تم نے اسے چھت پر کیوں بھیجا جبکہ میں نے منع کیا ہے؛
لڑکیوں کو چھت پر اکیلے مت بھیجا کرو۔ اگر جانا ہو تو ان کے ساتھ جایا کرو۔
وہ ڈر گئیں۔ کہنے لگیں۔ میں نے اریبہ کو نہیں بھیجا تھاء یہ خود کپڑے اتارنے
والد ان دنوں جانے کیوں غصہ بہت کرنے لگے تھے۔ انہوں نے ایک بار پھر
مجھ کو تھپڑ مار دیا۔ کہا۔ میں نے منع کیا تھا کہ چھت سے گلی میں مت
جھانکنا۔ میں سامنے سے آرہا تھاء تم کو خود جھانکتے دیکھا ہے۔ وہ صحیح
کہہ رہے تھے۔ چھت پر کپڑے اتارنے گئی تو یوں ہی جھانک لیاء یہ سوچ کر
ابو تو دفتر میں ہیں۔ ایسا شاید میری عمر کی سبھی لڑکیاں کرتی ہوں گی خاص
طور پر جو تمام وقت گھر میں رہتی ہیں۔
اس لحاظ سے ابو کی بات بھی ٹھیک تھی۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں پر نظر
رکھنا چاہئے تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کریں۔ و و یو ہو عون عو
میرے ہوش اُڑ گئے۔ امی سے نفرت ہوگئی۔ انہوں نے اپنی صفائی پیش کی تھی
جس کی وجہ سے والد کو غصہ آگیا۔ مجھے ایک روز مسرت دارالامان کی
انچارج کا نمبر دے گئی تھی جو میں نے سنبھال کر رکھ لیا تھا۔
اس واقعے کے اگلے روز میں ابو کے جانے کے بعد گھر سے نکلی اور
پچھلی سڑک پر جا کر فون والی دکان ڈھونڈلی جس کے بارے میں مسرت بتا
گئی تھی۔ وہاں دکاندار کو نمبر دکھا کر کہا کہ مجھے اس نمبر پر فون کرنا
ہے۔ ایک طرف کونے میں فون رکھا تھا۔ دکاندار گاہکوں سے باتوں میں
سن ض۸ میں نے برقع اوڑھا ہوا تھا۔ اس نے اشارہ کر کے کہا۔ کرلو فون ۔
میں نے پرچے پر دیکھ کر نمبر ملایا اور آہستہ آواز میں بات کرنے لگی۔
قوی اح کی ااولل ج بھوں دا میں گے کہا کرسین گر سے زاس و
کر نکل آئی ہوں۔ آپ کے ادارے میں آنا چاہتی ہوں۔ اس نے جواب دیا۔ فلاں
جگہ پر ادارہ ہے۔ کسی رکشہ یا تانگے والے کو کہو؛ وہ پہنچا دے گا۔ میں
دکان سے باہر نکلی اور تانگے پر بیٹھ گئی اور پوچھتے پوچھتے وہاں پہنچ
گئی۔ چپراسی سے کہا کہ ابھی میری انچارج سے بات ہوئی ہے۔ وہ اندر گیا
اور جاکر اطلاع کی تو ایک عورت باہر گے ہوگی سے ولف کرٹ واقعی
آگئی ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ مجاز افسر کو اطلاع دیئے بغیر میں کسی لڑکی
کو نہیں رکھ سکتی۔
تو دے دیں اطلاع… اب میں واپس تو نہیں جاسکتی۔ سوتیلی ماں کی ستائی
ہوں واپس جانے پر مار پڑے گی۔ اس نے کہا۔ اچھا! آئو۔ وہ مجھے اندر دفتر
میں ا گت پھر انس کخبی لضبراکراقیع کیا وہ اسی وافت ویال آگی۔ یم لاگ
نیک دل سوشل آفیسر تھا۔ اس نے ایک فارم بھروایا اور کہا کہ تمہارے علاقے
کے پولیس افسر کو آگاہ کرنا ہوگا۔ پھر ضابطے کی کارروائی ہوگی۔ آفیسر نے
مجھ سے والد کا نام پتا پوچھا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے پھر ان ظالموں
کے حوالے کر دیں گے۔ وہ مجھے جان سے مار دیں گے۔ انہوں نے اس روز
بھی مجھے بہت سمجھایا تھاء اب تو وفات پاچکے ہیں۔ میں نے ان سے کہا تھا
کہ میں یہاں بھنگن کا کام کر لوں گی مگر گھر واپس نہیں جائوں گی۔ انہوں نے
انچارج سے کہا۔ اس کا خیال رکھناء کسی شریف گھر کی لگتی ہے اور ۴2
کی اونچ نیچ سے ابھی واقف نہیں ہے۔ اس نے مجھے ایک کمرے میں لے
جاکر کہا۔ یہاں رہو لیکن اب باہر جانے کی کوشش نہ کرنا۔ بہرحال ضابطے
کی کارروائی ہوئی اور مجھے انہوں نے دارالامان میں پناہ دے دی۔
افسر صاحب جہاں دیدہ آدمی تھے۔ بھانپ گئے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔
معاملہ کچھ اور ہے جو بتا نہیں رہی۔ بہرحال انچارج روز دفتر بلاکر باتیں
کرتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اصل احوال اور پتا درست بتادوں تاکہ میررے
وارٹوں سے رابطہ کریں کیونکہ میری صحت اور حالت بتا رہی تھی کہ میں
سوتیلی ماں کے ہاتھوں ستم رسیدہ نہیں ہوں۔ ہاں گال پر ابو کے تھپڑ مارنے کا
نشان ضرور موجود تھا۔
دوسرے بڑے ہال نما کمرے میں پلنگ پڑے تھے جہاں لڑکیاں اور عورتیں رہ
رہی تھیں۔ دو بنگالی لڑکیاں تھیں جنہیں نوکری کا جھانسا دے کر ایک بُردہ
فروش پاکستان لے آیا تھا۔ ان کو دیہاتوں میں بیچا اور پھر کھیتوں میں کام
کرتے کرتے بھاگ کر شہر جانے والی بس میں یہاں آگئیں۔ غرض کہ یہاں کی
اجاڑ دنیا حسرتوں بھری تھی۔ جہاں مجھ جیسی چند ہے وقوف لڑکیاں بھی پناہ
لئے تھیں۔ سبھی کے حالات برے تھے۔ کچھ اپنی غلطی کی سزا بھگت رہی
تھیں۔ ماں باپ کا گھر چھوڑ کر اور محبوب پر اعتبار کر کے پچھتا رہی تھیں۔
اس چھت تلے پناہ لینے والی کوئی بھی بدنصیب چین سے نہیں تھی۔ چند دنوں
بعد ہی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور پچھتانے لگی لیکن واپس جانے
سے خوفزدہ تھی کہ میں نے بڑا غلط قدم اٹھا لیا تھا۔ اب ابو اور بھائی کی یاد
تاتی کہ جنہوں نے مجھ سے پیار کیا ناز اٹھائے۔اب مجھے سمجھ آئی کہ
گھر کی چار دیواری کے اندر کتنا سکون اور تحفظ ملتا ہے۔ سوتیلی ماں تو
تقدیر سے آئی لیکن وہ اتنی بری نہیں تھی کہ میں اس سے بیزار ہو جاتی۔
ایک ہفْٹمین رہی؛ پھر :خدا سے اپنیاخطائون کی:معافی مانگی۔ دن بھز اپنے
دوپٹے کو سر ہ پر ایرکد ویقی سہرگے برگپتے جرسوورااتکنا سو راس قل
کو عجیب نظروں سے دیکھتی تھیں۔ رات کو نیند نہ آتیء جی گھبراتا تو کھڑکی
کی سلاخوں سے باہر دیکھتی۔ رات کی تاریکی میں درخت کی شاخیں اژدھوں
کی طرح ہنستی نظر آئیں۔ گھبرا کر آنکھیں بند کر لیتی۔ ایک دن آفیسر صاحب
دفتر انچارج کے پاس آئے تو میں وہاں چلی گئی۔
تم یہاں ٹھیک ہو۔ مجھے بتائو کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ تم آدھی رہ گئی ہو۔ کیا
کھانا نہیں کھاتی ہو؟ میں خاموش رہی۔ انچارج بولی۔آئو بیٹھو… میں کرسی
پربیٹھ گئی۔ آفیسر صاحب نے بہت شفقت سے ایک بار اور سمجھایا۔ بیٹی!
مجھے باپ کی طرح سمجھو؛ اب بھی وقت ہے گھر جانا چاہو تو جاسکتی ہو۔
کوئی بھائی ہے تو اس کا نام بتا دوہ ہم تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں کہیں
نہیں بھیجیں گے۔ بتا دیا کہ فلاں محلے کی رہنے والی ہوں۔انہوں نے والد
صاحب کو ڈھونڈ لیا اور انہیں بتا دیا کہ میں دارالامان میں ہوں۔ آفیسر صاحب
نے ان کو سمجھایا کہ اگر آپ اس سے ملاقات چاہتے ہیں تو میں ملاقات کے
لئے اس کو راضی کرتا ہوں۔ وہ اور حماد آفیسر کے ساتھ آگئے۔
انچارج نے بتایا کہ تمہارا بھائی آیاہے۔ کیا اسے دیکھو گی؟ ہاں! دیکھوں گی۔
میں دفتر میں بلالور ن8 کیا ملق گی؟ سح عثرأت پر پر قابو نہ رکھ اور سوچ لیا کہ
چاہے ابو مار دیںء اب یہاں نہ رہوں گی۔وہ مجھے اپنے دفتر لے آئی۔ حماد کے
ساٹھاآہی بھی کھس۔ اقوں تۓ پیا سے بات کی اور کہا۔ بیٹی! ناراض ہو گئی
ق۔ ایس ے تازاس تو کز گھز سے تو لات ب گھر چلو ۔ آپ ماریں گے تو
تین تری اہن گے جالائک, شتاوی ای ہے لی سے سارئ جرت بھی
ہوئی ہے۔ انچارج بولی۔ اس کو مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینا ہو گا کہ اپنی
رضا سے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ اگلے دن پھر ضابطے کی کارروائی
ہوئی اور ابو مجھے لے کر گھر آئے۔ شف رشکہین کے امت کی گنک
رہی۔ ان کو بتا دیا تھا کہ آپ نے مجھے مارا تھاء اس لئے دکھی ہو کر نکلی
کی
بات بھی یہی تھی؛ پھر بھی انہوں نے گھر پہنچ کر مجھے چند تھپڑ لگائے اور
کہا۔ دیکھ لیا گھر چھوڑنے کا انجام… اب میں لوگوں کو کیا جواب دوں؟
بہرحال اس کے فوراً بعد ابو نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کر دی۔ہمارے
تایا لاہور میں رہتے تھے۔ ان لوگوں کو کسی بات کا علم نہ تھا۔ الله نے مجھ پر
ترس کھایا۔ مجھ سے زیادہ میرے ابو پر جو نہایت شریف آدمی تھے اور محلے
میں ان کی عزت تھی۔
سچ ہے بے وقوف لڑکیاں کبھی کبھی جذبات میں آکر بہت غلط قدم اٹھا لیتی
ہیں۔ مینخوش قسمت تھی جو بچ گئی۔ اب تو والدین وفات پاچکے ہیں اور میں
بھی عمر رسیدہ ہوں لیکن اب بھی سوچتی ہوں کہ آگر اللہ اس غلطی پر مجھ پر
مہربان نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔
(الف… ڈیرہ غازی خان)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *