اگر تاخیر ہوجاتی پارٹ١

کچھ عرصہ سے شہریار نے یہ عادت بنا لی تھی کہ وہ آدھی رات سے پہلے
گھر نہیں آتے تھے۔ میں پوچھتی کہاں تھے؟ اتنی دیر سے کیوں گھر آتے ہو
تمہارے انتظار میں جاگتی رہتی ہوں۔ کہتے آفس میں بیٹھا تھا۔ کیس تیار کررہا
تھا۔ اگر کیس کی تیاری نہ کروں گا تو تم آرام دہ زندگی کیسے بسر کر سکو
گی۔ سو جایا کرو۔ کیوں میرے انتظار میں جاگتی رہتی ہو۔
شہریار وکیل تھے۔ پہلے گھر پر ایک کمرے میں آفس بنایا ہوا تھا لیکن جب
وکالت چل نکلی تو عدالت سے کچھ فاصلے پر ایک اچھی سی عمارت میں
آفس بنا لیا۔ وہاں موکلوں کو آنے میں آسانی ہوتی تھی لیکن مجھے تکلیف رہنے
لگی کہ گھر سے دیر تک دُور رہنے کی وجہ سے وہ ہم کو نظرانداز کرنے
لئے تھے
پہلے والا گھر پُررونق علاقے میں تھا اور شہر میں ایسی جگہ تھا جہاں
پڑوسی قریب تھے۔ مسئلہ یہ بھی تھا کہ پہلے میری ساس حیات تھیں۔ مجھے
اکیلے پن کا احساس نہ ہوتا تھا۔ ان کی وفات کے بعد میں سچ مچ اکیلے پن کا
شکار ہوگئی۔ شہریار صبح تیار ہوکر آٹھ بجے گھر سے چلے جاتے۔ عدالت کا
وقت ختم ہونے کے بعد آفس جا بیٹھتے۔
کلائنٹس سے ان کے کیسوں کے بارے گفت و شنید جاری رہتی۔ نیا کیس تیا
کرنا پڑ جاتا یا کسی مقدمے کی اگلے دن پیشی ہوئی تو تیاری کرنی پڑتی۔ تب
وہ گھر نہ آ پاتے۔
میں نے رات کے کھانے پر ان کا انتظار کزنا ہی چھوڑ ذیا ٹھا۔ جب دس بج
تے کھانا کھا لیتی۔ میرا دو سال کا بیٹا بھی باپ کا انتظار کرتے کرتے سو
جازال سے رھ را ا ری سارے دن کی تنہائی اس وقت
جیسے مجھ پر حملہ کر دیتی۔ ڈر سا لگنے لگتا۔ وہ آتے تو لڑنے جھگڑنے
لگتی۔ سمجھاتے کہ ایک اچھا وکیل ہونے کے ناتے محنت کرنا پڑتی ہے۔ صبح
سے دوپہر تک عدالت میں: تو شام کو دفتر میں موکلوں کے ساتھ سر کھپاتا
ہوں تب چار پیسے ہاتھ آتے ہیں۔ تم میری محنت اور تھکن کا احساس نہیں
کرتیں اور جھگڑنے لگتی ہو۔
میں کیا کروں؛ میں بھی تو انسان ہوں میکہ دُور ہے۔ گھر سے کہیں جا نہیں
سکتی۔ یہ بھی چھوڑیئے ہمارا گھر پُررونق علاقے میں نہیں ہے۔ رات کو
مجھے تر لگتا ہے۔ اسی وجہ سے جب تک آپ آ نہیں جاتے نیند نہیں آتی۔ صبح
پ کی تیاری کے لئے سویرے اُٹھنا پڑتا ہے۔ دن کو مٹھو سونے نہیں دیتا۔
سارا دن طبیعت بوجھل رہتی ہے۔
تمہارے ڈرنے کا تو ایک حل ہے میرے پاس کہ جنید کے ذمے لگا دوں کہ
رات کو دُکان بند کرنے کے بعد گھر جانے سے پہلے سپڑھیوں کو باہر سے
تالا لگا دیا کرے۔ چابی اُسے دے دوں گا۔ دُوسری چابی میرے پاس ہے۔ جب
آئوں گا خود بیرونی دروازے کا قفل کھول کر اُوپر آ جائوں گا۔ تمہاری نیند بھی
خراب نہیں ہوگی۔ تم بے خوف ہو کر جلد سو بھی جائو گی۔
جیسے بھی حل کریں یہ مسئلہ لیکن رات دس بجے کے بعد گھر سے باہر نہ
رہا کریں۔ میرا بس ان سے یہی ایک مطالبہ تھا۔ وعدم بھی کز لیے کھے لیکن
ہفتے میں ایک آدھ بار ہی پابندی کر پاتے تھے۔
اس روز بھی وہ وعدہ کر کے گئے تھے لیکن پھر بُھول گئے۔ رات کے دس بج
گئے اور وہ گھر نہ لوٹے تو میرا جی گھبرانے لگا۔ گھنٹے بھر سے بالکونی
میں کھڑی اُن کی راہ دیکھ رہی تھی کہ اچانک پہلو میں شدید درد اُٹھا اور میں
جہاں کھڑی تھی وہاں بیٹھ گئی۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ مٹھو بالکونی کے سامنے
بچھی کاٹ پر سو رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اف درد بڑھتا جا رہا
تھا۔ مکی سین چی (ت ا جرد پوگیاگۂ آٹو کش ہرٹے کے این گا جایا گر کین جا
سان
شہریار نے یہ پلاٹ کچھ عرصہ قبل ایک نسبتاً کم آبادی والے علاقے میں
خریدا تھا تاکہ اپنی مرضی کی عمارت بنوا سکیں۔ پلاڈٹ کمرشل ایریا میں تھا۔
لہٰذا انہوں نے نیچے تین دُکانیں بنوا دیں کہ کرایہ آتا رہے گا۔ پہلی منزل کے
کرائے دار چلے گئے۔ دُوسری منزل پر ہماری رہائش تھی۔ تین بیڈ روم کا گھر
تھا لیکن میں اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلی تھی۔ پڑوس میں بھی کوئی نہ تھا کہ
آواز دے کر بلا لیتی۔ یہاں دُکانیں رات آٹھ بجے بند ہو جاتی تھیں۔ ہماری ایک
ہہ ہییں۔ پدہنے پر اپنے کزن جنید کو دے رکھی تھی جس کے پاس
سازی سیڑھی گل تروا ے کی چابی تھی۔ وہ سیڑھی کا دروازہ آٹھ بجے
گھر جانے سے قبل باہر سے مقفل کر جاتا تھا اور شہریار تالا کھول کر گھر آ
جاتے تھے۔ اس طرح آٹھ بجے کے بعد جو چار پانچ گھنٹے مجھے تنہا
گزارنے پڑتے اس میں مجھے تحفظ کا یہ احساس رہتا کہ زینے میں تالا ہے۔
کوئی شخص اُوپر نہیں آسکتاء شہریار کے سوا۔ یہ اس لئے انہوں نے بندوبست
کیا تھا تاکہ میں بے خوف ہو کر سو سکوں۔
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open