اگر تاخیر ہوجاتی پارٹ2

ان دنوں سیل فون عام نہ تھے اور ہمارے گھر میں فون بھی نہیں لگا تھا کہ
آفس میں شہریار کوفون کر سکتی۔ سیڑھیوں پر تالا تھا۔ مدد کے لئے کسی کو
پکار بھی نہ سکتی تھی۔ درد تھا کہ بڑھتا جاتا تھا۔ ذرا سی جسم کو حرکت
دینے پر دِل ڈوبنے لگتا تھا۔ اس وقت تو یہ بھی علم نہ ہوا کہ مجھے کیا ہوا
ہے۔ میں اُٹھنے حرکت کرنے اور چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی تھی۔ آواز
نکلتی تھی اور نہ سانس لے سکتی تھی۔
اس وقت اگر مٹھو کی آنکھ کھل جاتی وہ رونے لگتا یا ام عرم سے نے
کی کوشش کرتا تو میں اس کو پکڑ بھی نہ سکتی تھی۔ مجھے لگا اگر اس وقت
مجھے فوری طور پ پن ارقاتی طزی افقاد کرمتی ى میر ا سر بجتا رقرڈی ہے ے۔ آدھ
گھنٹہ تقریباً اسی طرح گزر گیا۔ کبھی سر پٹکتی تھی کبھی ہاتھ فرش پر مارتی
تھی۔
میرے پائوں کے پاس رَسی بالکونی کی جالی سے ہندھی تھی: ہاتھ اس سے جا
لگا تو یاد آیا کہ ٹوکری بھی اِدھر ہی کس ہورگ میں روۃاسزتی ولاۓ
کی وا ین کر انکااتیا کرٹی کھی۔ سی یی لیٹی بوئی وۃ اوک وزرچس پر کو
کر اس میں ڈال دیتی اور رقم بھی۔ سبزی والا ٹوکری پکڑ کر پرچی دیکھتاء
مطلوبہ سبزی تول کر ٹوکری میں ڈالتا اور رقم اُٹھا لیتا تھا۔ میں ہی نہیں اِردگرد
کی عمارتوں میں رہائش پذیر دیگر خواتین بھی ایسا ہی کرتی تھیں۔ ان کو زینہ
اُترنا نہیں پڑتا تھا۔ میں تو یوں بھی ایک منٹ بھی مٹھو کو گھر میں اکیلا چھوڑ
کر کہیں نہ جا سکتی تھی کہ وہ پائوں پائوں چلتا تھا۔ ۱
اس وقت نس نس سے جان کھنچ رہی تھی۔ لیکن ذہن کام کررہا تھا.. .ڈوبتے کو
تنکے کا سہاراء میں نے ٹوکری کو ہاتھ مارا تو اس کا کنارا اُنگلیوں کی پکڑ
میں آ گیا۔ ہمت کی اور اس کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ ٹٹولا تو اس میں بال پین اور
پرچی پڑی ہوئی تھی۔ تمام ہمت جمع کی اور پرچی نکال کر ایک ہاتھ پر پھیلا
دی دوسرے سے اتنا ہی لکھ پائی۔
”میں سخت تکلیف میں ہوں براہ مہربانی أُوپر آکر میری مدد کریں۔“ پرچی کو
ٹوکری میں ڈالا اور ٹوکری کو سلاخوں سے نیچے لٹکانے کو آہستہ آہستہ ہاتھ
کی مدد سے اُتار دیا۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کیا ہوا کہ میرے ہاتھ اور
سر سُن ہونے لگے۔ کب بے ہوش ہوئی کچھ نہیں خبر۔ آنکھ کھلی تو اسپتال میں
کین
میں نے جانا کہ شاید میری رُوح کسی دُوسری ڈنیا سے پھر اس دنیا میں لوٹ
آئی ہے۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔ اس احساس سے خوفزدہ ہو
کر شاید میں مرچکی ہوں۔ تبھی شہریار کی آواز کانوں میں آئی…کنول…
آنکھیں کھولو۔ کیا ت ٹرھیکین ۔ شوہر کی آواز سُن کر آنکھیں کھولیں۔ ان کا
چہرہ سامنے نظر آیا۔ پیٹ پر چبھن محسوس کی… جیسے کہ تار سے چبھ
رہے ہوں۔ نحیف آواز میں پوچھا۔ شہریار میں کہاں ہوں… تم اسپتال میں ہو۔ کب
آئی تھی میں یہاں۔ دو روز پہلے۔ کون لایا تھا مجھے یہاں۔ زیادہ باتیں نہ کرو۔
بتا دوں گا۔ مٹھو کا تو بتا دو۔ وہ خیریت سے ہے اسے خالہ حمیدہ کے گھر
چو کر آنانوں تم اس کی فکز کہ کرو۔جایك کو فوت کڑوں گاوۃ لے لئے گا
اُسے۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ پندرہ دن بعد مجھے اسپتال سے چھٹی ملی۔
گھر آئی تب پتا چلا کہ..
جب میں نے ٹوکری لٹکائی اس وقت رات کے ساڑھے دس بجے تھے اور
ٹوکری سیدھی جا کر ایک شخص کے سر پر لگی تھی۔ یہ ایک پولیس مین تھا
جو ڈیوٹی کرنے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ اس نے اُوپر دیکھا… پھر ٹوکری کو
پٹ لی اس کو ایاٹریٹ اکٹ میں ہیں پڑت نظ آآگئ۔ ابی آئے لیں کو کال
کر پڑھا۔ بال پین کی سیاہی سے ٹیڑھے میڑھے لفظوں میں ڈھیلے ہاتھ سے
لکھا ہوا تھا۔ تحریر پشفکز سوے میں تی گکاتہنے۔سیجاکضی تے ڈرارگ گی
ہوگی مگر پولیس والا تھا۔ اُسے خیال گزرا ممکن ہے کہ أُوپر کوئی حبس بے
جا میں ہو اور اس کی جان کو خطرہ ہو ۔ تبھی وہ زینے کی طرف گیا لیکن
وہاں تالا لگا تھا۔ اس نے اُسی وقت قریبی تھانے فون کر دیا۔ فوراً پولیس موبائل
آگئی۔ انہوں نے تالا توڑا اور پستول تانے نپے تُلے قدموں سے اندر آئے تو
سامنے بالکونی میں؛ میں بے ہوش پڑی تھی اور میرا معصوم مٹھو کاٹ میں
سو رہا تھا۔ ان لوگوں نے اپنے آفیسر کو فون کر دیا چونکہ وہ پولیس والا اُسی
علاقے کا رہائشی تھا جہاں ہم رہتے تھے۔ اس نے قریبی اسپتال سے رابطہ کر
کے ایمبولینس منگوالی اور کسی طور مجھ کو اسپتال پہنچایا۔ میز پر شہریار
کے کارڈ پڑے تھے۔ کارڈ پر ان کے دفتر کا پتا اور فون نمبر درج تھا۔ ان کو
فون کیا اور کہا کہ آپ اسپتال پہنچ جائیے۔ وہ اسپتال آگئے۔ چند لمحے کی
تاخیر سے میری زندگی جا سکتی تھی۔ ایمرجنسی میں ہی فوری طور پر میرے
آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا۔ سرجن نے دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ میری ایک
ٹیوب پھٹ گئی ہے جسم کا خون پیٹ میں بھر گیا تھا۔ چند منٹوں میں موت واقع
ہو سکتی تھی۔ فوری طور پر بلڈ ٹیسٹ کے بعد مجھے خون لگا دیا گیا۔ آپریشن
کے مکمل ہوئے تک کئی بلڈ بیگ لگ چکے تھے۔ بے شک زئدگی اور موت
کا اختیار الله تعالیٰ کے پاس ہے لیکن آفیسر اور ڈاکٹر دونوں ہی سمجھ دار
تھے۔ انہوں نے تاخیر کا رسک نہیں لیا اور نہ شہریار کا انتظار کیا کیونکہ وہ
شہر میں دُوری پر تھے۔
اسپتال نزدیک تھاء جہاں مجھے لے جایا گیا۔ ان لوگوں نے کسی قسم کی
مہ سی ہسوسو سے و وت والے گھر
سے دو پڑوسی بلا لئے۔ ایک ستّر سالہ بزرگ تھے اور ان کے ایک بیٹے کو
مرابلے آیاکاک شپریاز کے بروقت نہ پہنچ سکنے کی صورت میں یہ لوگ
تٹوٹی تقلظویڈر نبھا سکیں اور گواہ رہیں۔ تالا بھی ان کے اصرار پر توڑا
گیا۔
زندگی باقی تھی کہ بروقت مدد مل گئی اور میں اسپتال پہنچ گئی۔ سرجن بھی
قابل اور تجربہ کار تھے جنہوں نے میرے پیٹ کو ہاتھ لگاتے ہی جان لیا کہ
مجھے کیا ہوا ہے۔ اگر وہ میرے کیس کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے تو
زی تاغز اک باظتامزرق جان جا سکتی تھی۔
شہریار ن ہے ایر دق کے بے تد کن لیک وہ آپکھی مجھ کوروں کی یٍ
کرجھوٹس گے اور راماگو کت پر گھر آ جایا کریں گے۔ انہوں نے ایسا ہی
کیا۔
نئے گھر میں فون بھی لگ گیا اور ایک بزرگ خاتون بھی ایسی مل گئیں کہ
جنہیں رہائش درکار تھی۔ ان کو اپنے گھر میں رہائش دے دی اور ایک کمرہ
ان کے حوالے کر دیا۔ دفتر کا کام وہ گھر لے آتے اور رات دس بجے کے بعد
گھر پر ہی مقدمات کی تیاری کرتے۔
اس واقعہ کو 25 سال بیت چکے ہیں اور میں اب تین بچوں کی ماں ہوں جو
بڑے ہوگئے ہیں اس کے باوجود شہریار نے اپنا عہد نہیں توڑا۔ وہ رات دس
بجے کے بعد گھر پر ہوتے ہیں۔ ان کو اُس رات ایسا سبق ملا کہ سمجھ لیا بیوی
کو کبھی گھر میں رات گئے اکیلا نہ چھوڑنا چاہئے۔ گھر بھی جو الگ تھلگ
جگہ بنا ہوا ہو اور جہاں کوئی اس کی مدد کو نہ پہنچ سکتا ہو۔ پہلے وہ ایک
لاپروا شوہر تھے مگر اب بے حد پروا کرنے والے جیون ساتھی ہیں۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *