بیچھڑنا بھی زروری تھاپارٹ١

ہمارے گھر کے ساتھ والا بنگلہ کچھ عرصے سے خالی پڑا تھا۔ اس کو کرائے
پر چڑھانے کی ذمہ داری اُس شخص پر تھی جس کو مالک مکان چابی دے ۓ گیا
تھا۔ یہ شخص ان کا پرانا ملازم ارشد خان تھا۔
امریکہ جاتے ہوئے آنکل کریم میرے والد کے پاس آئے اور تاکید کی تھی کہ
ارشد خان جس فیملی کو میرا بنگلہ کرائے پر دے آپ پا ان فبعلی مئے۔مل لیٹا۔
اگر آپ کو یہ لوگ ٹھیک لگیں تو مجھے فون کر دینا۔ میں چاہتا ہوں کہ جو
کرایے دار میرا گھر لیں وہ ٹھیک لوگ ہوں۔ والد صاحب نے ان کو اطمینان
دلایا کہ یہ ذمہ داری آپ نے مجھے سونپی ہے تو میں بہ حسن و خوبی نباہوں
گا۔
آنکل کریم کے جانے کے بعد کئی پارٹیاں آئیں۔ ارشد خان ان کو مکان دکھاتا
رہاء بالآخر ایک فیملی والد کو موزوں لگی۔ والد صاحب اس فیملی کے سربراہ
سے ملے۔ وہ شریف آدمی تھا۔ اس خاندان کے افراد مہذب اور پڑھے لکھے
تھے۔ کنبے کے سربراہ کا نام جوزف اور بیوی کا نام پروین تھا جبکہ ماریہ
اور سوزی کانوینٹ اسکول میں دسویں اور نویں کی طالبات تھیں۔ بیٹا پیٹر ایک
اچھی فرم میں معقول ملازمت پر تھا اور جوزف صاحب بینک میں جاب کرتے
تھے۔ ابو نے جوزف کی بات آنکل سے فون پر کروائی۔ تو یہ صاحب ان کے
کلاس فیلو نکلے۔ دونوں میں برسوں قبل بہت اچھے تعلقات رہے تھے۔ انہوں
نے والد سے کہا۔ جوزف میرا پرانا دوست ہے اور بہت اچھا انسان ہے۔ بددیانت
اور دھوکے باز نہیں ہے۔ میرا گھر آپ ان کو ہی کرائے پر دے دیں۔
تاٹک تنے خووووساص اقضبتکی ناکاوئن کز کی کو وا صاحب کر کیا
اعتراض ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کرایہ نامہ تیار کرایا اور مختارنامے کی رُو
سے مکان جوزف صاحب کے حوالے کیا۔ والد صاحب مطمئن ہوگئے۔ جیسی
اُمید تھی یہ پڑوسی اس سے بھی زیادہ نوبل قسم کے لوگ نکلے تھے ہم کو ان
سے کوئی شکایت نہ تھی۔
ان کے طرز عمل نے تمام اہل محلہ کو ان کا گرویدہ بنا دیا۔ محلّے میں اگر
فوری طور پر کسی کو گاڑی کی ضرورت پڑ جاتی؛ کوئی بیمار ہو جاتا اس
کو اسپتال لے جانا ہوتا وہ جوزف انکل کا تر کھٹکھٹاتے۔ وہ ڈرائیور کو کہتے
کہ تم ان کے ساتھ گاڑی لے کر چلے جائو۔ میرے والد صاحب کا طرز عمل
بھی اہل محلہ سے اسی قسم کا تھا۔ اسی سبب وہ جوزف صاحب کو پسند کرتے
تھے اور دونوں میں دوستی ہوگئی تھی۔ میرے والد اور جوزف صاحب کی
دوستی میں یہی قدر مشترک تھی کہ دونوں نیک طینت اور شریف الطبع تھے
جلد ہی میری دوستی ماریہ سے اور سوزی کی عالیہ سے ہوگئی۔ عو
گھر جاتے اور وہ ہمارے گھر آتیں۔ البتہ ان کا بھائی پیٹر ایک لئے دیئے رہنے
والا انسان تھا۔ اس کا محلے داروں سے زیادہ میل جول نہیں تھا۔
ان نٹون میرے والذ کےۓمالی حالاک یہت اچھۓ تھے۔ پھائین جان رَاْحْل ابو
کے ساتھ کاروبار میں شامل تھے اور خوب محنت کرتے تھے۔ ہم ایک مثالی:
خوشحال زندگی بسر کررہے تھے۔
بھائی جان کی ابھی تک شادی نہ ہوئی تھی۔ ان دنوں امّی شدومد سے ان کے
لئے لڑکی دیکھ رہی تھیں۔ انہی دنوں ماریہ ہمارے گھر زیادہ آنے جانے لگی
تھی۔ اس نے بیکنگ کا کورس کیا تھا۔ بہت اچھے کیک بناتی تھی۔ میں نے
فرمائش کی کہ چھٹی کے دن تم مجھے بھی ایسی چیزیں بنانا سکھایا کرو۔
اتوار کو راحیل بھائی بھی دُکان سے چھٹی کرتے۔ انہوں نے جو سانولی سی
دُبلی پتلی پُرکشش ماریہ کو دیکھا۔ امّی جان سے کہا کہ آپ میری شادی اسی
سے کر دیں۔ اتی نے دانتوں میں اُنگلی داب لی۔ کہنے لگیں۔ راحیل تمہارا دماغ
تو خراب نہیں ہے۔ ان میں اور ہم میں مذہب کا فرق ہے۔ یہ شادی نہیں ہو
سکتی۔ تم ماریہ کا خیال دِل سے نکال دو۔ بھائی جان آڑ گئے۔ بولے آپ ان
لوگوں سے بات کریں۔ اگر ماریہ ہمارا مذہب قبول کر لے آپ کو پھر تو
اعتراض نہ ہوگا۔ لیکن بیٹا کوئی اپنی رضا و مرضی سے اگر کلمہ پڑھے تب
تو اچھی بات ہے لیکن یہاں یہ معاملہ ممکن نہیں لگتا کہ جوزف صاحب کی
ساری فیملی اپنے عقائد کو عزیز رکھتی ہے۔
اچھا ٹھیک ہے امّی آپ مجھے ماریہ سے بات کرنے دیں۔ اگر وہ اپنی رضا و
مرضی سے ہمارا عقیدہ قبول کر کے مجھ سے بخوشی شادی پر رضامند ہو
جائے گی تب آپ کوئی اعتراض نہ کریں گی۔ امّی جان بھائی کی تجویز سُن کر
سر پکڑ رہ گئیں۔
جانے کب اور کیسے راحیل نے ماریہ سے بات کی اور امّی کو بتایا کہ ماریہ
راضی ہے۔ اچھا میں ماریہ سے پوچھوں گی۔ یہ بات صحیح ہے تو بھی اس
کے والد راضی نہ ہوں گے۔ آنکل جوزف کو راضی کرنا میرا اور ابو کا کام
ہے۔ آپ کا کام آنٹی پروین کو راضی کرنا ہے۔
سچ کہتے ہیں کہ اولاد کی محبت بھی ایک آزمائش ہوتی ہے۔ میرے سر پھرے
بھائی نے بھی والدین کو آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ اچھی ذہنی ہم آہنگی اور
دوستی کی وجہ سے ابو نے ایک دن انکل جوزف سے ذکر کیا کہ اگر بچچے
اپنی پسند کی شادی کرنا چاہیں تو یہ بات کیسی رہے گی۔ وہ بولے۔ بہت مناسب
ہے۔ ہمارے یہاں تو بچّے شادی کرتے ہی اپنی مرضی سے ہیں۔ لیکن بچّے
بعض اوقات کسی ایسی فیملی سے رشتہ پسند کر لیتے ہیں جو ان کے ہم مذہب
نہیں ہوتی؛ تب تو ان کی بات ماننا محال ہی ہوتا ہے۔ کہنے لگے اگر میرے
بچّے ایسا کریں گے تو بھی میں ان کی حوصلہ شکنی نہ کروں گا۔ مذہب کو
نیکی کا رستہ سمجھتا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ عقائد جو بھی ہوں بچّے نیکی کے
راستے پر چلیں۔
والد صاحب کے لئے اب بات کرنا آسان ہوگیا۔ ان کو بتایا کہ راحیل اور ماریہ
ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور وہ شادی کے خواہش مند ہیں۔ اب جوزرف
صاحب سوچ میں پڑ گئۓ کیونکہ نظریاث رکھنا الگ بات تھی لیکن اب بات ان
کے گھر میں آ پڑی تھی۔ جوزف آنکل نے ماریہ سے بات کی۔ اس نے صاف
صاف بتا دیا کہ مجھے راحیل سے ہی شادی کرنی ہے۔ میں اپنی مرضی اور
خوشی سے اس یل و 2تت
جائوں تمہاری ماں کو کون راضی کرے گا؟ میں کر لوں گی راضی… بس آپ
اپنی بات کریں۔
ان کے گھر جو بھی اس معاملے پر بحث و مباحثہ ہوا۔ کیسے ماریہ نے والدین
کو قائل کیا! نہیں معلوم لیکن اس نے قائل کر لیا کیونکہ نوجوان جب اپنی
مرضی کرنے لگیں والدین کو اکثر اولاد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں۔ جب
ماریہ نے یہ مشکل مرحلہ طے کر لیا تو میری والدہ کے لئے اس کو بہو بنانے
کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ وہ اپنے بیٹے کی ضذی طبیعت سے واقف تھیں۔
جب ماریہ نے اسلام قبول کرنے کا عندیہ دے دیا تو پھر شرافت کا یہی تقاضا
کھااگہمیر ے والدین این کو پہو بناٹے پر ازاض ٹہ گڑتے یس یسظہ طیم
ہوگیا اور ماریہ کا نکاح راحیل سے ہوگیا۔ اس کے والدین نے رُخصتی کے
لئے کچھ وقت مانگ لیا تاکہ شادی کی ضروری تیاری کر سکیں۔
ماریہ بہت اچھی لڑکی تھی۔ وہ ہم کو بھی پسند تھی۔ ہمارے دِل میں اس و
تھی اور ہم سب ذہنی طور پر اس کو بھابی کے رُوپ میں دیکھنے کو تیا
تھے۔ لیکن شاید قدرت کو کچھ اور منظور قرہ عشائی کولو الاو سے سے
کہ ماریہ کو بخار آگیا۔ اس کی ممی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ ڈاکٹر نے ماریہ
دیکوا او ں15 سے کے کر کی ھی ڈیا ھا کر سے
بہرحال جب ٹیسٹ کے بعد رپورٹ دیکھوں گا تو کوئی حتمی بات کہہ سکوں
گا۔ رپورٹس آگئیں۔ ڈاکٹر نے رپورٹیں دیکھ کر کہا کہ آپ کی بچی کا جگر
متاثر ہے اور بساوی آپ کرس د درسرسیی ہے۔ آخ گاہکاہتا بک یوکا ہے آفق
جلد از جلد بچی کو اسپتال داخل کر دیں۔ یہ ایسا مرض ہے کہ آخری اسٹیج پر
لاعلاج ہوٹا ہے۔
آنٹی پروین روتی گھر آئیں لیکن بیٹی کو کچھ نہ بتایا۔ البتہ شوہر کو بتا دیا
ڈاکٹر نے ماریہ کی رپورٹیں دیکھ کر ایسا کہا ہے۔ وہ فکرمند ہوگئے۔ سب سے
پہلے تو میرے والد کو اس بارے میں آگاہ کیا کہ یہ سنجیدہ قسم کی بیماری ہے
اور ایک سے دوسرے کو لگنے والی بھی ہے۔ آپ کا بیٹا تندرست ہے۔ میں آپ
سے دھوکا نہیں کرنا چاہتاء اس لئے آگاہ کر خقااتے۔ تارق وی کہانے
کہ اس لڑکی کی شادی نہ کی جائے کیونکہ یہ بیماری اس کے شوہر کو بھی
اسان سی
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *