بیچھڑنا بھی زروری تھاپارٹ۲

جب والد صاحب نے امّی اور راحیل کو بتایا اور رپورٹس دکھائیں تو وہ ذم
بخود رہ گئے۔ میری والدہ رونے لگیں۔ والد بھی خاموش تھے لیکن راحیل نے
کہا۔ میرا ماریہ سے نکاح ہو چکا ہے۔ میری خاطر وہ کلمہ گو ہوئی ہے اس
نے والدین کو کتنی مشکل سے راضی کیا ہے؛ اب میں اس کو کیسے چھوڑ
دوں۔ اس کی زندگی کے جتنے بھی دن باقی ہیں میں اس کے ساتھ گزاروں گا۔
یہ سُن کر امّی جان غش کھا کر گر گئیں۔ ہم سبھی متفکر تھے کہ چھوت کی
بیماری کو کیسے گھر لائیں گے۔ اللہ ہی جانے اس نے محبت کے جذبے میں
کتنی سرفروشی رکھی ہے کہ انسان چاہے بھی تو اس جذبے کو شکست نہیں
دے سکتا۔ اب ہمارے گھر میں ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی۔ گھر والے دبائو
ڈالنے لگے کہ راحیل بھائی ماریہ کو طلاق دے دیں اور وہ بہ ضد کہ یہ نہیں
ہو سکتا۔ بس میں الله کی رضا پر راضی ہوں۔ آپ رُخصتی کرالیں۔ میں ماریہ
کو لے کر آپ لوگوں سے الگ رہائش اختیار کر لوں گا۔ اب میری اس کو
ضرورت ہے اس کو اس وقت چھوڑنا خلاف انسانیت ہے۔
جب ماریہ تک یہ بات پہنچی؛ اس نے خود میر ےو سے وا سک نی
اس نے کہا کہ میں ہرگز مرض کی اس اسٹیج پر شادی نہیں کر سکتی اور نہ
رال کو آپٹی پیعاری کااکطردم کز گا چرئی وروی ایل یوک کے
اتنے سر ہوئی کہ انہوں نے بالآخر طلاق نامے پر دستخط کر دیئے۔ اس کے
بعد انہوں نے گھر تبدیل کر لیا اور جوزف صاحب اپنی فیملی کو لے کر کسی
اور جگہ شفٹ ہوگئے۔ انہوں نے جاتے وقت ہم کو نئے گھر کا پتا بھی نہ دیا۔
جو قسمت میں لکھا تھا ہوگیا۔ کافی دن راحیل بھائی اُداس رہے۔ کام پر جا
ترک کر دیا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ خود کو مجرم سمجھتے۔ ہر وقت کہتے تھے
کہ ابھی تو وہ زندہ تھی۔ علاج ہو جاتاء میں نے کیوں اس کو طلاق دی۔ سب ان
کو دلاسا دیتے کہ شاید یہی خدا کو منظور تھا۔ وہ سوچ سوچ کر بیمار پڑ گئے
اوں خوبرکی کین تھا آیا
سال گزر گیا راحیل بھائی مایوسی کی تلدل سے نہ نکلے۔ خوشیوں سے رشتہ
توڑ لیا۔ والدین کا خیال تھا وقت گزرتےۓ کے ساتھ اس غم کو بھلا نیں گے ايَسا
نہ ہو سکا اور انہوں نے اس کے بعد شادی سے گریز ہی کیا۔
چار سال بعد ایک روز ماریہ ہمارے گھر آئی۔ اس وقت راحیل بھائی اور ابو
گھر پر نہ تھے۔ وہ رونے لگی۔ امّی جان سے کہا۔ آنٹی میری قسمت خراب تھی
کہ خوشی دامن کو چھو کر گزر گئی۔ مجھ کو دو تین ماہ کا مہمان بتایا تھا
ڈاکٹروں نے… مگر دیکھئے میں اب تک زندہ ہوں اور ٹھیک ہوں۔ میرا علاج
ضرور ہواء بیماری مگر لا علاج نہ تھی۔ مجھے کالا یرقان تھا اور نہ جگر کا
کینسر۔ دراصل جس لیبارٹری میں ٹیسٹ ہوئے وہ صحیح نہ تھی۔ میری رپورٹ
کسی اور مریض سے بدل گئی تھی۔ میں آپ کے بیٹے سے سچی محبت کرتی
کی ئزین بنایکی کھتی کے خوری وج سے فان کی جائین. مو ان کے جان بچگا
چاہتی تھی۔ اس لئے ان کو طلاق دینے پر مجبور کیا کیونکہ وہ جلد رُخصتی پر
مصر تھے جبکہ ڈاکٹر نے میری زندگی کے دو یا تین ماہ باقی بتائے تھے۔
امّی بولیں۔بیٹی اب کیا ہو سکتا ہے۔ اب طلاق لے چکی ہو۔ راحیل کو پتا چلے
گا اس کو اور بھی دُکھ ہوگا۔ تمہارے والدین بھی دوبارہ نکاح پر راضی نہ ہوں
گے۔ بہتر ہے کہ جس دُکھ کو وہ بھلا چکا ہے ا سے دوبارہ اس صدمے سے
دوچار مت کرو۔ تم اُسے بھلا دو۔ ماریہ بچاری پوڈاٹنٹ ہمار عروگر عو ستین
گئی اور دوبارہ نہ آئی۔ اور نہ اس کے سس رکاش کے و مس پت
راحیل کو نہ بتایا کہ ماریہ آئی تھی۔ سوچا کہ اس طرح اس کا سکون تلپٹ ہو
جائے گا۔
پوس 5ی 7ق لاک یں کہہے ے گان لی یوق ماریر گے بت قوبل.
کسی اور لیب سے کروالیتیں یا ہم ہی ماریہ کی اس رپورٹ کو چیک کر لیتے۔
لیکن اس وقت ہر کسی کا ذہن مائوف ہو گیا تھا۔ کافی دنوں بعد ایک روز
اچانک انکل کریم امریکہ سے آ گئے۔ ابو سے وئے۔ اقروں نے کھاگوھاززور
کی شادی ہوگئی ہے اور اس کی ایک بیٹی ہے۔ جوزف نے مجھے بتایا ہے کہ
آپ لوگوں نے ماریہ کو بہو بنایا تھا لیکن ایک غلط رپورٹ کی وجہ سے سارا
کھیل خراب ہوگیا۔
ہاں کریم صاحب اور یہ سب ایسے ہوگیا جیسے بدقسمتی نے ہماری خوشیوں
کو تاک لیا تھا۔ ہم چاہتے تھے اور نہ جوزف صاحب کہ ہمارے بچوں کی
خوشیاں برباد ہوں لیکن ہم کچھ نہ کر سکے۔ حالات خود بخود خراب ہوتے
گئے۔ ہم تو بس افسوس کرتے رہ گئے۔ میری دُعا ہے کہ ماریہ جہاں رہے
خوش رہے اور خدا میرے راحیل کی تقدیر میں بھی خوشیاں لکھ دے۔
بعد میں راحیل بھائی کی شادی خالہ زاد سے ہوگئی اور انہوں نے ایک روکھی
پھیکی سی زندگی بسر کی۔ اللہ نے تین بچّے دے دیئے جن کی وجہ سے میرے
بھائی کی زندگی میں بہار آ گئی ورنہ شاید وہ عمر بھر ماریہ کے دُکھ کو نہ
بھل پاتے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *