خواب اور ساے پارٹ ۲

میں نے گھر بیچا اور زبیر صاحب کے گھر چلی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر
پرانے گھر میں رہائش پذیر رہو گی تو کوئی خوشحال گھرانہ تمہاری بیٹی کو
بیاہنے وہاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے اپنی کوٹھی کا ایک حصہ رہنے کے لئے
ہم ماں بیٹی کو پیش کر دیا۔ محلے میں یہی ظاہر کیا کہ ہم ان کے رشتے دار
اب مجھے انتظار تھا کہ کب یہ میری بیٹی کی شادی کرواتے ہیں۔ آپ سے بھی
اسی وجہ سے ملنے نہ آئی کہ اب پرانے محلے داروں سے کوئی واسطہ اور
تعلق کسی پر ظاہر نہ کرنا چاہتی تھی تاکہ ہمارے مفلسی بھرے ماضی کا کسی
کو علم نہ ہوسکے۔ حُسن میں تو میری بیٹی لاکھوں میں ایک تھی۔ بس غریبی
کا طوق آڑے آ رہا تھا اور میں اس طوق کو أُتار پھینکنا چاہتی تھی۔
نمو کی یہ بات صحیح تھی۔ واقعی سائرہ ماں سے بھی بڑھ کر حسین تھی: پھر
بھی خدا انسان کے نصیب صورت دیکھ کر نہیں لکھتا۔ لہٰذا ایسی باتیں آدمی کو
زیب نہیں دیتیں جو اس کے اختیار میں نہ ہوں۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر
چھلانگیں لگانے والے ضرور چوٹ کھاتے ہیں۔ مجھے بھی زبیر کی شکل و
صورت اور دولت نے مرعوب کر دیا۔ اُسی کو سچا غمگسار سمجھنے لگی۔
چند دن پرسکون گزرے۔ بچی کی شادی کا ذکر بھی نہ کیا کہ میری عدت کا
عرصہ تھا۔ جب یہ عرصہ ختم ہوا۔ تب ایک روز زبیر نے کہا۔ نعیمہ بی بی
جس شخص سے تمہاری لڑکی کا رشتہ ہونا ہےە فی الحال وہ یہاں آنے سے
قاصر ہے۔ نیشنلٹی کا عرصہ پورا ہونے کے بعد وطن آئے گا۔ اس لئے تمہیں
وہاں جانا ہوگا۔
کہاں جانا ہوگا؟ بیرون ملک؛ بی بی تم بے فکر رہو۔ مجھ پر اعتبار کیا ہے تو
پریشانی کی ضرورت نہیں۔ بس تیاری کرو۔ ہم آج کل میں کچھ دنوں کے لئے
بیرون ملک جائیں گے۔
میری عقل پر تو پردہ پڑگیا تھا۔ اس چاہ میں کہ بیٹی اچھی زندگی بسر کرے
گی تو میں بھی آگے عیش و آرام سے اس کے ساتھ رہ لوں گی۔ جب زبیر
مجھے اور سائرہ کو لے کر بیرون ملک جانے لگا تو ایک بیگ مجھے پکڑا
دیا۔ ایئرپورٹ پر وہ بیگ اس کے ایک دوست نے آ کر ہم سے لے لیا۔ تب
مجھے احساس ہوا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ کیا خبر اس بیگ میں کیا تھا کہ
اس نے خود ہم سے ذوری اختیار کر لی۔ کچھ دنوں بعد جب واپسی کی فلائٹ
تھی: اس نے بہانہ کیا کہ وہ شخص کسی کام سے کینیڈا چلا گیا ہے۔ چند دن
بعد دوبارہ یہاں نا ہوگا۔ ابھی واپس چلتے ہیں۔
ایک ماہ بعد دوبارہ سفر کی تیاری کروائی لیکن اس بار بمیں ایک فلائٹ سے
جانا تھا اور اس نے خود بعد کی فلائٹ سے آنا تھا۔ کہا کہ ٹکٹ اسی طرح مل
سکا ہے۔ مجبوری ہے کل میری میٹنگ ہے تم لوگ میرا بیگ لے کر چلی
جانا۔ ایئرپورٹ پر میرا دوست تمہیں ریسیو کر لے گا۔ میں اگلے دن پہنچوں گا۔
اس وقت تو میں کچھ نہ کہہ سکی۔ ایئرپورٹ پر واقعی اس کا دوست لینے آ گیا۔
اس نے سامان ہم سے لے لیا اور ہمیں ہوٹل میں ٹھہرا دیا۔ اگلے دن زبیر خود
بھی آ گیا لیکن مجھ شک ہوگیا کہ یہ کچھ غلط سامان ہمارے ذریعےبھجواتا بے
تاکہ اس کا مقصد پورا ہوتا رہے۔
میں نے کہا۔ آئندہ میں ایسا سفر نہ کروں گی۔ میری لڑکی کا رشتہ نہیں ہوتاء نہ
ہو۔ کہنے لگا ٹھیک ہے۔ تم شاید مجھے اسمگلر سمجھ رہی ہو۔ یہاں رشتہ نہیں
کرنا نہ کرو۔ ہم واپس وطن آ گئے۔ اس کا التفات میری بیٹی سے بڑھنے لگا تو
میں پریشان رہنے لگی۔ ایک دن صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اتنا بچی سے التفات
کیوں؟ جواب دیا۔ جو رشتہ بتایا تھاء اس کی عمر پینتالیس سال تھی؛ تم راضی
ہوگئیں: اس شخص کو با دیکھے ہی صرف مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے۔ تو
پھر مجھ میں کیا کمی ہے میری عمر چالیس سال ہے۔ دولت اور دنیا کی سب
آسائشیں موجود ہیں۔ مجھ سے سائرہ کی شادی کرنے پر تمہیں کیا اعتراض
ہے؟
یہ سُن کر دنگ رہ گئی۔ تو پہلے بی صحیح اپنی نیت سے آگاہ کر دیتے۔ آپ تو
اپنے شوہر سے ملوا دیتیں۔ کیا خبر تمہیں پسند کر لیتے۔ کہا کہ اب کہانیاں مت
بنائو۔ رشتہ لڑکی کا مجھ سے کر دو اور اپنا مستقبل محفوظ کر لو۔ میں نے کہا۔
میری لڑکی معصوم اور بھولی بھالی ہے اور مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تم اس
سے شادی اسی وجہ سے کررہے ہو کہ اس سے سامان اسمگل کروائو گے۔
کسی دن میری بچی دھر لی جائے گی۔
تم کو غلط فہمی ہے۔ زبیر نے کہا۔ جانے کیسی باتیں سوچتی رہتی ہو نعیمہ بی
بی۔ مجھے تو پہلی نظر میں ہی تمہاری لڑکی پسند آ گئی تھی۔ چاہتا تھا کہ تم
سے رشتے کی بات کروں مگر پھر تم نے خود بی بات کر دی تو میں نے بھی
ذہن بنا لیا کہ مناسب وقت پر بات کو واضح کر دوں گا۔ اگر میں کوئی ایسا
کاروبار کرتا بھی ہوں تو تم کو صرف میری دولت سے مطلب رکھنا چاہئے۔
سائرہ کو میں ایسی ٹریننگ دوں گا کہ یہ میرے کاروبار میں شامل ہو کر ارب
پتی ہوجائے گی۔
زبیر کی باتیں سٰن کر میں کانپ گئی۔ سائرہ تو بچی تھی۔ نت نئے کپڑے فیشن
کے سلے ہوئے ملنے لگے تو وہ بھی ماڈرن بننے کے شوق میں اس کی باتوں
میں آنے لگی۔ بولی۔ اماں پہلے خود امیر آدمی سے بیاہنے کا کہتی تھیں۔ اب
امیر آدمی مل گیا ہے تو ڈرنے لگی ہو۔ زبیر اچھے انسان ہیں؛ ان سے ڈرنے
کی ضرورت نہیں ہے۔
وہ تو ناتجربہ کار اور معصوم تھی مگر میں اب خوف سے لرزنے لگی تھی
کہ میری معصوم بچی کو ماڈرن رُوپ دے کر یہ جو کام لینا چاہتا ہےء اس کا
رستہ تبابی کی دلدل میں ہی جا گرتا ہے۔ زبیر نے گھر پر ٹیوٹر کا انتظام کر
دیا جو سائرہ کو فرفر انگریزی بولنا سکھا رہا تھا۔ اسے بیوٹی پارلر لے جانے
لگا۔ بال ماڈرن طریقہ سے کٹوا دیئے۔ مجھ سے یہ برداشت نہ ہو رہا تھا کہ یہ
دولت کے حصول کے لئے میری بچی کو قربانی کا بکرا بنائے۔ جب میں نے
بہت اُلجھنا شروع کیا تو زبیر نے چاہا کہ میری لڑکی مجھ سے باغی ہو جائے۔
وہ بھی اب کش مکش کا شکار تھی کہ کس کی مانے کس کی نہ مانے۔ کیا
فیصلہ کرے۔ دولت کی چاہ نے مجھے موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ وہ
رونے لگی تو امّی نے کہا۔ یہ معاملہ ہے نمو… شاہدہ کے ابا کو آلینے دو۔ میں
ان کو تمام صورت حال سے آگاہ کر کے پھر تمہیں کوئی مشورہ دوں گی۔ تم
کل شام کو آ جانا نمو چلی گئی۔
امّی کا وہ بےحد آدب کرتی تھی۔ اپنا ہر دُکھ سکھ ان سے کہتی تھی۔شام کو
والدہ نے ابو سے مشورہ کیا۔ وہ واثق مستری کو عرصہ سے جانتے تھے۔
نیک اور شریف آدمی تھا۔ ہمیشہ محنت سے رزق حلال کمایا تھا۔ انہوں نے کہا
نعیمہ سے کہو کہ کسی طرح لڑکی کو وہاں سے نکال کر ہمارے پاس لے آئے۔
آگے ہم انتظام کرلیں گے۔ اگلے روز وہ آئی تو اتی نے اس کو یہی بات
سمجھائی۔ اس کی ہمت بڑھی اور چار روز بعد وہ بیٹی کو لے کر آ گئی۔ والد
صاحب واثق کے گائوں جا چکے تھے جہاں ان کےرشتے دار رہتے تھے۔ ان
کے ایک چچازاد بھائی سے ابو کی واقفیت تھی۔ یہ اس کے پاس گئے اور
احوال بتایا۔ واٹق کے اس چچازاد نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ سائرہ
واثق کی بیٹی ہے تو میری بھی بیٹی ہے۔ وہ ہماری عزت ہے۔ آپ ساتھ ہو
جائیں۔ اس کی شادی میں اپنے لڑکے سے کر دوں گا۔ اگر یہ ماں بیٹی ہمارے
ساتھ گائوں میں رہنا گوارا کرلیں۔
والدہ نے نعیمہ کو بتایا کہ وہ راضی ہوگئی۔ والد ان ماں بیٹی کو لے کر گائوں
چلے گئے اور یوں سائرہ کا نکاح اس کے رشتہ کے چچا کے بیٹے اظہر سے
ہوگیا۔ماں بیٹی کو امان مل گئی۔ والد اس نیک کام کو سرانجام دے کر لوٹ آئے۔
ہم نے بھی شکر کیا کہ ایک غریب کی لڑکی اپنے عزیزوں میں عزت کے
ساتھ اپنے گھر کی ہو کر محفوظ ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔
یہ تو نعیمہ نے بعد میں بتایا کہ زبیر کی بیوی اور بچّے بھی تھے جو علیحدہ
کوٹھی میں رہتے تھے اور سائرہ کو وہ صرف اپنے غلط مقاصد کی خاطر
دوسری بیوی بنا کر اس کے ذریعے اپنے بزنس کو مزید بڑھانا اور دولت میں
اضافہ کرنا چاہتا تھا۔ جو بھی تھا لیکن نعیمہ کو وقت پر عقل آ گئی اور وہ
نامعلوم حالات کا شکار ہونے سے بچ گئی۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *