خواب اور ساے پارٹ ١

شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ چلی گئی۔ پانچ سال بعد لوٹی تو امّی
جان سے اپنی پژوسن خالہ نمو کے بارے میں بھی پوچھا۔ وہ چند دنوں پہلے
محلہ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا۔ نام تو اس کا نعیمہ تھا لیکن سبھی
نمو کہتے تھے۔ خیر والدہ نے مختصرا بتا دیا کہ ان لوگوں نے کہیں اور
رہائش اختیار کر لی ہے۔ میں نے بھی تفصیل نہ پوچھی کہ کیوں گئے؛ کب
گئے۔ سوچا کبھی پوچھ لوں گی۔
مجھے امریکہ سے آئے دو ہفتے ہوئے تھے۔ ایک روز بازار سے کچھ
خریداری کرکے لوٹی تو دیکھا ایک عورت امّی کے پاس بیٹھی ہے۔ وہ جانی
پہچانی لگی۔ اتی سے باتیں کرتے ہوئے اپنے دوپٹے کے پلّو سے آنسو
پونچھے جاتی تھی۔ ذرا قریب گئی تو پتا چلا کہ یہ تو خالہ نمو ہے۔
آہ… ظالم وقت یہ کیا کیا؟ حُسن کی پُتلی آج مٹی کا ڈھیر لگ رہی تھی۔ یہ وہ
عورت تھی جو اپنے خسن کی وجہ سے کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ آج
کس قدر اجاڑ اور بونق صورت لگ رہبی تھی۔ ۱
میں بھی وہاں پاس ہی بیٹھ گئی۔ وہ اپنے غم میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ
میری جانب توجہ نہ کی۔ اقی سے کہہ رہی تھی۔ آپا آپ ٹھیک سمجھاتی تھیں۔
میں نے ہی اپنے غلط قدم نہ روکے اور سب کچھ گنوا دیا۔ واثق کماتے تو تھے
یہ اور بات کہ ان کی آمدنی کم تھی لیکن میں قناعت سے کام لیتی تو اس آمدنی
میں بھی عزت سے گزارہ ہوسکتا تھا۔ افسوس انسان اپنی خواہشوں کے تعاقب
میں زندگی کے میسر سکون اور تحفظ کو بہت پیچھے چھوڑ کر تبابی کے غار
میں جا گرتا ہے تب عقل آتی ہے جب پلّے کچھ باقی نہیں رہتا۔
واثق کے ساتھ کتنی محفوظ تھی مگر خود کو غیرمحفوظ سمجھتی تھی۔ ہر
وقت اسی احساس میں سلگتی رہتی تھی کہ یہ راج مزدور ہیں مستری ہیں۔ اے
کاش! کوئی اور کام کیا ہوتا۔ میٹرک پاس کر کے بھی انہیں کرنے کو مزدوری
ہی ملی تھی۔وہ مستری تھے تو کیا ہوا۔ تعمیر کا کام نہ ملتا تب بھی سیمنٹ کی
بوریاں ڈھوتے۔ سارے دن کی مشقت کے بعد کمر اکڑ جاتی تھی۔ سو نہ پاتے
تھے۔ مجھ سے کہتے کہ تیل گرم کر کے میری کمر پر لگا دو۔ درد سے کروٹ
نہیں لے سکتا۔ اور میں بجائے ان سے بمدردی کرنے کے کہتی ہائے: میرا
نصیب۔ اللہ نے مجھے اتنی اچھی صورت دی مگر ہم اچھا کھانے اور پہننے کو
ترس گئے۔ کاش تم کوئی اور کام کر لیتے۔ اپنے اس گھر کو آدھا ذکان میں بدل
کر ذُکانداری ہی کرلیتے تو شاید چار پیسے زیادہ کما لیتے۔ کبھی یہ شکر نہ کیا
کہ وہ جتنی بھی مشقت کرتے ہیں ہمارے لئے کرتے ہیں۔ ہم کو تو دو وقت کی
روٹی پوری کھلاتے ہیں۔ ہم کبھی بھوکے تو نہیں سوئے تھے لیکن وائے بندے
کی ناشکری فطرت کہ ایک شے میسر آ جائے تو دوسری کے لئے تڑپنے لگتا
ہے۔ میں بھی دوسری عورتوں کے فاخرانہ لباسہ فیشن اور گاڑی بنگلے دیکھ
کر تڑپنے لگتی تھی کہ شکلیں تو مجھ سے اچھی نہیں ہیں لیکن ان کے نصیب
کتنے اچھے ہیں۔ اے کاش! میری شادی بھی واثق جیسے راج مستری کی
بجائے کسی پیسے والے سے بوئی ہوتی تو میں اور میری بیٹی بھی عیش کی
زندگی بسر کر ربے ہوتے۔
اب مجھے اپنی نہیں بلکہ ساثرہ کی فکر تھی۔ ارمان تھا کہ میری بچی کسی
امیر گھر بیابی جائے۔ کم از کم وبی عیش کی زندگی بسر کرسکے۔ میرے پلو
میں تو کم نصیبی نے دُھول مٹی ہی باندھی تھی۔ مجھے بے چینی ہو رہی تھی
کہ نمو اس فضول تمہید سے ہٹ کر اصل بات کی طرف آئے۔ آخر اس کے
ساتھ ایسا کیا ہوا ہے جو اتنی پریشان حال آئی ہے۔
امّی نے کہا۔ نمو بتائو تو سہی آخر کیا ہوا ہے؟ تم تو ایسی یہاں سے گئیں کہ
پھر ایک بار بھی ملنے نہیں آئیں۔ آپا کیا کرتی مجبور تھی۔ آپ کو ایک روز
بتایا تھا کہ ایک امیر آدمی نے مجھے گاڑی میں لفٹ دی تھی۔ آپ نے منع بھی
کیا تھا کہ ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔ آئندہ کسی سے لفت مت لینا لیکن میں نے آپ
کی بات پر تب کان نہ دھرے تھے۔ مجھے یاد نہیں ہے۔ جب سے شوگر کا
مرض لگا ہے یادداشت روز بہ روز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ امّی نے جواب
دیا۔ وہ کہنے لگی ایک صبح گھر کے لئے کچھ ضروری سامان لینے نکلی
تھی۔ خریداری میں خیال نہ رہا کہ کچھ رقم کرائے کے لئے بچا لوں۔ جب
خریداری کرکے ذکان سے باہر آئی تو پرس خالی ہوچکا تھا۔ سوچنے لگی اب
گھر کیسے جائوں گی۔ سڑک کے کنارے کھڑی کبھی ادھر کبھی ادھر دیکھتی
اس فکر میں تھی کہ رکشہ روکوں اور گھر تک پہنچوں۔ کرایہ آپ سے لے کر
دے دوں گی۔ تبھی ایک گاڑی میرے پاس آ کر رُکی اور ایک وجیہ شخص نے
کھڑکی سے سر نکال کر پوچھا۔ کیا آپ کو سواری نہیں مل رہی؟ تیز دُھوپ
میں دیر سے آپ کو کھڑے دیکھ رہا ہوں۔ میں بچکچائی تو بولا۔ اتنامت
سوچئے میں ایک شریف آدمی ہوں۔ ڈھوپ میں اور کچھ دیر کھڑی رہیں تو یہ
گورا رنگ جل جائے گا۔ میں نے ہمت کر کے کہہ دیا۔ دراصل سواری نہیں مل
ربی تبھی کھڑی ہوں۔ وہ گاڑی سے اُترا اور اگلی نشست کا دروازہ کھول دیا۔
بیٹھ جایئے اور ادھر لایئے یہ سامان۔ اس نے شاپر میرے باتھ سے لے کر
پچھلی نشست پر رکھ دیئے۔ میں اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ کار کا اے سی أن
تھا۔ میرے گال جو دُھوپ کی حدت سے تمتما گئے تھے ٹھنڈک کا احساس ان
کے لئے سامان راحت بن گیا۔ سفر میں مزہ آنے لگا۔ تب سوچا زندگی تو یہ
ہے۔ ہماری بھی کیا زندگی ہے۔ پیدل ڈھوپ میں چلنا اور جلنا۔ اس وقت بھی یہ
خیال نہ آیا کہ میرا شوبر بچارا ہماری خاطر اسی تپتی ُھوپ میں ریت اور
بجری سے گھروں کی تعمیر کرتا ہے۔
جب میں گھر کے دروازے پر اُتری تو اخلاقاً اس کو کہا۔ اندر آ کر کچھ ٹھنڈا
پانی ہی پی لیں۔ میں نے اخلاقاً کہا تھا لیکن وہ واقعی گاڑی بند کرکے أتر آیا
اور میرے ساتھ گھر میں داخل ہوگیا۔
واثق کام پر گئے ہوئے تھے۔ گھر پر سائرہ بی تھی۔ میں نے اُس سے کہا کہ
مہمان کے لئے ٹھنڈا پانی لائو۔ وہ بولی اماں پانی تو گھڑے کا ہے۔ مہمان نے
سائرہ سے کہا۔ بے بی کوئی بات نہیں گھڑے کا پانی لے آئو۔ مجھے گھڑے کا
پانی بہت پسند ہے۔ اس نے تو شاید ہماری غربت کی لاج رکھنے کو ایسا کہا
تھا۔ سائرہ جگ بھر کر لے آئی۔ اس نے ایک گلاس پانی پیا اور پھر چلنے کو
ہوا۔چلتے وقت اُس نے جیب سے کارڈ نکال کر دیا اور کہنے لگا۔ اس پر نام پتا
لکھا ہے۔ اگر کبھی کوئی کام پڑ جائے تو فون کر لینا۔ وہ یہ کہہ کر چلا گیا۔ آپا
وہ مجھے بہت مہذب اور بااخلاق انسان لگا۔ آپ سے بھی ذکر کیا تھا تو آپ نے
کہا تھا کہ نمو تو نے ایک انجان آدمی کو گھر کے اندر بلا کر غلطی کی ہے۔
امیر آدمی تھا تو کیا ہوا۔ جوان بیٹی کے ہوتے جب شوہر بھی موجود نہ ہو
ایک اجنبی کو گھر بلانا اچھی بات نہیں ہے لیکن مجھے تو کسی امیر آدمی
سے جان پہچان بنانا اچھا لگا تھا۔ یہ سوچا کہ ایسے لوگوں سے جان پہچان
ہوگی تو ہی سائرہ کی کسی امیر گھر میں شادی ہوسکے گی ورنہ ایک مستری
کی لڑکی کو کیسے کسی خوشحال گھر بیاہ پائوں گی۔ ایسے ہی مہربان لوگ ہم
جیسے غریب گھرانوں کی بیٹیوں کے لئے اچھے رشتوں کا وسیلہ بنتے ہیں۔
آپ کے منع کرنے کے باوجود میں نے اس شخص سے رابطہ کیا۔ اس کا فون
نمبر کارڈ پر لکھا تھا۔ نزدیکی ”پی سی او“ سے جا کر فون کرتی تھی۔ باتوں
باتوں میں ایک دن میں نے زبیر سے مدعا بیان کر ہی دیا کہ مجھے اپنی بیٹی
کے لئے کسی کھاتے پیتے گھرانے کا رشتہ چاہئے۔ اگر آپ کسی شریف
گھرانے میں میری سائرہ کا رشتہ کروا دیں تو عمر بھر دُعائیں دوں گی۔
ضرور یہ تو نیکی کا کام ہے۔ تمہاری بچی بہت اچھی شکل صورت کی بے۔
اس کا رشتہ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ تم ایسا کرو کہ میرے آفس آ جائو تو
تفصیلی بات کر لیتے ہیں۔ اُس نے پتا سمجھا دیا اور میں اس کے آفس چلی
گئی۔ اس نے کہا۔ رشتہ بہت اچھا ہے۔ بہت امیر کبیر آدمی ہے۔ بیرون ملک
کاروبار ہے۔ پہلی بیوی وفات پا چکی ہے کوئی اولاد نہیں ہے۔ دوسری شادی
کسی خوبصورت اور شریف گھرانے کی لڑکی سے کرنے کا خواہشمند ہے۔
بے شک غریب گھرانے سے ہو لیکن نیک لوگ ہوں۔ میرے خیال میں تو
تمہاری لڑکی کے لئے یہ رشتہ مناسب رہے گا۔ ایک بات بتا دوں کہ اس بزنس
مین کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ ہے جبکہ تمہاری لڑکی بمشکل پندرہ سولہ
سال کی ہوگی۔ شوہر سے بات کرلوء وہ راضی ہو تو بات آگے چل سکتی ہے۔
ٹھیک ہے میں نے زبیر صاحب سے کہا۔ شوہر سے بات کر لوں تو آپ کو فون
کروں گی۔
میں نے واثق سے بات کی کہ محلے کی جاننے والی ایک عورت ہماری سائرہ
کا رشتہ لائی ہے۔ کہتی بے کہ ایک امیر بزنس مین ہے۔ کار کوٹھی: بڑا سا
کاروبار ہے۔ کسی شے کی کمی نہیں ہے مگر اس کی عمر پینتالیس سال ہے
آپ کا کیا خیال ہے؟ ہماری لڑکی امیر گھر میں جائے گی اور عیش کرے گی۔
وہ بولے۔ اری نیک بخت میری عمر چالیس سے دو برس کم ہے تو خود بمشکل
تپیس کی ہے اور بیٹی بیاہنے چلی ہے میری عمر سے بھی بڑے شخص کے
ساتھ محض دولت کے لالچ میں۔ پھر ہماری ان سے واقفیت اور نہ جان پہچان۔
مجھ کو ہرگز یہ رشتہ قبول نہیں ہے۔
تم کو نہ سہی مجھے تو ہے۔ میں نے تب واثق کو یہ کہا تھا۔ بہت منایاء وہ کسی
طرح نہ مانے تو میں نے کہا کہ میں غربت سے تنگ ہوں۔ تم سیدھی طرح
نہیں مانے تو بیتی کو لے جا کر کورتٹ میں تمہارے خلاف بیان کروا کر اس
کی شادی امیر آدمی سے کردوں گی: تب تمہاری کیا عزت رہ جائے گی۔ واثق
بچارے میرے اس روز کے جھگڑے سے پریشان رہنے لگے۔ میری دھمکی
سے ڈر گئے۔ دل کے مریض تھے معلوم نہ تھا۔ اس روز دل میں درد محسوس
کیاء کسی بنگلے کی چھت پڑئی تھی۔ وہ دیگر مزدوروں کے ساتھ شٹر پر چڑھ
گئےء سخت گرمی تھی۔ پسینہ بہنے لگا۔ تکلیف کی پروا نہ کی۔ سورچ کی تپش
ایسی لگی: تڑ سے اوپر سے گرے اور زمین پر آرہے۔ سر پر چوٹ لگی: بے
بوش ہوگئے۔ ٹھیکیدار نے سرکاری اسپتال پہنچایا لیکن وہ زندہ گھر واپس نہ
آئے۔ مجھے جہاں ان کی وفات کا صدمہ تھا وہاں یہ خوشی بھی ہوئی کہ وہ
کانٹا نکل گیا جو ہماری غربت کو امیری میں بدلنے کی راہ میں رٴکاوت تھا۔ اب
میں اپنی لڑکی کی شادی زبیر کے ذریعے ایک امیر آدمی سے کرواسکتی

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *