زخم پھرسےھرےہوگے پارٹ ١

یہ آمسال 2020ء ماہ رمضان کی ستائیس تاریخ اور جمعہ کا دِن ہے۔ دوپہر
تقریباً دو کے قریب کراچی ایئرپورٹ سے نزدیک ترین رہائشی آبادی: ماڈل
کالونی پر ایک مسافر ایئربس کو لینڈنگ سے صرف ایک منٹ قبل حادثہ پیش آ
جاتا ہے اور طیارہ آبادی کے أوپر گھروں کی چھت پر گر کر تباہ ہو جاتا ہے۔
آگ اور ذھوئیں کے بادل اُٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نے جب ٹی وی پر یہ
منظر دیکھاء رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
اس بدقسمت طیارے میں سوار مسافروں کی شہادت پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔
یہ سوچ کر رُوح میں کرب کی آندھی سی چلنے لگی کہ میرے پیارے ہم
وطنوں کے دلوں پر کیا گزری ہوگی: جب عید پر گھر آنے والے ان کے
پیارے ”رن وےٴ’ سے صرف ایک منٹ کی دُوری پر تھے کہ اس حادثے
میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔
سب ہی ہم وطنوں نے یوں تو اس دُکھ کو دِل کی گہرائیوں سے محسوس کیا
لیکن وہ جن پر ایسا ہی کوئی وقت قبل ازیں آ چکا ہوء ایسے کسی حادثے کو
دیکھ کر ان کے دلوں کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں اور ان سے لہو
رسنے لگتا ہے۔
میرا چھوٹا بھائی اسد بھی ایسے بی حادثے کی نذر ہوتے بال بال بچا تھا۔ جان
تو بچ گئی لیکن اس کی زندگی بعد میں زندہ و سلامت لوگوں جیسی نہ رہی۔
تبھی آچ اس خبر نے ہمارے سوئے ہوئے درد کو جگا دیا۔سچ ہے کہ جس پر
گزر چکی ہو وہ صحیح معنوں میں دُوسروں کا درد اپنے دِل میں محسوس کر
سکتا ہے۔ میں اور امّی حادثہ کو تی وی پر دیکھ کر اسی طرح رو رہے تھے
جیسے اس روز روئے تھے۔
جب برسوں پہلے طیارہ اڑانے کے دوران اسد بھائی کو کسی ذہنی پریشانی کی
وجہ سے لینڈنگ میں مشکل پیش آئی تھی اور طیارے پر ان کا کنٹرول جاتا رہا
تھا۔ اگر ”’کو پائلٹ“’ بروقت اُن سے کنٹرول نہ سنبھال لیتا تو طیارے کا تباہ ہو
جانا یقینی تھا۔
یہ عجائبات کی دُنیا ہے اور انسان خطا کا پُتلا ہے۔ لاکھ کوئی لائق فائق
مضبوط ارادہ اور مابر ہو لیکن بدقسمتی کا ایک لمحہ بعض اوقات اس کی
ساری قوتوں کو سلب کر لیتا ہے اور جو مفڈر میں ہوتا ہےە وہ ہو جاتا ہے۔
چاہے اس میں انسان کی غلطی ہو یا طیارے میں کوئی خرابی: ہم اس کو مقذّر
کا لکھا بی کہتے ہیں۔
میرا بھائی اسد بھی ایک بےحد لائق: باحوصلہ اور بہترین ہواباز ہوتے ہوئے
ایک پل کو اپنے حواس سے بیگانہ ہوگیا تو ساری زندگی کی محنت خاک میں
مل گئی۔ وہ آج تک معذوروں ایسی زندگی جیتا رہا ہے۔ہم جب بھی اُسے
خاموش بیٹھے دیکھتے ہیں اس کا بچپن یاد آ جاتا ہے۔ وہ ہم تین بہنوں سے
چھوٹا مگر بہت پُرجوش اور باحوصلہ لڑکا تھا۔ لڑکپن سے بوابازی اس کا
خواب تھا۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں اُڑان بھرنے کے سپنے دیکھا کرتا تھا۔
جب ایف ایس سی میں تھا تو حالات کچھ ایسے ہوگئے کہ والد صاحب کو
امریکہ جانا پڑا۔ جہاں بڑے بھائی مت سے رہائش پذیر تھے حالانکہ جانا تو
امتحان کے بعد اسد کو تھا لیکن بھائی جان نے والد صاحب کو بلوانا ضروری
سمجھا۔ ابو کی ملازمت جاتی رہی تھی اور امریکہ میں اپنا بزنس سنبھالنے
کے لئے بھائی کو والد صاحب کے تعاون کی اشد ضرورت تھی: تبھی والدہ
نے اسد سے کہا کہ اب تم یہیں رہ کر جو کرنا ہے کرو کیونکہ میں اور تمہاری
بہنیں گھر میں اکیلی رہ گئی ہیں۔ تمہارا ہمارے پاس رہنا ضروری ہے۔
اسد کوامریکہ نہ جا سکنے کا بہت ذکھ تھا۔ ماں کا حکم ماننا بھی ضروری تھا۔
ایف ایس سی میں اس کے قابل ستائش نمبر آ گئے تو بڑے بھائی نے اُس کی
حوصلہ افزائی کے لئے اسےبر ماہ الگ سے معقول رقم بھجوانی شروع کردی
تاکہ وہ کمرشل پائلٹ بننے کا اپنا شوق پورا کر سکے۔اجازت ملنے پر اسد کی
خوشی دیدنی تھی۔ اس نے مناسب وقت پر فلائنگ کلب میں شمولیت اختیار
کرلی۔ بہت لگن اور محنت سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ وہ دن بھی آ گیا جب
اس کو کمرشل پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ بھائی جان کو اس کی
کامیابی پر بےحد خوشی ہوئی اور انہوں نے اس کو امریکہ بلوانے کا فیصلہ
کرلیا۔
اس وقت تک بڑی باجی کی شادی ہو چکی تھی۔ وہ سگے چچا کی بہو بنی تھیں
جو لاہور میں رہتے تھے۔ باجی کی شادی ہونے کے ایک ماہ بعد ان کے شوہر
کی ملازمت کراچی میں ہوگئی تو والدہ نے گھر کا ایک پورشن جو کرائے پر
دینے کی نیت سے والد نے بنوایا تھاء بیٹی اور داماد کو رہائٹر کے لئے دے
دیا۔ اس طرح ان کے قریب آ جانے سے ہمیں ”اکیلے پن’ کا احساس جاتا رہا۔
اسد کو امریکہ میں دو سال کی تربیت لینی تھی۔ انہی دنوں والد صاحب نے
واپس آنے کا فیصلہ کرلیا اور اسد کو بڑے بھائی کے حوالے کر کے وطن
لوٹ آئے۔اسد کی تربیت گاہ بڑے بھائی کی رہائش سے ذور تھی لہذا وہ اپنی
تربیت گاہ والے علاقے میں چلا گیا جہاں اس کی ملاقات ایک پاکستانی فیملی
سے ہوگئی۔یہ محبت کرنے والے اور ملنسار لوگ تھے۔ دیکھا کہ ہم وطن لڑکا
اکیلا رہتا ہے۔ انہوں نے ہر ویک اینڈ پر اسد کو اپنے گھر بُلانا شروع کر دیا۔
ان کی ایک ہی بیٹی ماہم تھی۔ اس لڑکی نے میرے بھائی میں دلچسپی لینی
شروع کر دی۔ بعد میں دونوں کے دِلوں میں ایک ذوسرے کے لئے پسندیدگی
کے جذبات نے جنم لیا۔
اسد جس طرح اپنے کام میں ھن کا پگا اور قول کا سچّا تھا محبت کے
معاملے میں بھی وہ ویسا ہی کھرا اور خالص ثابت ہوا۔ دِل کی سچائی کے ساتھ
اس نے ماہم کو اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔ لڑکی کے والدین نے بھی بیٹی سے اسد
کے میل جول میں کوئی رکاوٹ ڈالی اور نہ اعتراض کیا۔ جس کا مطلب یہی
تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی خوشی کو پورا کرنے کے حق میں تھے۔ ان کے
حوصلہ افزا رویئے نے میرے بھائی کو یقین کی اس منزل پر پہنچا دیا کہ وہ
یل کی اتھاہ گہرائیوں سے ماہم کو چاہئے لگا۔
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open