زخم پھرسےھرےہوگے پارٹ ۲

ماہم اسد کا حوصلہ بڑھاتی۔ کہتی تھی کہ جب تم شاندار کامیابی حاصل کرلو
گے تو میرے والدین تم سے میری شادی کر دیں گے لیکن تم کو رہنا امریکہ
میں ہی ہوگا اور یہاں رہ کر خود کو ایک قابل پائلٹ تسلیم کرانا ہوگا۔ دونوں
مستقبل کے سہانے خواب دیکھتے تھے۔ ماہم کے یقین دلانے پر اسد نے اپنی
اور اس کی شادی کو ایک اتل حقیقت سمجھ لیا اور وعدہ کر لیا کہ شاندار
کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں ہی پائلٹ بن کر جہاز اُڑائے گا۔
دراصل یہ لڑکی اس کی پہلی اور آخری آرزو بن گئی تھی۔
جدوجہد کی اس کٹھن راہ میں ماہم کی ذات اس کے لئے سنگ میل سی نہ تھی
بلکہ نشان منزل کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ وہ جہاں ہوتاء ماہم کا خیال اس
کے ساتھ ساتھ ہوتا۔ وہ گویا اس کی سانسوں میں بس چکی تھی۔اپنی محبت کو
باعزت طریقے سے پانے کے لئے اسد جان توڑ محنت کر رہا تھا۔ وہ بہت جلد
اس کو ایک کامیاب اور بہترین پائلٹ بن کر دکھانا چاہتا تھا۔ جس نے کہا تھا کہ
تم اتنی شاندار کامیابی حاصل کرو کہ میرے والدین تم کو داماد بنانے میں فخر
محسوس کریں۔
وقت گزرتا رہا۔ اسد ماہم کے گھر آتا جاتا رہا۔ اس کے والدین بھی میرے بھائی
کے لئے ہفتے یا پندرہ دن بعد خصوصی طور پر کھانے کا انتظام کرتے تھے۔
پھر وہ دن آ پہنچا جس کا سب کو انتظار تھا۔ اسے مقررہ دن کی آخری پرواز
کی تاریخ مل گئی۔ جب مقررہ گھنٹے کی پرواز کو پورا کر لینے کے بعد اس
کو امریکہ سے ایک قابل قدر اعزاز سے نوازا جانے والا تھا اور ایک کامیاب
پائلٹ تسلیم کر لینے کے بعد سند بھی ملنے والی تھی۔
جس وقت اس کو پرواز کے لئے روانہ بونا تھاء اس سے چند منٹ پہلے ماہم
کی طرف سے ایک لفافہ ملا۔ امتحانی پرواز کا وقت سر پر تھا۔ اس نے لفافہ
جیب میں رکھ لیا اور دوڑ کر اس گاڑی میں سوار ہوگیا جو گھر سے اس کو
امتحان گاہ کی سمت لے جانے کے لئے آئی تھی۔ یہ پرواز اُس کے لئے بےحد
اہم تھی؛ اس لئے وہ ماہم کی طرف سے بھیجے ہوئے لفافے کو نہ کھول سکا۔
وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ اس نے سوچا خط راستے میں پڑھ لے گا۔ یقینا ہمیشہ
کی طرح ماہم نے اُس کا حوصلہ بڑھانے کو یہ تحریر بھجوائی تھی۔
جب وہ اپنی آخری آزمائشی پرواز کے لئے مقررہ وقت پہنچا تو اس کو چند
منٹ توقف کرنا پڑا کہ اُس کا ”’کو پائلٹٴٴ ابھی نہ پہنچا تھا۔ یہ وقت اُسے
غنیمت لگا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر لفافہ نکالا اور بے قراری سے چاک
کر کے خط نکال کر پڑھنے لگا۔پہلے بھی وہ ہر پرواز سے پیشتر اُس کو
ایسے ہی خط بھیچ کر ہمت سے پرواز کرنے کی تلقین کیا کرتی تھی۔ جسے
پڑھ کر اس کا حوصلہ بلند ہو جاتا تھا اور وہ جہاز میں بیٹھ کر خود کو فلک
کی وسعتوں میں محسوس کرتا تھا۔
ماہم کے یہ لفظی تحفے اُس کی جان تھے یہ الفاظ چمکتے ستارے بن کر اُس
کو باہمت بنا دیتے تھے۔ جن کی وجہ سے وہ ہر بار کامیابی کی آخری حدود کو
چھو لیا کرتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ آج بھی اُس کو باحوصلہ بنائے کو ماہم نے یہ
تحریر بھیجی ہے۔ سوچ رہا تھا آج کی پرواز پر تو ان دونوں کی شادی کا
دارومدار ہے۔ یقینا اس نے کچھ ولولہ انگیز تحریر لکھی ہوگی؛ جس کو پڑھ
کر اس میں بھرپور اعتماد اور جوش پیدا ہو جائے گا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی
محبوبہ پُرجوش الفاظ سے نامہ گری کی ماہر ہے۔ہمیشہ وہ ایسے الفاظ لکھتی
تھی کہ جہاز اُڑا کر وہ آسمان کی وسعتوں سے بھی آگے نکل جانے کی
خواہش کرنے لگتا تھا۔ تب اُسے لگتا کہ آسمانی وسعتیں بھی اُس کے عزائم
کے سامنے تنگیْ داماں کی وجہ سے منہ چھپا رہی ہیں۔ سچ ہے عشق بھی کیا
شے ہے کہ ماہم کے لکھے چند الفاظ اس پر جادو سا کر دیتے تھے۔
آج مگر یہ کیسا خط تھا کہ جس کو پڑھتے ہی اس کے کان سائیں سائیں کرنے
لگے اور اس کےسر میں ہزاروں جہازوں کی گڑگڑاہٹ کچھ اس طرح گونج
اتھی جیسے وہ اس کے خوابوں کے ساتھ زمین بوس بورہے ہوں۔
اآسی وقت ””کو پائلٹ’ٴ آ گیا۔ اس کا کندھا بلا کر بولا۔ اس کاغذ کو جیب میں
ڈالو۔ ہمیں وقت پر پرواز کرنا ہے۔ چلو… جہاز میں سوار ہو جائو۔ یہ بعد میں
پڑھ لینا۔اُس نے خط کو بیگ میں ڈالا اور بیگ عملے کے ایک شخص کے
سپرد کر کے وہ ”’کوپائلٹ” کے ہمراہ کاک پٹ میں اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ
گیا۔
پرواز کا آغاز ہوگیا لیکن اس کو احساس نہ ہوا کہ وہ جہاز کو اُڑا رہا ہے اور
یہ پرواز اس کا امتحان ہے۔ بس وہ ایسے جہاز کو اُڑائے جا رہا تھا جیسے یہ
سب کچھ خود بہ خود غیرارادی طورپر ہو رہا ہو اور وہ اپنے آپ سے کچھ
بھی نہ کر رہا ہو۔ جیسے کہ کوئی نادیدہ قوت جہاز کو اُڑائے لئے جا رہی ہو۔
اس کی یہ آخری پرواز نہایت عمدہ جا رہی تھی لیکن کچھ دیر بعد ہی ساتھی
پائلٹ کو احساس ہونے لگا کہ اسد کی کارکردگی میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی
واقع ہونے لگی ہے۔ بظاہر وہ نارمل لگ رہا تھا لیکن بہ باطن نارمل نہیں رہا
تھا۔ مقررہ گھنٹے بہ خیر و خوبی پورے ہونے والے تھے کہ اچانک اس کے
ذبن کا کوئی بند دریچہ ایک جھٹکے سے کھل گیا اور وہ چمکتے روشن
ستارے جو اس کا ہمیشہ حوصلہ بڑ ھاتے تھے سیاہ دھتّے بن کر اس کی
آنکھوں کے سامنے پھیل گئے۔
ماہم نے لکھا تھا۔ اسد میری تمہاری شادی اب ممکن نہیں رہی کیونکہ می اور
ڈیڈی کو ایک اور نوجوان پسند آگیا ہے جو کھرب پتی اور خُوبصورت ہے۔
مجھے أُمید بے کہ تم فراخدل ہو کر میرے والدین کو اس فیصلے پر معاف کر
دو گے۔ اس سے آگے وہ نہ پڑھ پایا مگر اتنی عبارت اس کے ذہن میں انگارے
بھر دینے کو کافی تھی۔
یہ لفظ جو پہلے سیاہ نقطے تھے انگارے بنے اور پھر انہوں نے بجلی کے
کوندوں کا روپ دھار لیا جو کوڑوں کی مانند اس کے اعصاب پر برسنے
لگے۔ تبھی جہاز اُس شہباز کی مائند ڈولنے لگا جیسے کسی نے اس کو تیر مار
کر زخمی کر دیا ہو۔ معاون پائلٹ نے جب یہ حال دیکھا تو اس نے اسد سے
کنٹرول لے کر خود جہاز کو سنبھال لیا اور لینڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
جہاز کے اترتے ہی اسد کا اعصابی نظام جواب دے چکا تھا۔ اس کو سہارا دے
کر گاڑی میں لے جایا گیا اور پھر اسپتال پہنچا دیا گیا۔ جہاں کچھ عرصہ علاج
کے بعد اس کو پاکستان روانہ کر دیا گیا۔
والد نے ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کروایا۔ باقاعدگی سے دوائیں
دی جاتی رہیں۔ تاہم اس کی یادداشت متاثر ہوگئی۔ میرے بھائی کی حالت بہت
زیادہ خراب ہوگئی۔ وہ اب اپنے حواسوں میں نہ رہا تھا۔
ایک روز گھر سے نکلا تو چار ماہ تک پتا نہ چلا کہ کہاں ہے۔ وہ مختلف
علاقوں میں بھٹکتا رہا۔ یہاں تک کہ اُس کی ظاہری حالت مخبوط الحواس جیسی
ہوگئی۔ وہ میلے لباس اور اُلجھے بالوں کے ساتھ دیوانہ سا لگنے لگا تھا۔ مگر
گفتگو نہایت شستہ کرتا۔ عمدہ انگلش بولنے لگتا تھا۔ ُس کو بوابازی سے متعلق
حیرت انگیز معلومات تھیں۔ لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے مگر وہ کسی طور
ملنگ یا فقیر نہ لگتا تھا۔ تبھی اس کو مشکوک سمجھ کر پولیس نے دھر لیا۔
کچھ عرصے اس کو زیرتفتیش رکھا گیا لیکن وہ بے ضرر ثابت ہوا تو اس کے
لواحقین کی تلاش کی گئی اور اسے ذہنی امراض کے اسپتال بھجوا دیا گیا۔ اکثر
ڈاکٹروں سے گفتگو کرتے وقت وہ ایک فلائنگ کلب کا ذکر کرتا تھا۔ وہاں جا
کر معلومات لی گئیں؛ تب وہاں سے وارٹوں کا پتا ملا تو ہم سے رابطہ کیا گیا۔
میں ہمارا بھائی تو مل گیا مگر وہ اسد نہ ملا جو قابل؛ لائق پپرجوش اور
زندگی سے بھرپور تھا۔ اب وہ بات کرتے کرتے بُھول جاتا۔ زبان گنگ ہو جاتی
تو کئی دن پھر نہ بول پاتا تھا۔ وہ توڑ پھوڑ نہیں کرتا تھاء شور نہیں مچاتا تھا
بس خاموش ہو جاتا تھا۔ کبھی ہماری پہچان کھو دیتا اور کبھی خود کی…
جیسے کسی اور ذنیا میں ہو۔ اس کی یادداشت اتنی متاثر ہوئی کہ ہمارے نام
تک بُھول گیا۔ شاید اس ذکھ کو بُھلا‌نے کے لئے قدرت نے اس کی یادداشت اس
سے لے لی تھی تاکہ وہ یہ بھی بُھول جائے کہ اس کی منزل جب سامنے آئی تو
وہ اس سے کوسوں ذور چلی گئی۔ اس کی انتھک محنت کے رائیگاں جانے کا
دکھ جو شاید اس کے لئے کرب ناک ہوتاء اب یادداشت کے کمزور ہو جانے کی
وجہ سے سہنا آسان ہوگیا تھا لیکن یہ بات بہت دُکھ کی ہے کہ جب وہ خاموش
ہو جائے تو ہزار جتن کرنے پر بھی بولنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ کبھی بولنے پر
آئے؛ امریکن لہجے میں بے تکان انگریزی بولے چلا جاتا بے ورنہ اکثر گم
صم بی رہٹا ہے۔
آہ! میرا ہے ضرر بھائی کتنا شاندار نوجوان تھاء کس قدر پُرعزم اور پھر یقین
کی ایک شکست نے اُسے بالکل بی بدل کر رکھ دیا۔ شاید میرے شہباز ایسے
ویر کو کسی کی نظر لگ گئی۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *