زیادتی کے بڑھتے واقعات | پاکستان موٹر وے

“زیادتی کے بڑھتے واقعات “

نفیرقلم/محمد راحیل معاویہ

گذشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے قریب خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا۔ خاتون نے مدد کے لیے پولیس کو کال کی جبکہ پولیس نے موٹروے کو اپنی حدود میں نا ہونے کا بہانہ بنا کر مدد کرنے سے انکار کردیا۔ 6

ماہ قبل لاہور سیالکوٹ موٹروے آمدورفت کے لیے کھول دی گئ۔، لیکن اس پر کسی قسم کی کوئی بھی سکیورٹی فورس تعینات نہیں کی گئی۔ خاتون سے زیادتی کے اس دردناک واقعے نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔

اس معاملہ پر انصاف فراہم کرنے کے لیے عوام نے بھرپور آواز بلند کی تو سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی سربراہی میں انکوائری کی ذمہ داری اسی پولیس کو دیدی گئی جس نے مدد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کے لیے حکومت نے آئی جی پنجاب کو فارغ کردیا،تو پوری قوم انگشت بداں تھی کہ یہ افسر کس قدر ہونہار ہوں گے

،کہ جن کے لیے ان سے بڑے افسر کو ہٹا دیا گیا ہے۔ مگر قوم کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب موصوف نے انکوائری شروع کرنے سے قبل ہی اس واقعہ کا مظلوم عورت کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا ۔
قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی

مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر

 

:قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی

بعض لوگ اس واقعے کے بعد یورپ کے لیے رطب اللسان نظر آئے، اور اس سارے واقعہ کا ذمہ دار ہمارے اسلامی کلچر کو ٹھہراتے پائے گئے۔ لیکن جب انہی مجرموں کے خلاف اسلامی سخت سزاوں کے نفاذ کی بات آتی ہے، تو پھر انہی لوگوں کے انسانی حقوق خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

ابھی اس واقعے کو چند گھنٹے گزرے تھے کہ گوجرانوالہ میں ایک معصوم بچی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔

راولپنڈی میں ایک بچے سے بدفعلی کی گئی، اور تونسہ میں بھی عورت کو اس کے بچوں کے سامنے کئی روز تک زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین اور چھوٹے بچوں کے زیادتی کے واقعات میں ہولناک اضافہ ہوچکا ہے۔ 2017 میں صرف بچوں سے3445 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔2018

میں 3832 واقعات پورے پاکستان سے رپورٹ ہوئے جبکہ 2019 میں صرف پنجاب میں 3881 ریپ 1359 بچوں سے زیادتی اور 12600 خواتین کے اغواء کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

بچوں سے زیادتی کے صرف وہی کیس رپورٹ ہوتے ہیں

بچوں سے زیادتی کے صرف وہی کیس رپورٹ ہوتے ہیں جن میں بچوں کی موت واقع ہوجاتی ہے، یا پھر ان کی حالت خطرناک ہوتی ہے ۔ بہت سارے بچے ایسے واقعات کسی کو بتاتے ہی نہیں، اور بہت سارے واقعات کا پتا لگنے کے باوجود والدین عزت کی وجہ سے چھپا لیتے ہیں، اگر تمام واقعات رپورٹ ہوں تو اس کے اعداد و شمار کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
جبکہ خواتین سے بھی ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، خواتین کو اس کے بعد جس ذلت و رسوائی اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے ڈر سے وہ اس کو چھپانے میں ہی عافیت جانتی ہیں۔

معروف کالم نگار و ایڈووکیٹ آصف محمود صاحب نے کل ایک کورٹ کا واقعہ تحریر کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ ایک خاتون سے زیادتی کے بعد عدالت میں جرح کے دوران وکیل صاحب نے خاتون سے پوچھا کہ” بی بی جب یہ سب ہوا تو آپ نے کیسا محسوس کیا ” جس پر سارا کمرہ عدالت قہقوں سے گونج اٹھا، بعدازاں وکیل صاحب نے قانونی اسرار و رموز کی گتھی سلجھاتے ہوئے فرمایا کہ۔

اگر تو آپ نے لطف محسوس کیا تو پھر یہ زنابالجبر تو نا رہا۔
جہاں خواتین کو ظلم و تشدد کے بعد ایسے تلخ و آلودہ سوالات کا سامنا ہو ، جہاں واقعے کے بعد خاتون پر ہی شک و شبہات کے دروازے کھلتے ہوں ، جہاں اسی کو کوسا جاتا ہو کہ تم باہر کیوں نکلی وہاں ایسے واقعات کو عدالت تک کون لے کر جانے کی ہمت کرے۔

 

اس خاتون کو تو اکیلے نکلنے کا الزام دے دیا گیا

اس خاتون کو تو اکیلے نکلنے کا الزام دے دیا گیا مگر کچھ عرصہ پہلے اسی گجر پورہ کے علاقے میں ڈاکٹر کے ساتھ جاتی نرس کو لوٹ کراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا تھا، اس کو کیا الزام دیں ؟ ابھی کل ہی جس خاتون کو اس کے گھر گھس کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اس کا کیا ؟
اس کے ساتھ تو مرد نہیں تھا تو ایسا واقعہ ہوا تو کچھ عرصہ قبل جب چند بدقماشوں نے شوہر کو باندھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی عزت تار تار کردی تھی اس کو کیا الزام دیں ؟
مسئلہ یہ ہے کہ اس سماج میں جہاں ہر طرف ہوس اور شہوت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں ہمارے ڈرامے ناجائز تعلقات کو بنانے اور نبھانے پر زور دیتے ہیں ۔جہاں سالی کو بہنوئی
، دیور کو بھابی، دوست کو اسکی بیوی اور کزن کو اپنی کزن سے عشق و محبت کے سوا کوئی کہانی ہی نہیں ملتی ۔ جہاں پورنگرافی کو عروج حاصل ہے۔ جہاں فحش مواد تک چھوٹے چھوٹے بچوں کو رسائی حاصل ہے ۔ جہاں مساج سینٹر آزادی سے گند پھیلا رہے ہیں۔

جسم فروش لوگ اپنی آزادنہ پبلسٹی کررہے ہیں ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سرعام گھناؤنا کاروبار کیا جارہا ہے۔ جہاں ہر طرف شہوت ،فحاشی اور عریانی کو عروج حاصل ہے۔ وہاں ایسے درندے اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کے لیے ہر سطحی حد سے گر جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے

“جی دیکھیں زینب کے قاتل کو پھانسی دے کر دیکھ لی اس سے تو نہیں رک سکے” جہاں روزانہ سینکڑوں ایسے واقعات ہوتے ہوں اور رپورٹ بھی نا ہوپاتے ہوں، وہاں ایک زینب کے قاتل کو پھانسی سے کیا فرق پڑتا ہے؟

:دولت اور تعلقات کی

جہاں ایسے درندے جرم کرتے وقت اپنی طاقت کے نشے میں سرشار ہوکر قانون کی گرفت میں آنے کا کوئی خوف ہی نا رکھتے ہوں ۔ اگر آ بھی جائیں تو طاقت ، دولت اور تعلقات کی وجہ سے بچ نکلنے کی امید رکھتے ہوں ۔

جہاں 80 فیصد لوگ ایسے گھناؤنا جرم کرکے کانوں کان خبر نا ہونے دیتے ہوں ۔وہاں آپ ایک زینب کے قاتل کو لٹکا کرسوچیں کہ سب سدھر جائیں گے تو یہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
عرب میں دور جہالت کے اندر عورت اتنی غیر محفوظ تھی کہ اسے اپنے سگے بیٹوں سے بھی تحفظ حاصل نا تھا ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کی عزت محفوظ نا ہونے کی وجہ سے انہیں زندہ درگور کردیا کرتے تھے ۔

پھر رحمت دو عالم، خاتم النبین، سرور کونین، سیدالوری ،مکین گنبد خضری حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ایسی تربیت کی کہ عورت یمن سے چل کر جنگل بیابان سے ہوتی ہوئی اکیلی حرم میں پہنچ سکتی تھی۔ کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔

ایسی تھی ریاست مدینہ۔

ایسی تھی ریاست مدینہ۔ یہ اس صورت ممکن ہوا تھا، کہ ان کے دلوں میں اس ذات کا خوف پیدا کیا گیا ،جو خلوت اور جلوت میں بھی ہمہ وقت ہمارے ساتھ ہے۔ اگر دنیا کے اس قانون سے ہم بچ بھی نکلیں تو اس خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے ، یہی وہ سوچ تھی کہ جس نے اس معاشرے کو اتنا مضبوط کردیا کہ لوگ خدمت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر کہتے کہ گناہ کر بیٹھے ہیں سزا دیجئے۔

بار بار نظرانداز کرنے کے باوجود بھی وہ آخرت کی سزا سے بچنے کے لیے دنیاوی سزا لے لیتے ۔ آج ہم نے ان تعلیمات کو راسخ طور پر اپنی نسلوں کے ذہنوں میں بٹھانے کو قدامت پسندی سے تشبیہ دیا ۔

اگر آج بھی ہم سستا، فوری اور غیر پچیدہ انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کے دلوں میں خدا کا خوف بٹھانے میں کامیاب ہوجائیں ، تو ایسی درندگی کرنے والا کوئی پیدا ہی نا ہوسکے۔

محمد راحیل معاویہ نارووال

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *