میں ہی ظالم ہوں پارٹ ١

چار سال کی تھی جب امی اہو قوت ہو گئے۔ میری پرورش سگی نائی نے کی۔
رس کی تھی نائی نے مجھ کو بیاہنے کی ٹھان لی۔ ایک روز نانی نے بقایٍ
تیرا دولہا آی ہے اس وقت پڑوسن بیٹھی تھی۔ اشتیاق سے بولی۔ ذرا دیکھوں تو
کیسا ہے؟ تبھی پڑوسن کی اڑ میں میں نے بھی اپنے ہونے والے دولہا کو
دیکھ۔ اوہ میرے غدا… پژوسن کے منہ سے نکلا۔ جمیلہ! پروین پر تنا ظلر
مت کرو۔ کی اس بوڑھے سے اس پھول سی بچی کو باہ دوگی۔ یہ تو عمر میں
اس کے باپ سے بھی بڑا لگتا ہے۔ کس قصور کی سزا تم اس بچی کو دے رہی
ہو۔ ایسی ہی یہ تم پر بوجھ ہے تو مجھے دے دوہ میں اس کا خرچہ اٹھالوں
گی۔ رشتہ تو جوڑ کا ڈھونڈا ہو
تم کو کیا پتا جب سر پر مرد نہ ہو تو گھر میں جوان بچیوں کی کتٹی رکھوالی:
کرتا پڑتی ہے نائی کے اس جواب پر پڑوسن اپنا سا منہ لے کر چلی گئی اور
میں دس برس کی عمر میں ساٹھ سالہ آدمی کی بیوی بن گئی۔ ان دنوں کے
بارے میں لکھ نہیں سکتی۔ ان دنوں کو یاد نہ کروں تو اچھا ہے۔ یہ ستم
والی انی تین برس ساتھ رہی اور جب میں تیرہ برس کی عمر میں ایک بچے_
کی ماں بن گئی تو اس نے مکمل طور پر مجھے اس بوڑھے کے حوالے کیا۔
اور خود اپنے گیر چئی گئی۔
اب شعور آگیا کہ جوانی کیا ہوتی ہے اور جوانی کے کیا ارمان ہوتے ہیں۔
ھا بہت بدمزاچ تھا کبھی پپار بھرا سلوک کرتا اور کبھی میری چھوٹی,
ٹی غلطیوں پر سخت سرزنش کرت تھا تب میں اپنے والدین کو یاد کر کے
گھنٹوں روتی تھی۔ جو مجھ کو پیار کرتے تھے اور ذرا سی تکلیف پر تڑپِ
اٹھتے تھے۔ جب میرے شوہر ملک نے دیکھا کہ یہ بچی خود کو سنبھال سکٹی
ہے اور نہ اپنے بچے کوہ تب وہ نائی سے اصرار کرنے لگاکہ آکر اس کے
ساتوریو۔
نانی کو بھی یہی چاہیے تھا تبھی وہ ترنت ہمارے گھر آہسی۔ اب وہ ساتھ
رہنے لگی لیکن ساتھرہنے سے میری مشکلات میں کسی کی جگہ اضافہ
ہوگیا۔ نائی کے رویے میں میری شادی کے بعد بڑی تبدیلی آگئی ھی۔ وہ ٹائی:
سے زیادہ ساس کا کردار ادا کرنے لگی۔ ای مجھے گھر سے باہر قدم نہ
رکھنے دیتی تھی۔ پاس پژوس میں بھی جائے کی اجازت ہ تھی۔ حال دل کسی
کو نہ کہہ سکتی تھی اکیلی زانتیوں کو برداشت کرتی تھی اور روتی تھی ار
سے رو رو کر فریاد کرتی تھی کہ تو ہی ان دونوں کے دل میں رحم ڈال دے یا
پھر ملک اور نانی سے میری جان چھڑا دے۔
وقت کے ساتھ ساتھ میں ذبنی مریض ہوئی جا رپی تھی۔ خود پر ا عمر میں
جبر آسان نہیں ہوا۔ بیٹھے بیٹھے دل میں عجیب و غریب سے وسوسے آئے
لگے۔ کہیں گھر کی چھت مجھ پر نہ گر پڑے۔ کہیں زلزلہ نہ آجائے۔ امنگیں
جنم لیتیں اور اسی لمحے دل میں دفن ہو جاتی تھیں۔ پھر میرے شوہر کو
احساس ہونے لگا کہ مجھ پر ظلم ہوا ہے اور اب اس کا ازالہ ہوتا چاہیے: تبھی.
اس کے روتے میں تیدیلی آنے لگی۔ وہ میرا خیل رکھنے لگا مجھ سے پیار
کرنے لگا اور اپ ناتی کو بھی اس کی زیادتیوں پر ہرملا ٹوک دیتا کہ اما
چپ رہو۔ میری بیوی کو ڈانٹنے ڈپٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اب وہ میرے لیے پھل فروٹ اور کھاتے پینے کی اشیاہ لات اور جوڑے۔ میک
آپ کا سامان غرض پر طرج آرام و آساتش دینے لگا۔ مگر میرا دل اس کی
طرف مائل نہ ہو سکا۔ مجھے کو اپنے ہم عمر جیون ساتھی کی آرزو رہئے
لگی۔ جو میرے جیسا ہو۔ مجھ سے بنسے بولے اور ہم زندگی کا لطلف لے
سکیں۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگت۔ یوں میں دو بچوں کی ماں بن گئی۔
اچانک اچھی بھلی زندگی میں نانی کی نادائی سے بھونچال آگیا۔ ہوا یوں کہ
جانے کیسے نانی کو یہ خیال آیا گھر بدلنا چاہیے۔ یہ گھر چھوٹا ہے۔ اس نے
رات دن ملک کے کان کھاتے شروع کر دیئے۔ ملک پراناسطہ چھوڑ کر کہیں
اور نہیں جا چاہتاتھا۔ کیونکہ یہاں سبھی جانے پہچانے لوگ رہتے تھے جبکہ
ننی جگہ کا پت نہیں ہوا کہ وہاں کس قسم کی آبادی ہے۔
آخر وہ دیوار کھڑی ہوگئی جس کو مجھے بعد میں پھلانگ کر بچوں کی
یربادی کو آواز دینی پڑی۔ میرے شوہر نے تائی کے کہنے پر دوسری جگہ
کراہے کا مکان لے لی یوں ہم لوگ نئے مکان میں متتقل ہو گئے مگر یہ تدیلی
جس کان میں ہم شفٹ ہوئےە اس کا ایک حصہ مالک مکان کے پاس تھا جس
میں اس کا جواں سال بیٹا اظہر رہا ھ۔ وہ نہایت بدچلن آوارہ قسم کا لڑکا تھا۔
ہر خوب صورت چہرے پر اس کی نظریں ہوتی تہیں۔ بر حسین لڑکی کو دیکھا
کر پھسل جاتا تھا۔ پڑھاتی سے زییدہ اس کا دل عشقیہ گانوں میں لگا رتا تھ۔
ایک دن جب میں صحن میں کوئی کام کر رہی تھی: اظہر نے اپنے کمرے کی
کھڑی سے مجھے دیکھ لی اس کا کمرہ بالائی منزل پر تھا اور کھڑکی سے
ہمارے صحن کا منظر صاف نظر آا تھا۔ مجھ کو دیکھ کر وہ حور ہوا
کیونکہ میں بہت خوب صورت تھی۔ دو بچوں کی ماں ہو کر بھی ایک دوشیزہ
نظر آتی تھی۔ مجھ کو دیکھ کر کوئی نہ کہہ سکتا تھا کہ یہ شادی شدہ اور دو
بچوں کی مان ہے۔
اس نے کھڑکی سے کھانسا اور جب میں نے اوپر نگاہ کی؛ ایک پھول صحن
میں گرا دیدیہ سوچ کر میں نے اس کے سامنے پھول اٹھا کر کوڑے میں ڈال
دیاکہ وہ مجھ سے ذامید ہو جائے اور ایسا ویسا خیال اگر دل میں ہے تو توب
کرلے… مگر وہ نامید نہیں ہوا۔ میری اس حرکت نے اس کے شوق آوارگی
کو مزید بڑھا دیا۔ پس اس کے بعد اس نے یہ وئیرہ با لاہ جب میں صحن میں
ہوتی اور نائی اندر کمرے میں اونگھ رہی ہوتی: وہ کھڑکی میں آکر کھانستا
اور پھول صحن میں گرا ن
میں بھی انسان تھی۔ آخر کب تک دامن بچاتی۔ اب وہ جس روز نظر نہ ا
نگاہیں اس کو تلاش کرنے لگتی تھیں۔ دل بجھا بجھا سا رہا زندگی میں کوئی:
بڑی کسی محسوس ہوتی نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کے خیلوں کے دام میں
نامت اعمال کہ مالک مکان نے ملک سے کہیں یہ کہہ دیا کہ میرا بیٹا
ہاں شہر میں ہے مکان اپنا ہے مگر اس کو کھانے پینے کی
پریشاتی رہتی ہے۔ سلسل ہوٹل کا کھانے سے معدے میں تیزابیت ہو گئی ہے۔
بیار رہئے لگا
لے عرایہ
کہ پنا گھر ہے۔ پریشانی کی کیا بات ہے۔ کھانا اظہر کو
ارے گھر سے مل جائے گا مالک مکان خوش ہوا۔ کہنے لگا۔ جب تک
مرضی رہیں: میں آپ سے مکان خالی کرانے کی بات نہ کروں گا اور کرایہ
بھی نہیں بڑھاتوں گا۔ میرے بیٹے کی پڑھانی کے دو سال ہیں: اس کے بعد یہ
گانوں آجائے گا۔ اس روز سے کا ہمارے ذمے ہو گیاشروع میں ناتی یہ
فربضہ باقاعدگی سے سرانجام دیتی رہیں۔ پھر انہوں نے مجھ کو یہ ڈیوٹی
سونپ دی کہ اظہر کا کھتا اس کو دے دیا کروں۔
آگ اور کپاس کا کیا میل؟ وہ بنچلن لڑکا اور میں محرومیوں کی ماری۔ اس کی
میٹھی میٹھی باتوں میں آگئی اور ایسا ہونا کچھ یدنہ تھا کہ میں خوب صورت
اور جوان تھی۔ اس نے سوچنے کا موقع نہ دا اور ایک دن نہایت کوشش سے
اپنے غلط خیالات کی طرف مجھ کو مائل کر لیا
دل کی بر بات اس کو بتاتے لگی۔ لمبی قید جیسی زندگی میں مدت کے بعد ایک
دوست ملا تھا۔ تمام رازدل اس سے کہنے لگی۔ دکھ درد اسی کے ساتھ ہاقے
لگی۔ لگتایہ تھا کہ ابھی میری نئی زندگی شروع ہوئی ہے۔ برسوں پراتے
سمجھوتے کا چغہ میں نے اتار پھینکا۔ خواہش کا گلا گھونٹ کر جینے والی کو
گرہا مس بس لسیین کی کیپ لٹا نشور کے امام ہو بد موچھے
سمجھے اپنے ننھے منے پیارے بچوں

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *