میں ہی ظالم ہوں پارٹ ۲

کو چھوڑ کر اس کے ساتھگیر سے نکل گئی۔
اظہر مجھے لے کر ایک دوست کے پاس دوسرے شہر آگیا شروع دتوں میں
بچوں کی یاد نہ آئی مگر بعد میں ان کی یاد بے چین رکھنے لگی۔ میں روتی تو
اظہر کو کوفت ہوی۔ لخر اس کے دوست نے پتا کرای تو یہ افردہ خبر ملی کم
میرے بھاگ جاتے کے صدمے نے میرے شوہر کی جان لے لی۔ وہ غم
برداشت نہ کر سکا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا
میں نے اظہر کی منت کی۔ مجھے واپس جانے دو کیونکہ میرے بچے ہے
آسرا اور ویران ہو گئے ہیں۔ ان کا نانئی کے سوا اس دنیا میں کوئی نہ تھا۔ تاتی
بھی بوڑھی ہے۔ وہ کہاں بچوں کو سنبھال سکتی ہے۔ لیکن اظہر ایک سنگال
اس کے دل میں کوئی رحم نہ آی۔ اس نے مجھے سابقہ گھر میں
جانے کی اجازت نہ دہ
وقت گزرتا رہا۔ اظہر جب باہر جاتاء بیرونی اطراف سے تالا لگا جاتاتاکہ میں
گھر سے نہ نکل سکوں۔ مجھ کو میرے بچوں کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا۔
۔چار برس ایسے ہی روتے سسکتے گزر گئے۔ اس دوران ایک بچی نے جنم آیا۔
۔مگر چند روز ہی زندہ ربی میں پھر سے تنہ ہو گئی۔ اب اٹھتے بیٹھتے:
جاگتے سوتے ہر دم یہی دعا لبوں پر ہوئی۔ اے الہ مجھے میرے بچوں سے ملا
دے..۔ تواتر سے مانگی دعا جو دل سے نکلتی ہوہ کبھی نہ کبھی قبول ہو
جاتی ہے۔
ایک دن اظہر اپنے والد سےگاڑی مانگ کر لای اور کپاکہ چاو تم کو سیر
کرائوں: تم بہت اداس اور رنجیدہ رہنے لگی ہو۔ جانے اس کے جی میں کیسے
مجھ کو سیر کراتے کا خیال آگا۔ میں بھی لمحہ بھر کو جی اٹھی کہ اس چار
ادیواری سے باہر کی دنیا کو دیکھے مدت گزر چکی تھی۔ وہ مجھے اس شہر
لایا جہاں میری تانی کا گھر تھا جہاں ملک کا گھر تھا اور جس شہر میں
میرے بچے رہئے تھے۔
ہم بازار سے گزر رہے تھے اور میں سوچ رہی تھی: اے کاش کوئی معجزھ
ہو جاتے اور میں اپنے بچوں کی ایک جھلک دیکھ سکوں۔ اس سوچ میں کھوئی
۴ اسامنے سے گزرتے دو بچوں پر پڑی جو ہو بپو میرے۔
قہد اور حماد جیسے تھے مگر ان کے چہرے میلے اور کپڑے گندے اور پھٹے
ہونے تھے۔ دبلے پٹلے پٹیوں کے ڈھانچے۔
مانگ رے تھے۔ ان کو دیکھ کر میری چیخ نکل گئی۔
اور میں غم سے ہے ہوش ہوگئی۔ہوش میں آئی: اپنے آپ کو گھر میں پایار
اظہر مجھ ہے ہوش کو گھر میں بستر پر لٹا کر اور بیرونی دروازے کو تالا
لگا کر نجانے کہاں چلا گیا تھا۔ تبھی میں اٹھ کر دیواروں سے سر ٹکرائے
لگی۔ میری چیغیں پڑوس میں گئیں تو انہوں نے دیوار کے ستھسیڑھی لگالی
اور پوچھا کیا ہوا ہے؟ میں نے رو رو کر کہا۔ خدا کے لیے مجھے یہاں سے
نکالو… میں اپنے بچے دیکھنا چاہتی ہوں۔ پڑوسن بولی+ یہاں سے نکلو گی تو
کہاں جائوگی؟
پڑوسی کے دبائو پر اظہر مجھے میرے سابقہ گھر لے گیا جہاں الا ڑا ہوا
تھا۔ ناتی کے گھر بھی تال تھا۔ پژوسیوں نے بتایا کہ تمہاری نائی کا انتقال ہو
گیا تو کچھ دن ہم نے تمہارے بچوں کو سنبھلا۔ ایک دن وہ گھر سے بتائے
بغیر نکلے اور پھر واپس نہیں آئے۔ ہم نے بہت ڈھونڈاء نجاتے کدھر چلے
گئے۔
اس واقعے کو کئی برس گزر گئے ہیں مگر وہ منظر بھول نہیں پاتی جب میں
نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو سڑک پر بھیک مانگتے دیکھا تھا خدا جانے ان
پر کیاگرری اور وہ کی حال میں ہیں۔ اظہر نے مجھپر ایسی پاندیاں لگائیں
کہ انہیں تلاش بھی نہ کرسکی۔ اظہر کو اس معاملہ سے کوئی دلچسپی نہیں
تھی کہ میرے بچے مجھے ملیں ا نہ ملیں+ اس کو ان یقیموں سے کیا علاقہ۔
جن کا باپ مر گیا اور ماں بھی کھو گئی۔
جب تک جینوں گی مرتے دم تک ہے چین رہوں گی۔ یہ ایک ایسی سزا ہے
جو موت کے بعد بھی شاید ختم نہ ہوگی۔ بر عورت سے الکجا ہے جب وہ ایک
ہار ماں بن جائے۔ پھر اپنی ذات کی خوشیاں بھول کر صرف اپنے بچوں کے
اوقف کر دے اور کوئی میرے جیسی غلطی کبھی نہ کرے۔ خواہ
شوہر بوڑھا ہی کیوں نہ ہو

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open