کارحانہ قدرت کےعجیب رنگ پارٹ ١

امریکہ سے خالہ زاد کا فون آیا کہ ذکی کا نیویارک میں کورونا سے انتقال
ہوگیا ہے تو ہم سبھی سکتے میں رہ گئے۔ میرا شیر جوان بھائی بھی اس موذی
وبا کا لقمہ بن جائے گا؛ ایسا تو سوچا نہ تھا۔ لمحہ بھر کو اس اطلاع پر ہم سب
کے دل دھڑکنا بھول گئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کسی کی آواز نہ
نکل رہی تھی کہ سسکیوں نے گلے میں پھندا ڈال دیا تھا۔ اماں کا تو جیسے
کلیجہ شق ہوگیا۔ وہ جہاں کھڑی تھیں: دل تھام کر گر پڑیں۔
جب وہ امریکہ جا ربے تھے؛ سبھی نے روکا تھا کہ دیارغیر مت جائو۔ جب
اپنے وطن میں آپ کو اچھی پوسٹ کی آفر ہے تو پردیس جانا کیا ضروری ہے۔
وہ اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ کیا کہنا مگر شوق کا… نوجوانوں کے ذہن میں جب
بیرون ملک جانے کا سودا سما جاتا ہے؛ وہ پھر کسی کی نہیں سنتے۔
میرے بھائی نے تو اعلی اعزاز کے ساتھ ڈگری لی تھی۔ اپنے وطن میں ان کا
مستقبل روشن تھا۔ ان کے شوق نے پھر بھی انہیں پاکستان میں چین سے رہنے
نہ دیا۔ جن دنوں وہ امریکہ عازم سفر ہوئے۔ اپنی تایازاد سلطانہ سے ان کی
منگنی ہوگئی تھی۔ ان کی نسبت بچپن سے طے تھی اور شادی سال بعد ہونا
تھی۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ سلطانہ نے تبھی انہیں روکا
تھا کہ ابھی نہ جانو۔ ہماری شادی ہو جائے پھر چلے جانا۔
بعد میں جانا مشکل ہو جائے گا۔ اب بھی ایک موقع مل رہا ہےە اسے گنوانا
نہیں چاہتا۔ سال بعد لوٹ آئوں گا۔ تمہارے جانے سے جی ڈرتا ہے۔ کہیں عمر
بھر کا انتظار گلے نہ پڑ جائے۔ ایسی کیا بات ہو جائے گی؛ تمہیں کس بات کا
ڈر ہے؟ اس بات کا کہ کہیں ہمارے بیچ کوئی اور نہ آ جائے۔ سلطانہ نے جواب
دیا تھا۔ تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟ جبکہ میں تمہیں دھوکا دینے کے بارے
سوچ بھی نہیں سکتا۔ سلطانہ تم اس وقت سے میرے دل میں بستی ہو جب ہم
نے ہوش سنبھالا تھا۔ ایسی باتیں کرکے مجھے آزمائش میں نہ ڈالو۔ بڑی دقتوں
سے ویزا لگا ہے۔ ذکی بھائی نے ان کے رخساروں سے آنسو پونچھتے ہوئے
کہا تھا۔ سلطانہ… میرا انتظار کرنا۔ اگر سال کے دو سال لگ گئے تب بھی
انتظار کرنا۔ اور جو انتظار کرتے زمانہ گزر گیا۔ زمانہ گزر گیا تب بھی
بوڑھی ہو جائو پھر بھی انتظار کرنا تم میرا۔
تب میں نے کہا تھا ذکی بھائی خدا نہ کرے یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔
سلطانہ باجی سے… ہنس کر بولے۔ شمو بی بی میں تو اس بستی سے مذاق کر
رہا تھا جو اس دنیا میں مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے۔
بھیا جو ہستی انسان کو سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اس کے ساتھ تو بالکل
بھی ایسا مذاق نہیں کرتے۔ اکثر آپ امی جان سے بھی اسی طرح کی باتیں کر
جاتے ہیں جو ان کے دل میں کھٹک جاتی ہیں۔ بعد میں کہہ دیتے ہیں؛ میں تو
مذاق کر رہا تھا۔ بھائی جی… آپ ایسا مذاق اپنے چاہنے والوں کے ساتھ نہ کیا
کریں۔
ٹھیک ہے اب ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالوں گا۔ اب تم سلطانہ کو سنبھالو۔ اس
کو سمجھائو کہ رو کر نہیں مجھے خوشی سے رخصت کرے تاکہ بھاری دل
سے سفر پر نہ جائوں۔
وہ دوست کے پاس چلے گئے دن بھر کچھ ضروری کام کرتے رہے اور شام
کو گھر آئے۔ ہم سب کو گھر پر ہی خدا حافظ کہا۔ دوست ہمراہ تھے تبھی ہمیں
ایئرپورٹ تک لے جانا مناسب نہ جانا۔ ذکی بھائی چلے گئے اور ہم سب کو
انتظار کی تکلیف دہ گھڑیوں کے سپرد کر گئے۔
جس روز ذکی بھائی اور سلطانہ کی منگنی ہوئی تھی: امی اور تائی نے کہا تھا
الله نظربد سے بچائےە دونوں کی جوڑی خالق نے خوب ملائی ہے جہاں ایک
ساتھ جائیں گے سبھی ہمارے انتخاب کی داد دیں گے۔
ذکی بھائی کو جاتے وقت اماں نے بازو پر امام ضامن باندھ کر کہا تھا۔ دیکھو
ذکی تمہیں قسم ہے؛ امریکہ جا کر کسی بدیسی لڑکی سے شادی نہ کرلینا ورنہ
سلطانہ تمہارے انتظار میں بوڑھی ہو جائے گی مگر تمہارے تایا اس کو کسی
اور کی دلہن نہ بننے دیں گے۔ وہ میری بہو ہے اور میری ہی رہے گی۔ ہاں
اماں تمہارے سر کی قسم۔ کی بھائی نے ماں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
تب اماں کے چہرے پر بھی تیقن کا اجالا سا پھیل گیا تھا۔
ذکی بھائی ایک سال کا کہہ کر گئے تھے اور ہم نے چھ برس ایک ایک دن کر
کے کاٹے تھے۔ سلطانہ کی آنکھیں تو دروازے پر لگی رہتی تھیں۔ وہ کون سا
دن تھا جب اس نے میرے پاس بیٹھ کر ذکی بھائی کو یاد نہ کیا تھا۔ اس پر تو
انتظار کا ایک ایک پل… ایک صدی برابر تھا۔
ایک دن پھر ایسا آیا کہ خاندان بھر میں دھوم مچ گئی۔ ذکی بھائی آگئے تھے
مگر آئے بھی تو ہم سب کی خوشیوں کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے۔
ایک گوری امریکن عورت کا ہاتھ تھامے۔
اس کی صورت دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا اور اماں کا چہرہ بھی بجھ گیا تھا کہ
اب تائی اور سلطانہ کا ہم کیونکر سامنا کریں گے۔ اس بدیسی عورت کو میں
اپنے دل میں جگہ نہ دے سکی۔ میری تو آنکھیں اسے دیکھنا گوارا نہ کر رہی
تھیں مگر ذکی کی خاطر ہنس کر اس کو بٹھایا۔ وہ بھائی کی شریک حیات بی
نہیں ان کی ایک خوبصورت ننھی منی بیٹی کی ماں بھی تھی اور اس بچی کی
رگوں میں ہمارا خون دوڑ رہا تھا۔
اماں نے وہ خاندانی چندن ہار اور سونے کے کڑے جو سلطانہ کے لئے رکھے
ہوئے تھے بھائی کے مطالبے پر نکال کر اس گوری کے سامنے رکھے تو ان
کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے ذکی بھائی کے سامنے ایک آنسو نہ گرایا مگر
جب اپنے کمرے میں گئیں جی بھر کر روئی تھیں۔ انہوں نے اپنے آنسو اس
لئے چھپا لئے کہ ان کے اکلوتے بیٹے مدت بعد گھر کو لوٹے تھے۔ وہ اس کی
خوشیوں کے درمیان آنسوئوں کے پل تعمیر نہ کرنا چاہتی تھیں۔
یہ تو اچھا ہوا کہ سال قبل ابا اور پھر تایا دونونہی چل بسے تھے ورنہ ان کے
دل پر بھائی ذکی کی اس مہربانی سے جانے کون سی قیامت گزر جاتی۔
میرا حوصلہ نہ پڑتا تھا کہ تائی کے گھر جائوں۔ مدتوں راہ تکتی سلطانہ کی
سلگتی آنکھوں میں اپنے بھائی کی آمد کا مژدہ سنا کر ٹھنڈک بھر دوں یا ان
آنکھوں میں حقیقت بتا کر تپتی ہوئی ریت جھونک دوں؟ آخر اسے پتا تو لگنا
تھا۔ پہلے ان کا گھر نزدیک تھا تو ان لوگوں کو ہمارے پل پل کی خبر رہتی
تھی۔ تایا کی وفات کے بعدسلطانہ کے بڑے بھائی نے بیوی کے کہنے سے
آبائی مکان بیچ کر علیحدہ گھر خرید لیا۔ چھوٹے بہن بھائی اور ماں کو ان کے
حصے کے پیسے پکڑا دیئے کہ آپ لوگ اپنے لئے جیسا چاہیں ٹھکانہ خرید
لیں۔ میری بیوی اب آپ لوگوں کے ہمراہ رہنا نہیں چاہتی۔ تائی کا نیا مکان
ہمارے گھر سے اب کافی دور تھا۔
تائی نے بڑے صاحبزادے سے بگاڑ پیدا کرنا مناسب نہ سمجھا کہ خاندان کا
سربراہ اب وبی تھا۔ نہیں معلوم ہمارے اس بڑے تایا زاد کو میرے بھائی
صاحب کے امریکہ سے آنے کا علم تھا کہ نہیں۔ وہ ذکی کے مخالف تھے کہ
اتنا عرصہ انتظار کرایا تھا۔
سلطانہ کا یقین اب تک نہ ٹوٹا تھا۔ وہ یہی سمجھتی تھی کہ ذکی ضرور آئےگا
اور جب آئے گا تو میں اس کو کیا جواب دوں گی اگر اماں یا بھائی نے مجھے
کسی اور سے بیاہ دیا۔ پس وہ اتنی ثابت قدم تھی کہ اب کوئی اس موضوع پر
سلطانہ سے بات نہ کرتا تھا۔
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open