کارحانہ قدرت کےعجیب رنگ پارٹ 2

پہلے دو سال تک ذکی بھائی نے سلطانہ سے بھی رابطہ رکھا اور تیسرے سال
جب شادی کرلی پھر اس سے تو کیا ہم سے بھی رابطہ نہ رہا۔ ایک سال بعد
کہیں خالہ زاد کے ذریعے امی نے ذکی سے رابطہ بحال کیا لیکن انہوں نے
بھی ذکی بھائی کے بارے میں یہ نہ بتایا کہ وہاں شادی کرچکے ہیں۔ شاید
میرے بھائی نے اپنے خالہ زاد سے بھی اس امر کو چھپایا ہوا تھا۔ اب جب
انہوں نے ذکی بھائی کی وفات کی اطلاع دی تو ہم سب کے پیروں تلے سے
زمین نکال دی۔ ہم کچھ دنوں تک تو مردوں سے بدثر رہے تھے۔
ذکی بھائی جب پہلی بار فیملی کے ساتھ وطن آئے تب بھی ہمارا ایسا حال ہوا
تھا۔ سلطانہ کا کیا حال ہوا ہوگا جب اس کو پتا لگا کہ ذکی آ گیا ہے مگر اکیلا
نہیں بلکہ انگریز بیوی اور ایک سال کی بیٹی کے ساتھ آیا ہے۔ اس نے مجھے
فون کیا۔ شمو مبارک ہو اور اپنے بھائی کو بھی میری طرف سے مبارک باد
کہہ دو۔ تم نے ذکی کے آنے کی مجھے اطلاع نہیں دیء کوئی بات نہیں۔ تم حق
پر ہو۔ تمہارا کوئی قصور نہیں۔ مجھے اطلاع دیتی بھی تو کیونکر اور کس دل
سے… اتنا حوصلہ نہیں ہے تم میں… لیکن مجھے دیکھو؛ یہ خبر سن کر میں
پھر بھی زندہ ہوں۔ خوش ہوں کہ کی خوش ہے۔ خدا اسے خوش رکھے۔ وہ تو
اب میرے سامنے نہیں آئے گا مگر تم تو ملنے آجائو… مجھے گلے لگانے کو
تم آجائو گی۔ گلے لگ کر رو تو لوں گی۔میں نے کہا۔ سلطانہ میں جلد آجائوں
گی۔ تم نے سچ کہا ہے تمہارے سامنے آنے کا مجھ میں حوصلہ نہ تھا۔جب
میں سلطانہ کے پاس گئی؛ اسے دیکھ کر میری آنکھیں جان کئی کے درد میں
ڈوب کر پگھلنے لگیں۔
گلاب کا پھول: سرسوں کا پھول بنا اور چاندنی میں نہاتی ہوئی حور سی
سلطانہ آخر ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی۔ وہ چل پھر ضرور رہی تھی مگر یوں لگ
ربی تھی جیسے بستر مرگ پر سسکتی زندہ لاش ہے۔ آنسو اس کے رخساروں
سے بہہ کر میرا کندھا بھگو ربے تھے اور میں بھی رو رہی تھی مگر ہماری
آواز ہمارے اندر ہی قید سسکنے پر مجبور تھی۔کچھ دیر میں وہاں بیٹھ کر گھر
لوٹ آئی تھی۔
ذکی بھائی نے پوچھا۔ شمع کہاں گئی تھیں؟ میں نے بتایا۔ ایک پیاری سی حور
شمائل سی لڑکی تھی؛ آج وہ مر گئی ہےە اس کا آخری دیدار کرنے گئی تھی۔
بولے: کیا تمہاری سہیلی تھی۔
ہاں… میرے بچپن کی گوئیاں۔ میں نے آنسو پونچھ کر جواب دیا تو افسردہ ہو
کر کہا۔ غم نہ کروہ ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے اس کو مرجانا ہی ہوتا
ہے۔مگر ان کا کیا کہیں کہ جو جیتے جی مر جاتے ہیں۔ وہ سمجھے کہ میں
غمزدہ ہوں؛ تبھی ایسا کچھ اول فول کہہ رہی ہوں۔ تبھی امی بولیں۔ یہ تائی کے
گھر گئی تھی۔ بھائی جان کیا سلطانہ کو بھول گئے ایک بار بھی اس کے
بارے میں نہ پوچھا۔ کیا واقعی آپ اتنے سفاک دل ہیں کہ اس کا نام لینے کی
ہمت نہیں ہے۔
وہ سکتے میں آگئے۔ تم نے کیا کہا تھا کہ تمہاری سہیلی اور تم اس کا آخری
دیدار کرنے؟ کیوں اس قدر افسانوی زبان بول رہی ہو۔ سیدھے سے کہو کہ
سلطانہ کے پاس گئی تھیں تاکہ میں بھی پوچھ لیتا کہ کیسی ہے سلطانہ؟ پھر
اماں سے ذکی بھائی نے کہا تھا۔ اماں مجھے علم نہ تھا کہ یہ مشرقی لڑکیاں
واقعی اس قدر بے وقوف ہوتی ہیں۔ انتظار میں سچ مچ جان ہی دے ڈالتی ہیں۔
بھائی واپس امریکہ لوٹ گئے۔ سلطانہ نے شادی نہ کی۔ اس کی عمر ڈھلنے
لگی۔ چھوٹی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ دونوں بن بیاہتا بھائی بھی شادی شدہ ہو
گئے۔ تائی بوڑھی ہوگئیں اور اس کی پیرانہ سالی کی خدمت گزار بن گئیں۔ وہ
اب بھی مجھ سے ملتی تھی اسی پیار اور چاہت سے۔ اس کے لبوں پر کبھی
شکوہ نہ پایا۔ ہاں ذکی بھائی کی خیریت ضرور پوچھتی تھی اور میں یہی
جواب دیتی کہ خیریت سے ہوں گے۔ کم ہی فون کرتے ہیں شاید وہاں کی
زندگی ہی ایسی سردمہر ہے کہ اپنوں کی یاد کم آتی ہے۔
ایک دن بھائی کا فون آیا۔ دو چار باتیں کرنے کے بعد مجھ سے پوچھا۔ شمو…
یہ بتائو سلطانہ کیسی ہے۔ بیابی گئی یا ابھی تک میرا انتظار کر رہی ہے۔ میں
نے کہا۔ یہ اچانک آپ کو سلطانہ کا خیال کیسے آگیا؟ بولے۔ یونہی… اکیلا ہو
گیا ہوں نا تو ہر کسی کا خیال آجاتا ہے۔ اکیلے ہوگئے ہیں؟ کیا مطلب میں نہیں
تمہاری بھابی کو میں پانچ برس بی اپنے ساتھ جوڑے رکھ پایا۔ اس کے بعد وہ
خوش نہ رہ سکی۔ میں نے اس کو ہر سکھ دینے کی بہت کوشش کی مگر وہ
مزید میرے ساتھ رہنے پر تیار نہ تھی۔ آخرکار اس نے طلاق لے لی اور مرینہ
کو بھی اپنے ساتھ لے گئی۔
ایک بات بتائو بھائی کیا آپ کو بھابی سے محبت تھی جو اس سے شادی کرلی
کہ سلطانہ کا بھی خیال جاتا رہا۔ نہیں۔ مجھے اس سے محبت نہ تھی صرف
امریکہ میں رہنے اور شہریت کے حقوق پانے کے لئے شادی کی تھی۔ محبت
نہ تھی+ محض غرض تھی تو پھر بھائی جان… خسارہ تو ہونا تھا۔ سوچتا ہوں
اب لوٹ آئوں۔ اماں بوڑھی ہوگئی ہیں اور میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ ان کو میری
ضرورت ہے۔ تو آجائو نا۔ بھائی جان اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی۔ ہم
بہنوں کو بھی آپ کے آنے کا ہردم انتظار رہتا ہے۔ اور جس نے انتظار کیا ہے
اتنے ہرس کیا خبر اس کی زندگی میں بھی آپ کے آنے سے بہار آجائے۔ میں
نے سلطانہ کے بارے میں اشارہ کیا۔ہاں یہی سوچا ہے میں نے۔ تم سلطانہ سے
پوچھنا اور تائی سے بھی بات کر رکھنا۔ میں نے یہاں کچھ مسائل سلجھانے
ہیں چھ ماہ لگیں گے اور پھر میں لوٹ آئوں گا۔
چھ ماہ ابھی نہ گزرے تھے کہ خالد بھائی کا فون آگیا۔ جو پہلے دوسری ریاست
میں رہا کرتے تھے اور اب نیویارک آگئے تھے۔ تو ذکی بھائی کے قریب
ہوگئے تھے۔ انہوں نے وہ خبر دی کہ جس کی توقع تو کیاء تصور بھی کسی
نے نہ کیا تھا کہ ہمارا پیارا بھائی ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جائے گا۔
اس بار بھی سلطانہ کا سامنا کرنا مشکل تھا مگر اس کو بتانا تو تھا کہ اب بس
ہو گئی ہے تمہارے انتظار کی؛ تمہاری محبت کی ٹوٹی ہوئی کشتی مزید
موجوں کے تھپیڑے نہیں سہہ سکتی۔ دل کو سنبھالو کہ انتظار کی گھڑیاں دم
آخر تک آپہنچی ہیں۔ سب دیئے بجھا دوہ اب کہ ذکی بھائی اس دنیا سے کوچ
کر گئے ہیں۔
جب میں نے سلطانہ کو دیکھاء اس نے امید بھری نگاہوں سے میری طرف
دیکھا تھا جیسے میں اس کو کوئی خوشخبری سنانے آئی ہوں۔ مگر میں دوڑ
کر اس کے گلے لگی تو خود کو سنبھال نہ سکی اور میں نے روتے ہوئے اس
کے کان میں سرگوشی کی۔ سلطانہ؛ ذکی بھائی جان کا نیویارک میں کورونا کی
وبا سے انتقال ہوگیا ہے۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ وہ میری بانہوں میں
جھولنے لگی۔ گھبرا کر تائی کو آواز دی۔ وہ کہاں اتنی جلدی اٹھ کر آسکتی
تھیں۔ خود ہی بہ دقت تمام اسے پلنگ تک لائی۔ ناک پر ہاتھ رکھ کر سانس کی
آمد و رفت کو جانچا۔ سانس نہیں چل رہے تھے۔ سلطانہ کا انتظار ختم ہو گیا
تھا۔ گویا اس کے جیئے کا مقصد ختم ہوگیا تھا۔
وہ اپنے خالق کے پاس چلی گئی۔ میں ہاتھ ملئے لگی۔ اے کاش یہاں نہ آتی۔ اس
کو یہ خبر نہ دیتی تو شاید وہ کچھ دن اور جی لیتی لیکن… یہ بھی تقدیر کا بی
فیصلہ تھا کہ مجھ کو عشق کے دائرے سے اٹھانے کے لئے اس کے پاس آنا
ہی تھا۔
کہتے ہیں اگر زندگی کا مقصد نہ ہو تو جینا بیکار ہوتا ہے اور اگر جینے کی
امنگ نہ رہے تو زندگی؛ نہیں رہتی۔ کتنا سفاک سچ بے یہ بھی کہ محبت…
سودوزیاں سے بے نیاز ہوتی ہے۔ جنوں کو اندیشہ سودوزیاں نہیں رہتا۔ سلطانہ
کے یوں چلے جانے پر ملال تھا۔ دل مانتا نہ تھا کہ وہ جا چکی ہے۔ میرے ہبی
ہاتھوں میں اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی تھی۔ کتنی ضدی تھی وہ
بھی کہ اس دنیا میں ذکی بھائی کو نہ پا سکی تو اس دنیا سے ہی چلی گئی۔ہے
شک ملال کی جا نہیں کہ ہم سبھی کو اس جہان سے جانا ہے۔ کسی کو پہلے تو
کسی کو بعد میں لیکن موت ایک اتل حقیقت ہے اور کسی ذی روح کو اس
سے مفر نہیں ہے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *