کویٴ تو قدرداں ھو پارٹ ١

جن دِنوں میرے ماں باپ سے زندگی نے بے وفائی کی میں صرف سات برس
کی تھی۔ وہ مجھے خالہ کے پاس چھوڑ کر ایک شادی میں شرکت کے لیے
گئے تھے۔
اتی نہیں جانا چاہتی تھیں لیکن میرے والد نے انہیں بھی اصرار کر کے ساتھ
چلنے پر مجبور کیا اور بالآخر امّی کو ساتھ چلنے پر راضی کر لیا۔ میرے والد
بہت خوش تھے نیا جوڑا سلوایا۔ والدہ کے لئے خوبصورت لباس بنوایا اور
بڑے اہتمام سے عازم سفر ہوگئے۔ ان کا اصرار تھا کہ نیّرہ کو بھی ساتھ لے
چلتے ہیں۔ لیکن امّی کی چھتی جس جانے کیا کہہ رہی تھی کہ انہوں نے منع
کر دیا اور مجھے اپنی بہن کے گھر بھجوا دیا۔
ہونی ہوگئی۔ اطلاع آ گئی کہ رستے میں حادثہ ہوا ہے۔ الفاظ نہیں کہ واقعہ کی
رُوداد لکھوں۔ اس وقت جو کیفیت ہوئی بیان نہیں کر سکتی۔ بہرحال وہ کٹھن
وقت بھی گزر گیا مجھے خالہ نے اپنے پاس رکھ لیا۔ خالہ تو مہربان تھیں لیکن
خالو حددرجہ بدمزاج اور چڑچڑی طبیعت کے مالک تھے۔ خالہ بیچاری تو نباہ
رہی تھیں۔ کسی کے سامنے شوہر کا گلہ نہیں کیا لیکن جب مجھ کو مستقل یہاں
ربنے کا تجربہ ہوا تو بہت سی باتوں کا علم ہوگیا۔ خالو نشہ بھی کرتے تھے۔وہ
کم ظرف بھی تھے۔ تھوڑے پیسے دے کر خالہ سے بہت خدمت لیتے تھے۔
پہلے کبھی کبھی سامنے آتے امّی کو سلام کر کے چلے جاتے: اب ہمہ وقت
گھر پر ایک جابر حکمران کی طرح حکم چلاتے دیکھا۔ اپنے بچّوں سے بھی
ان کا رویّہ شُفیق باپ کا سا نہیں تھا۔ کسی کی عزت ان کی نظروں میں کچھ
نہیں تھی۔ ساری عزت اور احترام کا خود کو بی حق دار سمجھتے تھے۔
میری شادی خالہ نے اس عمر میں کر دی جب لڑکی نے شعور کی دبلیز پر
ابھی پہلا قدم رکھا ہوتا ہے۔ یہ عجب بات ہے کہ میرے شوہر کو مجھ سے
پہلے روز محبت بھرا سلوک کرنے کی بجائے وہ ایک واقعہ یاد آگیا جب میں
بارہ سال کی تھی۔
واقعہ یہ ہوا تھا کہ ایک روز خالہ مجھے اور اپنے بچّوں کو لے کر قریبی
پارک میں گئیں؛ چونکہ خالو کچھ روز کے لئے شہر سے باہر گئے ہوئے
تھے۔ انہوں نے موقع غنیمت جانا کہ بچُوں کو سیر کرا لائیں۔ یہ پارک گھر
سے نزدیک ہی تھا۔ بچّے وہاں جا کر خوش ہوگئے۔ خالہ کی بڑی بیٹی مجھ
سے ایک سال چھوٹی تھی۔ اسے کیا سوجھی کہ بھائی کی دو پہیوں والی
سائیکل اُٹھا لی اور پارک میں بنے ٹریک پر چکر لگانے لگی۔ وہ اپنے بھائی
کے ساتھ سائیکل چلایا کرتی تھی لہٰذا اس کو چلانا آتا تھا لیکن میں نے تو
کبھی کنعان کی کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا تھا۔
میں ایک طرف کھڑی ہوگئی۔ سات؛ آٹھ چکر لگانے کے بعد سائیکل کو میرے
قریب لے آئی اور اصرار کرنے لگی کہ چلائو نا… میں نے منع کیا۔میں چلانا
سکھاتی ہوں۔ بیٹھو تو سہی۔ اس نے ہاتھ سے پکڑا اور کھینچ کر سائیکل پر
بٹھا دیا۔ ہمت دلائی تو میں نے پیڈل پر پائوں مارنے شروع کئے؛ وہ ساتھ ساتھ
قدم قدم آگے بڑھاتی رہی۔ تھوڑا سا آگے جا کر ڈگمگانے لگی۔ اتنے میں تین
چار لڑکے ٹریک پر آ گئے: میں ان میں سے ایک سے ٹکرا گئی اور سائیکل
کے ساتھ زمین پر آ رہی۔ وہ بے تحاشہ ہنسنے لگے۔ میں شرمندہ ہو کر کپڑے
جھاڑتی اتھی؛ جس پر خوب مٹی لگ گئی تھی۔
یہ تھا وہ واقعہ جو گھونگٹ اٹھاتے ہی محسن کو پہلی رات یاد آ گیا تھا کہ یہی
تھی وہ لڑکی جو اس روز سائیکل چلاتے ہوئے ہماری سائیکل سے ٹکرا کر
گری تھی۔ ان کی بات سُن کر میرا رنگ اڑ گیا اور میں ڈر سے کانپنے لگی۔
تب ان کو احساس ہوا کہ میں نے اپنی نئی نویلی ذلہن کو یہ کیا کہہ دیا ہے۔
معذرت کرنے لگے کہ میری بات کو بُھلا دو۔ میں نے یونہی کہہ دیا۔ لڑکوں
نے بعد میں دیر تک تمہارا مذاق اُڑایا تھا۔معذرت کر کے بھی انہوں نے چبھتی
باتیں کر کے میرا دِل زخمی کر دیا۔ کتنی دیر پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی۔ انہوں
نے میری ساری اُمیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔
میں ان سے ڈرنے لگی۔ لگتا تھا کہ سبھی مرد خالو جیسے ہی ہوتے ہیں۔ یوں
مرد کا تصوّر اب میرے لئے ناپسندیدہ ہو گیا۔ پہلے روز کے اس طعنے بھرے
سلوک کے بعد اپنے شوہر سے میرے دِل کا کھنچائو ذہنی عذاب ہوگیا۔وہ جب
پیار سے بُلاتے؛ جی چاہتا ان کو جواب بی نہ دوں مگر جس کے ساتھ عمر بھر
کا بندھن بندھ جاتا ہے اس کے ساتھ ہر حال میں زندگی تو گزارنی ہوتی ہے۔
پھر میں تو ایک یتیم لڑکی تھی۔ سمجھ سکتی تھی کہ اب خالہ کے گھر بھی
میری جگہ نہ ہوگی۔
جوں جوں دن گزرتے جا رہے تھے مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہو ربی تھی کہ
میرا جیون ساتھی اتنا برا آدمی نہیں ہے۔ ایک عادت ان کی یہ تھی کہ جو دِل
میں آئے کہہ دیتے تھے چاہے کسی کا دِل دکھے یا بُرا لگے۔ ویسے وہ محبت
کرنے والے اور نرم دِل تھے۔مگر مجھ بدنصیب کا دِل محسن کی طرف مائل نہ
ہوا۔ ان کی خدمت بھی کرتی۔ ہر کام ان کا اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی۔ انہیں
تکلیف ہوتی تو پریشان ہو جاتی۔ دعا کرتی ان کو کچھ نہ ہو۔ اب یہی شخص
میرا والی و وارث تھا۔
جب محسن کو یقین ہوگیا کہ وہ مجھ کٹھور کا دِل نہیں جیت سکتاء میں اس سے
اظہار محبت میں والہانہ انداز اختیار نہیں کر سکتی تو اس نے رفتہ رفتہ مجھ
سے مایوس ہونا شروع کر دیا۔ پہلے وہ ملازمت سے آکر سارا دن گھر میں
رہتا تھا۔ اب بابر رہنے لگا اور رات دیر سے گھر آنے لگا۔ میں کم عقل پھر
بھی نہ سمجھی کہ اس کا انجام کچھ غلط بھی نکل سکتا ہے۔قدرت نے اس
عرصے میں مجھے اولاد کی نعمت سے بھی نہ نوازا۔ گھر میں تنہائی؛ دِل میں
تنہائی۔
یہ عجیب بات تھی کہ اب محسن دیر سے گھر آتے تو پریشان ہوجاتی۔ سخت
بوریت محسوس کرتی: پاس پژوس میں جانے کی عادت نہ تھی۔ خُدا جانے
میری کیسی طبیعت تھی۔ کم ہی خالہ کے گھر جاتی حالانکہ محسن منع نہیں
کرتے تھے۔ جب پوچھتے۔ میکے جانا ہے۔ لے چلوں؛ جواب دیتی۔ مجھے تو
اپنے گھر میں سکون ملتا ہے۔
میری کوئی ساس نندہ دیور نہیں تھے۔ محسن صبح دفتر چلے جاتے تو گھر
کے کاموں میں لگ جاتی۔ کام ختم ہو جاتا تب تنہائی کا احساس ہونے لگتا۔
گھڑی پر نظریں بار بار جاتیں۔.. پتا نہیں یہ شوہر سے محبت تھی کہ نفرت
تھی۔ مجھے کبھی اس بات کی سمجھ نہ آ سکی۔ وہ آ جاتے تو پھر ویسی بن
جاتی: اجنبی سی بے نیاز سی۔ میں اپنے سرد رویے کے باوجود ان پر بھر پور
اعتماد کرتی تھی کہ وہ میرے ہیں؛ کسی ذوسری عورت کی جانب متوجہ نہیں
ہو سکتے۔ وہ واقعی شریف آدمی تھے لیکن شوہر کو کبھی کبھی نادان بیویاں
اپنی خودپرستی کی عادت کے باعث کھو دیتی ہیں اور پھر موردِ الزام بھی ان
ہی کو ٹھہراتی ہیں۔ اپنی ذات کے خول میں اتنی مگن رہتی ہیں کہ نہیں سوچتیں
کہ کبھی پانسا پلٹ بھی سکتا ہے۔
مینمحسن کا پورا خیال رکھتی تھی۔ جب آتےە وقت پر گرم کھانا لیکن ٹھنڈا
رویہ رکھتی۔ تمام وقت ان کے گھر ہوتے یوں چُپ پھرتی جیسے مجھے سانپ
سونگھ گیا ہو۔ بر بات کی ایک حد ہوتی ہے ان کے صبر کی بھی ایک حد تھی۔
بالآخر انہوں نے ذوسری شادی کا فیصلہ کرلیا۔ اولاد تو ہماری تھی نہیں کہ
کشمکش کا شکار ہوتے۔ نہایت خاموشی سے یہ قدم اُٹھا لیا۔ جس لڑکی سے
نکاح کیاء اُس کو گھر نہ لائے اس کے والدین کے پاس رہنے دیاء سمجھا دیا کہ
پہلی بیوی کو رضامند کر لوں تو گھر لے جائوں گا۔ انہوں نے بھی اس
مجبوری کا سُن کر کہ اولاد کے لئے ذوسری شادی کر رہے ہیں بیٹی کا رشتہ
‎دےدیا۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *