کویٴ تو قدرداں ھو پارٹ ۲

یہ تو قدرتی بات ہے کہ جب مرد کی زندگی میں کوئی نئی عورت آجاتی بےتو
پہلی بیوی سے ذوری ہو جاتی ہے وہ بھی مجھ سے ذور ہوتے گئے۔ پہلے دیر
سے گھر آتے تھے اب رات گئے آنے لگے تب میں نے شکوہ کیا کہ دو بجے
رات کو آتے ہو… میں اکیلی ہوتی ہوں ڈر لگتا ہے۔ آپ ایسا کیوں کرتے ہو۔
بولے تمہیں تو میری رفاقت سے خوشی نہیں ہوتی لیکن مجھے تو رفاقت
چاہیے۔ میں بالکل نہیں سمجھی۔ کہا کہ ذوسری شادی کا آرزومند ہوں۔ اگر تم
کو بُرا نہ لگے تو اجازت مانگ رہا ہوں۔ تمہاری زندگی اور حقوق میں فرق نہ
آئے گا جیسے اب ہر شے پوری کرتا ہوں۔ کرتا رہوں گا۔ دل کو دھچکا تو لگا
لیکن… انا کی ماری کے منہ سے یہ الفاظ ہی نکلے۔ کرنا ہے شادی تو کر
لو… تمہاری خوشی اسی میں ہے تو میں کیوں روکوں گی؟ سمجھ رہی تھی
ایسے ہی کہہ رہے ہیں۔ کیا خبر تھی کہ وہ شادی کر بھی چکے ہیں… میرا
ذہن ہموار کر کے اب اسے گھر لانا چاہتے تھے۔
ایک روز مستری لائے اور اُوپر والا کمرہ اسٹور اور چھت وغیرہ صاف کروا
کر فرنیچر جو ٹھیک حالت میں تھا اُسے کمرے میں سیٹ کروایا اور پردے
وغیرہ لا کر لگا دیئے۔ اسٹور خالی کیا اور اس کے نیچے دیوار اٹھا کر دو
چھوٹے چھوٹے کمرے بنا دیئے۔ ایک میں چولہا رکھا اور دوسرے کو اسٹور
بنا دیا۔ میں نے پوچھا… یہ سب کیوں کر رہے ہو۔ کیا کرایے پر اٹھا رہے ہو۔
کہا نہیں مہمان خانہ الگ سے بنایا ہے۔ کبھی ذور کے مہمان بھی آ جاتے ہیں۔
سیڑھی علیحدہ صحن سے نکلتی تھی۔ پورا پورشن تیار ہوگیا۔ میں خاموشی
سے سب دیکھتی رہی کیونکہ میری زیادہ بات کرنے کی عادت تھی نہیں۔ سوچا
جو مرضی کریں… مجھے کیا… میرے لئے تو نیچے کا گھر ہی کافی ہے۔
کچھ دنوں بعد بولے۔ تم نے اجازت دی تھی سو میں نے اپنی خالہ کی بیٹی
سے شادی کر لی ہے۔ خالہ بہت بیمار ہیں۔ انہوں نے التجا کی کہ تمہاری اولاد
نہیں ہوئی اور میری لڑکی کا رشتہ ابھی تک نہیں ہوا۔ کینسر کی تیسری اسٹیج
ہے۔ میرے پاس اب زیادہ مہلت نہیں ہے۔میں ان کو روتے نہ دیکھ سکا۔ میری
ماں کی بہت پیاری بہن ہیں سو میں نے ان کی بیٹی زرتاشہ سے شادی کر لی
ہے۔ یہ خبر سٰن کر میں اندر سے ہل کر رہ گئی۔ ایسا تو سوچ بھی نہ سکتی
تھی۔ کبھی کبھی انسان جو بات سوچتا تک نہیں وہ اچانک ہو جاتی ہے تو ذات
کے اندر بھونچال آ جاتا ہے۔ میری ذات جھیل کی طرح ٹھہری ہوئی تھی اور
برسوں سے شوہر سے محبت کے موتی اور مونگے اس کی تہہ میں ہے
حرکت پڑے ہوئے تھے۔ اس میں بھونچال آگیا۔ پہلے تو کانوں کو یقین نہ آیا ان
کے پاس سے اتھکر ذوسرے کمرے میں جا لیٹی اور دوپٹہ آنکھوں پر رکھ لیا۔
محسن میں بھی ہمت نہ ہوئی کہ میرے پیچھے آجاتے۔ جہاں بیٹھے تھے وہیں
بیٹھے رہ گئے۔ گھنٹے بعد کمرے میں جھانکا جہاں میں لیٹی ہوئی تھی… لیکن
میرے پاس آنے کی ہمت نہ کی اور گھر سے باہر چلے گئے۔ اس روز وہ آئے
ہی نہیں۔
اگلے دن اتوار تھا۔ ناشتے کے بعد آئے لیکن اکیلے نہیں۔ اپنے اُس خاص مہمان
کے ساتھ جس کے لئے أوپر کا پورشن ٹھیک کیا تھا۔ گیٹ کی چابی ان کے
پاس تھی۔ گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔ مہمان کو لئے صحن سے سیڑ ھیاں چڑھ
کر أوپر چلے گئے۔ کچھ دیر بعد نیچے اُترے اور میرے پیروں پر ہاتھ رکھ دیا۔
کہا کہ تمہارے لئے نوکرانی لایا ہوں۔ مجھے معاف کر دو۔ میں تمہاری
سردمہری کی اذیت آٹھ سال سے سہہ سہہ کر اب ختم ہونے لگا تھا۔ میں نے ان
کے ہاتھ اپنے پیروں پر سے ہٹا کر کہا۔ کوئی بات نہیں۔ ہر انسان کی خوشی وہ
جیسے جیئے۔ مردوں کو کسی نے لگام دی ہے؟ تم مجھ سے بہت خفا ہو۔ خفا
ہونا تو میرا مسئلہ ہے۔ تمہاری بیوی ہوں؛ بیوی رہوں گی کیونکہ میرا اور
کوئی ٹھکانہ نہیں نہ میکہ ہے۔ تم نے شادی کر لی اپنی منشا پوری کرلی لیکن
اب اس کو نیچے مت لانا۔ مجبوری ہے کہ ہر حال تمہارے ساتھ رہنا ہے اگر تم
دوسری بیوی سے خوش اور مطمئن ہوء بس مجھے کوئی مسئلہ نہ ہونا چاہیے۔
اللہ چاہے گا تو اولاد کی خوشی بھی دیکھ لو گے۔ یہ خوشی میں تو تم کو نہیں
دے سکہی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوںء لیکن اس کو نیچے مت لانا۔
اب وہ ایک رات زرتاشہ کے پاس ہوتے ایک رات میرے پاس۔ نیچے آ رہتے
ان سے بات نہ کرتی میرے دِل میں غم و غصہ اتنا تھا کہ اظہار کرتی تو در و
دیوار ہل جاتے لیکن میری چُپ کی عادت نے پردہ رکھ لیاء میری آنا کا۔ اب یاد
آتا کہ ہمہ وقت کتنے پیار سے بُلاتے تھے ”’نیّرہٴ ادھر تو دیکھو… گھر میں
بی عید کا چاند بن گئی ہو کہاں چُھپ جاتی ہو؟ یہ تمہاری چُپ تو مجھے ڈڈس
لے گی۔ کبھی کبھی کہہ دیتی یہ کیا بر وقت لاڈ کرتے رہتے ہو۔ مجھ کو یہ
سب اچھا نہیں لگتا۔ مجھے تمہاری یہ ہر وقت کی شوخیاں اچھی نہیں لگتیں۔
کمال ہے بھئی اپنی بیوی کے ساتھ شوخیاں نہ کروں تو کس سے کروں۔
دراصل وہ جس قدر شوخ مزاج تھے میں اُن کی اُلٹ تھی۔ اب شاید میرے اندر
کی عورت جاگی۔ سوتن کو سر پر بٹھا کر جی چاہتا وہ پہلے جیسے ہو جائیں
شوخ مزاج اور چُلبلے۔ ہر دم مجھے دیکھا کرتے جہاں ہوتی آجاتے, باورچی
خانے میں… صحن میں کپڑے دھو رہی ہوتی تو قریب کرسی ڈال کر بیٹھ
جاتے فقرے بازی کرتے۔ میرے ساتھ ساتھ رہنے کی کوشش کرتے جیسے
پردیس سے آئے ہوں۔ ہر وقت میرے دیدار کے پیاسے ہوں اور میں بے نیاز ہو
جاتی… کسی بات کا جواب ہی نہ دیتی… منہ پھیر کر اپنے کام میں لگی رہتی۔
شوہر کے یہ چونچلے مجھے پسند نہیں… کام کرنے دو۔
وہ دن اب گزر چکے تھے اور جو چیز گزر جائے وہ واپس نہیں آتی۔ لاکھ
پکارو… وہ کہیں ماضی میں کھو جاتی بے صرف یاد کی پرچھائیاں باقی رہ
جاتی ہیں۔ اب جی چاہتا میں انہیں بُلائوں: منائوں؛ اوپر کی منزل پر جانے ہی
نہ دوں۔ رنجیدہ رہنے لگی۔ منتظر منتظر سی ہمہ وقت ان کی طرف دیکھتی۔
آنکھیں جیسے التجا کرتی ہوں پہلے جیسے بن جائو۔ سوچا کہ شاید رقابت اِسی
شے کا نام ہے۔ دل کی ایک گہری اور نامعلوم تکلیف کا… وہ باتیں کرتے تو
چھت سے آواز سُنائی دیتی صحن میں اپنے کانوں میں أُنگلیاں دے لیتی۔ أن
کی ہنسی سٰن کر ایسا احساس ہوتا جیسے کوئی سُن بدن میں چٹکیاں لیتا ہو۔
آبستہ آبستہ میرے اندر کی برف پگھل گئی۔ محسن کے مزاج میں میرے ساتھ
تبدیلی آگئی؛ اب ذوسری کے ساتھ وہی شوخیاں؛ چھیڑچھاڑ جیسی پہلے میرے
ساتھ کیا کرتے تھے۔ ان کے ایک ساتھ ہنسنے کی آواز میرے دماغ پر تازیانہ
بن کر لگتی تھی۔ پھر ایک حیرت انگیز تبدیلی مجھ میں ہوئی۔ میرے اندر کی
ُنیا ہی بدل گئی جیسے کہ اب محسن کی ذنیا بدل گئی تھی۔ میرے اندر کی
عورت جاگ اُتھی: میں لمحہ لمحہ جل بُھن کر راکھ ہونے لگی۔ مجھے اعتراف
ہے کہ زیادہ دن تک اس ذُکھ کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
خالہ کے گھر سے فون آیا کہ خالو جان فوت ہوگئے تھے۔ غم کو اظہار کا بہانہ
چاہیے تھا۔ دھاڑیں مار مار کر روئی جیسے ضبط کا بند ٹوٹ گیا ہو۔ محسن کی
چھٹی تھی وہ گھر پر بی تھے… انہوں نے روتے دیکھ کر مجھے گلے لگا لیا۔
بولے۔ چلو چلیں؛ خالہ کے گھر۔ وہ مجھے لے کر آگئے لیکن رات کو واپس
گھر چلے گئے۔ ان کی چھوٹی بیگم اکیلی تھی۔
میں خالہ کے یہاں رہ رہی تھی وہ آتے دو گھڑی بیٹھ کر چلے جاتے۔ کہتے
جتنے مرضی رہ لو۔ جب کہو گی کہ گھر چلنا ہے لے چلوں گا۔ دن گزرتے
گئے خالو کا چالیسواں بھی ہوگیاء میں نہ گئی۔ پوچھا کب تک رہو گی۔ اب گھر
چلو۔ ابھی نہیں جائوں گی۔ بہو بیٹیاں سب اپنے اپنے گھروں کو چلی گئی ہیں۔
خالہ اکیلی ہیں۔ ان کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔ چھ ماہ چکر لگاتے رہے میں نہ
گئی۔ بالآخر کہا کہ جب آنا ہو فون کر کے آنا۔ گھر میں اب میرا جی نہ لگے گا۔
انہوں نے اصرار کیا لیکن میں نے انکار کیا وہ چلے گئے۔ بولے۔ تمہاری
مرضے۔ میں نے تم سے کبھی زبردستی نہیں کی: یہاں رہنا چاہتی ہو تو رہو۔
پتا چلا کہ زرتاشہ بیٹے کی ماں بن گئی۔ فون پر خود محسن نے بتایا۔ میں نے
ٹوٹے ہوئے دِل سے مبارک باد دی۔ لیکن یہ نہ کہا کہ آ کر لے جائو۔ میں
تمہارے بچّے کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ اس عورت کے بچّے کو گود میں کیسے
لوں گی جس نے میرا شوبرء میری راجدھانی بانٹ لی تھی۔ مجھے لگا کہ اب
میں بٹی ہوئی زندگی نہیں گزار سکتی۔ مجھے اس مکمل ہنستے بستے گھر
سے ایک طرف ہو جانا چاہئے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب بقیہ زندگی
خالہ کے ساتھ گزار دوں گی۔ وہ اکیلی ہوگئی ہیں۔ بیٹوں نے علیحدہ گھر لے
لئے۔ اولاد والی ہو کر بھی اکیلی تھیں۔ مجھے سمجھاتیں۔ بیٹی اپنے گھر چلی
جائو؛ تمہارا شوبر بہت اچھا ہے اولاد نہ ہونے کے سبب ذوسری شادی کر لی
ہے۔ تم کو تو اچھا رکھا ہوا ہے۔ وہ حق پر ہے تم حقیقت سے سمجھوتا کر لو۔
مجھے دیکھو اور بڑھاپے کے بارے میں سوچو۔ میں تو پھر اولاد والی ہوں۔
میرے بچّے آتے رہتے ہیں۔ تم کیا کرو گی۔ میں نے کہا۔ بڑھاپا آئے گا تو دیکھا
جائے گا۔
بڑھاپا آگیا ہے اور خالہ بھی وفات پا چکی ہیں۔ میں نے بڑھاپے کے آگے
گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ اب تو وہ جذبے بھی باقی نہیں رہے۔ خالہ کی وفات پر
محسن آئے تھے۔ دس سال خالہ کی وفات کے بعد ان کے گھر رہی۔ آخر ایک
دن تنہائی اور ضعیفی سے گھبرا کر محسن کو فون کر دیا کہ آ کر لے جائو۔
اب مجھ سے اکیلے نہیں رہا جاتا۔ وہ لینے آگئے۔ کہنے لگے۔ میں تو اب تک
تمہاری قدر کرتا ہوں۔ تم سے پیار کرتا ہوں۔ تم ہی مجھے نہ سمجھ سکیں۔
وہ ذوسری بیوی اور بچوں سے میرا آدب کرواتے ہیں۔ تمام کام زرتاشہ اوران
کی بیٹیاں کرتی ہیں۔باپ نے ایسی تربیت دی ہے کہ سوتیلے بچّے میری خدمت
کرتے ہیں۔ خیال رکھتے ہیں۔ زرتاشہ بھی خیال رکھتی ہے۔ میں سارا دن اپنے
کمرے میں لیٹی ماضی کو یاد کرتی رہتی ہوں۔ اب پتا چلا کہ سگے ہوں یا
سوتیلے شوہر اچھا ہو تو سارے رشتے قابل قدر ہوتے ہیں۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *