ایسی بھی ہوتی ہیں لڑکیاں پارٹ ١

ہم گھر کے کل تین افراد تھے۔ تینوں ہی ان دنوں بہت پریشان تھے۔ بھائی جنید
اور میں نے ایک ساتھ گریجویشن مکمل کی۔ عمروں کا فرق تو زیادہ نہ تھا
لیکن عقل میں ضرور فرق تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب کوئی کمانے والا نہ
رہا تو ہم دونوں بہن بھائی فکر نان شبینہ میں الجھ کر رہ گئے۔ میں نے بھائی
کو صلاح دی کہ دونوں مل کر نوکری ڈھونڈتے ہیں۔ گھر کا گزارہ تو چل پڑے
گا۔
بھائی روزانہ اخبار اپنے ایک دوست کی دکان سے لے آتا اور میں اس میں
نوکری کےلئے خالی اسامیوں کا کالم باقاعدگی سے پڑھتی۔ ایک روز ایک
اشتہار پر نظریں ٹھہر گئیں۔محکمہ تعلیم میں کچھ اسامیاں نکلی تھیں۔ میں نے
جنید سے کہا کہ بھائی ہم دونوں یہاں درخواست دے دیتے ہیں۔ انٹرویو کے
لئے بھی اکٹھے چلے چلیں گے… کیا خبر دونوں میں سے ایک کو ملازمت
مل جائے یا کہ قسمت نے یاوری کی تو دونوں ہی کامران ہوجائیں۔
ان دنوں شہر میں کرائے کا مکان تھا اور کرایہ تین ماہ سے ادا نہ ہو پایا تو
مالک مکان نے گھر خالی کردینے کا نوٹس دے دیا تھا۔ یہ آخری ہفتہ چل رہا
تھا۔ اس کے بعد یا تو کرایہ ادا کرنا تھا یا سامان اٹھا کر یہاں سۓ کوچ کرجاٹا
تھا۔
اتفاق کہ ہفتے کے آخری دن پیر کے روز انٹرویو تھا۔ اب پریشانی بڑھ گئی…
فیصلہ یہ ہوا کہ صبح انٹرویو سے پہلے امی جان کو گائوں جانے والی بس میں
سوار کرادیں جہاں ہمارے والد کا آبائی گھر موجود تھا۔ شام کو ہم گائوں چلے
جائیں گے کیونکہ شہر میں رہنے کا اور تو کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
اسی پروگرام کے تحت ہم پیر کے روز بہت صبح؛ گھر سے والدہ سمیت نکلے۔
انہوں نے ساتھ صرف اپنے کپڑوں کا ایک بیگ لیا تھا جو بھائی نے بس کی
چھت پر رکھوا دیا اور کنڈیکٹر کو ہدایت کردی کہ والدہ کو گائوں والے اڈے
پر اتارے اور ان کا بیگ بھی اتار کر ان کے حوالے کرلے گا۔
یہ ذمہ داری ادا کرنے کے بعد ہم نے رکشہ لیا اور مذکورہ آفس انٹرویو کے
لئے پہنچ گئے۔ذرا دیر بعد انتظارگاہ والا ہال امیدواروں سے بھر گیا۔ کچھ دیر
بعد باری آگئی کہ کمرے سے باہر نکلے۔کیسا رہا۔ اس نے مجھ سے پوچھا۔
اچھا رہا اور تمہارا؟ میرا بھی اچھا رہاء لیکن۔لیکن کیا۔مجھے انٹرویو لینے
والوں کے رویئے سے لگا کہ وہ ہم کو سرسری لے رہے ہیں۔ ان کو ہماری
قابلیت سے کوئی سروکار تھا اور نہ دلچسپی۔ابھی ہم باتیں کر رہے تھے کہ
سامنے والی عمارت سے ایک صاحب جو ادھیڑ عمر تھے آتے دکھائی دیئے۔
وہ اسی طرف آرہے تھے جہاں ہم کھڑے باتینکر رہے تھے۔ قریب آئے تو
صورت جانی پہچانی لگی۔ وہ بھی ٹھٹھک گئے اور غور سے ہمیں دیکھنے
لگے۔ پھر مخاطب ہوئے۔ آپ لوگ اسفندیار کے بچے تو نہیں؟
جی ہاں۔ والد مرحوم کا نام سن کر ہم چونک گئے۔ میں نے ذہن پر زور دیا…
یاد آگیا چھوٹی سی تھی کہ یہ والد سے ملنے آیا کرتے تھے اور ہم ان کو چچا
منور کہا کرتے تھے۔آپ منور چچا تو نہیں؟ میں نے یقین اور بے یقینی کے
ملے جلے لہجے میں پوچھا۔ ہاں ہاں۔ تمہارے ابا کا بچپن کا دوست ہوں: گھر آیا
کرتا تھا۔ اب وہ کیسا ہے؟ عرصہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ میں ٹریننگ پر
ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ واپس آیا تو دفتری امور کے جھمیلوں میں الجھ
گیا۔ابا کا تو پچھلے سال انتقال ہوگیا۔
اف۔ وہ افسردہ ہوکر بولے۔مجھے کچھ اطلاع ہی نہیں۔ کچھ دیر تاسف میں
رہے؛ پھر پوچھا۔بچوں تم لوگ یہاں کیسے آئے ہو؟ چچا آج انٹرویو تھا۔ ملازمت
کی تلاش ہے۔ ہم دونوں نے ابھی انٹرویو دیا ہے۔ کیسا ہوا ہے انٹرویو۔کافی
اچھاء مگر امید نہیں لگ رہی کیونکہ سفارش نہیں ہے۔ اسامی والا اشتہار ہے
تمہارے پاس؟ وہ مجھے دکھائو۔ یہاں کے ہر آدمی سے سلام دعا ہے۔ لیکن
میرے کہنے سے تم دونوں میں سے ایک کو ہی ملازمت مل سکے گی۔ دو کی
ایک ساتھ سفارش نہیں کر سکتا کہ تم آپس میں بہن بھائی ہو۔
چچا نے پوچھا۔ بیٹا تم لوگ کیا اسی گھر میں رہتے ہو جہاں پہلے رہتے
تھے۔نہیں چچا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد سرکاری مکان چھوڑنا پڑا تو
کرائے کا ایک چھوٹا سا گھر لے لیا تھا۔ آج وہ بھی خالی کرنا ہے۔ارے تم لوگ
تو بہت مشکل میں ہو۔ اچھا اب ایسا کرو کہ اس وقت دونوں میرے ساتھ میرے
گھر چلو۔ آرام کرلو۔ صبح جا کر سامان پیک کرکے بھجوا دینا اور تقررنامہ
ملنے تک شہر میں رہو۔ یہ مرحلہ طے کر کے ہی والدہ کی طرف جانا۔دل تو
ہمارا بھی یہی چاہ رہا تھا کہ آرام کرلیں۔ اماں صبح سویرے چلی گئی تھیں۔ جا
کر کھانا بھی خود پکانا تھا۔کچھ حیل و حجت کے بعد ہم ان کے ہمراہ چلے
آئے۔
آج پہلی بار ان کی بیوی کو دیکھا۔ کم عمر اور بہت خوبصورت تھیں۔ منور
چچا سے یقیناً پندرہ برس تو چھوٹی ہوں گی۔ مجھے وہ میرے برابر لگیں جبکہ
چچا ابا کے بچپن کے ساتھی تھے۔ یہ ان کی دوسری بیوی تھیں۔ پہلی کا انتقال
ہوگیا تھا۔ تین بچے چھوڑ کر فوت ہوگئیں اور یہ تینوں چھوٹے چھوٹے تھے۔
پہلے تو چچا کی والدہ نے پالا… ان کا بھی انتقال ہوگیا تو بچوں کی خاطر
ایک غریب گھرانے سے یہ بیوی بیاہ لائے۔ انہوں نے اچھا عہدہ اور مالدار
گھر دیکھ کر عمر رسیدہ سے بیاہ دیا۔ لیکن لڑکی یہاں ابھی تک ذہنی طور پر
ایڈجسٹ نہ ہوئی تھی آگے سے مرحومہ سوتن کے تین بچے بھی سنبھالنے
پڑگئے۔ ان کا مختصر سا احوال ہمیں پہلے ہی دن معلوم ہو گیا۔ چچا نے ہمارا
تعارف تفصیل کے ساتھ اپنی بیگم سے کرایا۔
(جار یىی بے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *