ایسی بھی ہوتی ہیں لڑکیاں پارٹ ۲

ان کا نام جہاں آرا بیگم تھا۔ اگلے دن ناشتے کے بعد جب ہم نے جانے کے لئے
اجازت طلب کی تو چچا مجھ کو تسلیاں دینے لگے۔ کہا کہ جنید کی ملازمت تو
میرے ذمے ہے لیکن تم گھبرانا نہیں تمہاری بھی کہیں نہ کہیں نوکری کا
بندوبست ہو جائے گا۔ اسی دن شام کو میں اور بھائی دونوں لاری پر سامان
ر+ھوخردمںگق و کتسٴوو تر فرمنق ہوتد ضر کوججاتر
قاصد بھجوایا کہ تم لوگ جلد واپس آئو۔ جنید کو تقرری نامہ ملنے والا ہے اور
سعدیہ کی ملازمت کے لئے بھی کوشش میں ہوں۔ جب انٹرویو ہوگا تو اس کی
موجودگی لازمی ہوگی۔ پیغام ملنے ہی ہم دونوں بہن بھائی شہر روانہ ہوگئے۔
جنید بھائی کا تقرری نامہ نکلا ان کو میڈیکل کے بعد سروس جوائن کرنی تھی۔
وہ صبح جاتے اور اپنے ضروری کام کرکے آجاتے۔ میں گھر پر چچی کے
ساتھ ہوتی۔ میری ان سے خوب دوستی ہوگئی۔ کافی زندہ دل اور باتونی خاتون
تھیں۔ اپنائیت سے رکھا اور بہت خیال کرتی تھیں۔ میں بھی کام میں ان کا ہاتھ
بٹانے کی حتی الامکان کوشش کرتی ۔
ایک در ن جبکہ بھائی نے کرایہ کا مکان ڈھونڈ لیا۔ چچا منور نے بتایا کہ وہ کچھ
عرصے کےلئے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ کہنے لگے۔ تم لوگ یہاں ہی رہو۔
میں آجائوں تو پھرچلے جانا۔ میرے پیچھے جہاں آراء اور بچے اکیلے ہوں
گے۔ ان کا احسان ہم پر تھا لہٰذا بھائی گائوں نہ گئے۔ یوں بھی نئی نوکری تھی۔
ان کو چھٹی نہ مل سکتی تھی۔ میں اکیلی گائوں چلی گئی۔ وعدہ کیا کہ اماں کے
ٹھیک ہوتے ہی جلد واپس لوٹ آئوں گی۔ ابھی جنید کی تنخواہ بھی کم تھی۔
سوچا فی الحال یہیں رہتا رہے تو اچھا ہے۔
منور چچا بیرون ملک چلے گئے۔ ہم جہاں آراء کے پاس تھے۔ اس کو کوئی
تکلیف نہ تھی۔ مجھ کو بھی گائوں جانا پڑا لیکن چند دن کےلتے پھر واپس آجاتا
تھا۔ ان دنوں جہاں آراء چچی امید سے تھیں۔ چچا کے بیرون ملک جانے کے
فوراً بعد انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ میں پاس تھی۔ ہم سے ان کو بہت
سہارا ملا۔چند دنوں کے لئے والدہ بھی آگئیں لیکن وہ ایک ماہ رہ کر گائوں
لوٹ گئیں۔ اب چچی کی یہ کوشش ہوتی کہ ہم ان ہی کے پاس رہیں اور گائوں
جانے کا نام نہ لیں۔ تبھی میں کبھی شہر تو کبھی گائوں امی کے پاس چلی جاتی
لیکن جنید بھائی کو تو ملا‌زمت کے باعث یہاں ہی رہنا تھا۔ جوں جوں وقت
گزر رہا تھاء جہاں آراء یہ چاہتی تھی کہ جنید دفتر سے سیدھا گھر آجایا کرے
تاکہ اس کو ہر لمحہ تحفظ کا احساس رہے۔ چچا دوسال کے لئے گئے تھے۔ ان
دو سالوں میں وہ ان کی جدائی کی عادی ہوگئی۔
دوسال بعد چچا آگئے۔ جنید نے کرائے کا گھر تلاش کرلیا اور ہم امی کو بھی
گائوں سے لے آئے۔ جہاں آراء اور بچوں کو چچا کے سپرد کر کے ہم اپنے
گھر منتقل ہوگئے۔ چچی ہمارے جانے سے بہت اداس تھیں۔ لگتا تھا جیسے کہ
ان کی دنیا الٹ گئی ہو۔ میں نے تسلی دی کہ چچی خوش ہو جائیں۔ آپ کے
جیون ساتھی واپس آگئے ہیں۔ ہم آپ کے پاس آتے جاتے رہیں گے۔کہنے
لگیں۔یہ بات نہیں کہ میں ان کے آنے سے خوش ہوں یا اداس ہوںە بات تو یہ
ہے کہ اب میں ان کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتیمچچی آپ کو دنیا کی ہر شے
اور آرام میسر ہے شوہر کی محبت بھی۔ آپ کیوں پھر اتنی ساری نعمتوں کو
ٹھوکر مارنا چاہتی ہیں۔ بولیں۔تم مجھے چچی نہ کہوء جہاں آراء کہو۔ میں
تمہارے بھائی جنید کے ساتھ شاد ودکے ایکشوسیوگؤگ ارتا
چاہتی ہوں۔ بس اب یہی میرا خواب ہے۔
جہاں آراء کی بات سن کر میں لزر گئی۔ جہاں آراء کا انکشاف میرے لئے کسی
قیامت سے کم نہ تھا۔ آخر آپ کو ہو کیا گیا ہے جہاں آرا چچی… ایک بچے کی
ماں بھی بن چکی ہیں چچا کے تین بچوں کو پالا ہے۔ آپ سے وہ معصوم پیار
کرنے لگے ہیں۔ اچانک کیا ہو گیا ہے۔ آپ کو؟مجھے منور سے محبت نہیں
رہی۔ اس کا ایک ہی جواب تھاکہ انسان محبت کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا
کیا آپ اپنے بیٹے کے بغیر زندگی گزار سکتی ہیں۔ میں بار بار یہ حقیقت یاد
دلاتی تو وہ گھبرا کر اپنی دنیا میں پھر سے پلٹ جانے کا عزم کرلیتیں۔
جنید بھائی نے بھی اس عورت کی دیوانگی کو محسوس کرلیا اور ان کے گھر
باوجود منور چچا کے اصرار کے نہیں جاتا تھا۔ تب جہاں آراء خود ہمارے
پسھمن۔ سسجت ھچ و شی
بات پڑگئی۔ بھائی نے دامن چھڑانے کو اس کے ساتھ پہلے کی طرح بات کرنا
چھرڑائوں میں ٹے بہت لوم الم سجھائی۔ و غلبی یات کی ماائے پر آمللہ کہ
تھی۔
اس کا روز آجانا ہمارے لئے اذیت ناک ہوگیاء تب ایک دن جانا چھڑانے کو میں
نے کہہ دیا۔ جہاں آراء دیکھو۔ اگر تم اتنی ہی اپنے جذبہ میں سچی ہو تو پھر
شوہر سے جا کر ہر بات صاف صاف کہہ دو۔ ہمارے چچا کو اس طرح دھوکا
مت دو۔ وہ ہمارے محسن ہیں۔ اگر طلاق دے دیں تو پھر آجانا.. میں تمہاری
شادی اپنے بھائی سے کروا دوں گی۔میں سمجھ رہی تھی کہ اس پر وقتی دورہ
پڑا ہے۔ ذرا سوچے گی تو دماغ ٹھکانے آجائے گا۔ کبھی چچا سے ایسی بات
کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی ۔ .. اورنہ کرے گی۔ایک عورت کا اپنے شوہر
سے ایسی بات کہنا ایک مشکل امر تھا۔ یقین تھا کہ وہ کبھی شوہر کو یہ نہیں
کی متس جو تھے کسی آجاای کرای
جنید بھائی نے اپنے دفتر میں کام کرنے والی ایک لڑکی کو پسند کرلیا۔ اپنی
پسند سے مجھے اور امی کو آگاہ بھی کردیا۔ جہاں آراء ان ساری باتوں سے
بے خبر اپنے گھر کا سکون تلپٹ کئے رہی۔ شوہر سے لڑتی جھگڑتی رہی اور
آخرکار وہ طلاق پر منور چچا کو آمادہ کرکے آگئی۔ میں دنگ رہی گئی جس
بات کو ایک کبھی نہ سلجھنے والی گتھی جان کر میں نے اس کو الجھا دیا تھا۔
اس نے اس آگ کے دریا کو بھی پھلانگ لیا۔ اپنا چھوٹا سا بچہ بھی چچا کے
پاس چھوڑ دیا۔ یہ تم نے کیا کیا جہاں آراء؟ میں نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ اتنے
سے بچے کو کس بات کی سزا دی ہے تم نے؟ جائو اور جاکر اس کو لے
آئو۔تب ہی تم خود چین سے رہ پائوگی۔
ایک اور الجھائو میں ڈال کر میں سمجھی کہ وہ عقل سے کام لے گی اور بچے
کی خاطر اس سیلاب بلا سے رک جائے گی۔خدا جانے اس نے کیا کیاکہ
آخرکار بیٹا چچا سے لے آنے میں کامیاب ہو گئی۔ اب سارے راستے بند ہو
گئے تھے۔ وہ اپنی تمام کشتیاں جلا چکی تھی۔ واپس لوٹ کر جانا ناممکن تھا
اور جنید کا اس کے ساتھ شادی کرنا اور بھی زیادہ ناممکن تھا۔ وہ اپنی پسند
کی لڑکی سے شادی کا فیصلہ کرچکا تھا۔ پھر وہ اس سارے کھیل میں
قصوروار ہی کب تھا۔ قصور تھا تو خود جہاں آراء کا جو اپنے بے لگام جذبات
کے ہاتھوں کھلونا بن گئی یا پھر میراء جس نے اس کو الٹی راہ پر لگا دیا۔ یہ
سمجھ کر کہ اس طرح وہ اپنا گھر اجاڑنے کا ارادہ ترک کردے گی۔
تم نے عدالت سے طلاق تو کنفرم نہیں کرائی۔ کسی کو کیا پتا کہ چچا نے تم کو
طلاق دے دی ہے یا تم نے لے لی ہے۔دوسری شادی کےلئے طلاق کا
سرٹیفکیٹ چاہئے ہوتا ہے اور پھر عدت کی مدت پوری کرنا ہوتی ہے۔ ایسے
تو تم یہاں ہمارے گھر نہیں رہ سکتیں اور نہ میں بھائی مجبور کرسکتی ہوں
مگر وہ ماں کا کہا نہیں ٹالتا۔ تم میری امی سے کہو کہ وہ تم کو قبول کرلیں۔ تب
ہی اصل مسئلہ حل ہوگا۔
وہ بیچاری اپنا سامنہ لے کر چلی گئی۔ والدین کے گھر گئی۔ انہوں نے لعن
طعن کی اور گھر رکھنے سے انکار کردیا۔ ایک سہیلی کے پاس گئی جو چند
دن رکھنے پر راضی ہوئی کیونکہ شوہر سے ڈرتی تھی۔ میں نے اس کو امی
کے پاس پہنچا دیا۔ انہوں نے اس کو سمجھایا۔ میرا بیٹا تم سے کیسے شادی کر
سکتا ہے۔ اس نے تو اپنے دفتر کی ایک لڑکی سے نکاح کرلیا ہے۔ کیا یہ بات
کسی نے تم کو نہیں بتائی اور تم اندھادھند اپنا گھر اجاڑنے پر تل گئینآخر
تمہاری عقل کہاں گئی ہے؟اچھامیں بے وقوف ہوں؟ ہاں بے وقوف ہی تو ہو۔
اس نے ریسور رکھ دیا۔ اس کے بعد فون کیا اور نہ آئی۔ میں نے شکر کیا کہ
جان چھوٹی۔ لیکن کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ جہاں آراء نے خودکشی کرلی
ہے۔
آج تک پچھتاتی ہوں کہ میں نے بغیر سوچے سمجھے ایسا کیوں رستہ اس کو
سمجھایا کہ جس کی کوئی منزل ہی نہ تھی۔ خود کو کبھی معاف نہ کروں گی
لیکن غور کرتی ہوں تو جہاں آراء کو بھی بے قصور نہیں پاتی۔ کہیں نہ کہیں
قصور اس کا بھی ہے کیونکہ میرے بھائی نے کبھی اس کو اشارتاً بھی نہ
جتلایا تھا کہ اس سے شادی کرلے گا یا کہ اسے پسند کرتا ہے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open