زندگی اک الجھی کہانی پارٹ ۲

آپا اچھی تھیں تو ان کے گھر والے ساس نندہ شوہر سبھی اکھڑ مزاج تھے۔ ان
کو:میرا آپنے گھر رہنا برذاشك نہ کھا۔ ان کی ساس کہئیں۔ ہم پراتی جوان لڑگی
کو کیوں رکھیں؛ اسے اپنے باپ کے گھر رہنا چاہئے۔ آپا کہتیں کہ یہ پرائی
نہیں ہے میری اپنی ہے یہ میرا ہاتھ بٹائے گی تبھی لے آئی ہوں۔ فی الحال
اسے ماں کا غم ہے چلی جائے گی۔ غرض کہ انہوں نے باوجود گھر والوں
کے نہ چاہنے کے مجھے اپنے ساتھ رکھا کیونکہ وہ اپنی بہنوں اور بھائیوں کا
مجھ سے جو برتائو تھاء اس سے باخبر تھیں۔ میں بھی اب ہر حال میں آپا کے
شفت بھرے سائے تلے ہی رہنا چاہتی تھی۔
آپا کو میری بہت فکر تھی۔ میں نے میٹرک تک پڑھا تھا۔ جب ابو کا انتقال ہوا
تھاء اس کے بعد کالج نہ جاسکی۔ آپا کے گھر کے قریب ہی گرلز کالج تھا۔
شوہر اور ساس کی مخالفت کے باوجود انہوں نے میرا کالج میں داخلہ کروا
دیا۔ شوہر سے کہا کہ صرف دو سال اسےیہاں برداشت کرلو۔ وعدہ کرتی ہوں
کہ ابا کی جائداد کا جو حصہ مجھے ملے گاء تم کو دے دوں گی۔ اس کو بس
انٹرمیڈیٹ تک پڑھنے دو۔بیوی پھر بیوی ہوتی ہے اور شوہر کو اس کی بات
ماننی پڑتی ہے۔ بہنوئی صاحب نے یہ برداشت کرلیا اور میں نے ایف اے
کرلیا۔ انہوں نے ایک اور بھلا کیا کہ نرسنگ ٹریننگ میں داخلہ کرا دیا کیونکہ
رہائش کی سہولت تھی۔ میں ٹریننگ سینٹر کے رہائشی ہاسٹل میں رہ سکتی
تبھی۔
میں ہاسٹل چلی گئی۔ دو سال پلک جھپکتے گزر گئے اور مجھے اسپتال میں
جاب بھی مل گئی۔ چار پیسے تنخواہ کے آنے لگے جو میں آپا کے ہاتھ پر رکھ
دیتی۔ اب بہنوئی کی نظروں میں بھی اہمیت ہوگئی۔ آپا میرے پیسے بچا کر
رکھتیں کہ نویدہ کا کوئی زیور وغیرہ بنوا لوں گی اس کی شادی بھی تو ہونی
ہے مگر بہنوئی ان کے پیچھے جاتے اور میری تنخواہ خرچ کردیتے۔ میں
پیسوں کے جانے کا قلق نہ کرتی۔ بے شک پیسے لے لیں لیکن میری آپا کی
محبت مجھے حاصل رہے۔ میں اب صرف ویک اینڈ پر ہی آپا کے گھر آتی۔
ایک دو روز رہ کر ہاسٹل چلی جاتی۔ آپا کہتیں۔ خبردار تنخواہ مجھے مت دیناء
اپنے پاس رکھا کرو۔ یہ پیسے تمہارے کام آئیں گے۔ مجھے دو گی تو مشتاق
لے لے گا
میری بہن تو اچھی تھی مگر بہنوئی ٹھیک نہیں تھا۔ دل میں کھوٹ ہو تو رویئے
میں بناوٹ محسوس ہوجاتی ہے کہ بہنوئی کے حسن سلوک میں خلوص نہیں۔
یہ اتوار کا دن تھا۔ میں آپا کے گھر تھی۔ صبح صبح فون آگیا۔ اس وقت میں
مشتاق بھائی کو چائے دے رہی تھی۔ فون سن کر وہ گھبرا گئے۔ چائے کی
پیالی ٹرے میں رکھ دی اور کہا۔ نویدہ! میرے دوست کا فون تھا۔ اس کی بیوی
کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے۔ کیا تم ذرا دیر کو اس کو دیکھنے چل
سکتی ہو؟ جب تک اسے اسپتال پہنچانے کا انتظام نہیں ہوجاتاء اس کے پاس
رہنا ہوگاء اپنا فرسٹ ایڈ بکس بھی لے چلو۔انہوں نے کچھ اس طرح منت
سماجت سے کہا کہ میں انکار نہ کرسکی۔ ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ آپا
نے بھی نہ روکا کہ شوہر بہت پریشان نظر آرہا تھا۔ انہوں نے سوچا شاید کسی
کی زندگی کا سوال ہے۔
تمام راستہ وہ خاموشی سے گاڑی چلاتے رہے اور میں بھی خاموش بیٹھی
رہی۔ گاڑی انجانے راستے پر جارہی تھی۔ بولے۔ دوست کا گھر شہر سے ذرا
دوری پر ایک بستی میں ہے۔ آگے راستہ بھی کچا ہے۔ خدا کرے گاڑی ان کے
گھر تک جاسکے۔ ذرا آگے جاکر پکی سڑک سے انہوں نے گاڑی کو اتار کر
کچے راستے پر ڈال دیا اور ور رچچے ہیں پ ِ-
دشوار ہوتا گیا۔ گاڑی کبھی صحیح چلتی؛ کبھی کبھی ڈگمگانے لگتی۔ میرا دل
دھڑکنے لگا کیونکہ اب ہم گھنے جنگل میں آگئے تھے۔
انہوں نے گاڑی روک لی۔ بولے۔ نویدہ! آگے راستہ نہیں ہے گاڑی نہیں
جاسکتی۔ نہر تک پیدل چلنا ہوگاء اس کے بعد بستی شروع ہوجائے گی۔ میں نے
دیکھا کہ وہاں جگہ جگہ گہرے گڑھے تھے جن میں پانی بھرا تھا۔ خدا جانے
یہ بارش کا پانی تھا یا واقعی آگے کوئی ندی یا نہر وغیرہ تھی۔ان کے کہنے
سے میں اتر گئی۔ بولے۔ ذرا دیر یہاں ٹھہروء انجن گرم ہوگیا ہے۔ ٹھنڈا
ہوجائے میں اس پر پانی ڈال لوں۔ تبھی ان کے فون کی گھنٹی بجی۔ہیلو… ہیلو
کہا لیکن ادھر سے آواز صاف نہ آرہی تھی۔ یہ کہتے رہے۔ ابھی تک تم نہیں
بے میں مازرد جک آگیاپونہ جلدی پہندو۔ چجز فون ینا کرجیا کیتے لگئے۔
یہاں سگنل نہیں آرہے۔ اس نے اسی جگہ آنے کا بتایا تھا۔ آگے اس نے ہمینپیدل
اپنے گھر لے جانا ہے۔ اس کی بیوی کو ممکن ہوا تو ہم اپنی گاڑی میں اسپتال
لے جائیں گے ورنہ ڈرپ اور ضروری انجکشن وغیرہ تو لائی ہو نا۔
جی… میں نے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا لیکن اب میں دہشت زدہ ہوگئی
تھی۔ سچ کہوں تو مجھے اپنے بہنوئی سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ بس نہ چل
رہا تھا کہ یہاں سے بھاگ جائوں۔ انتظار کرتے کافی وقت گزر گیا۔ مجھے
شک گزرا کہیں ان کی یہ کوئی چال نہ ہو۔
میں نے کہا۔ مشتاق بھائی! واپس چلئے۔ اتنی دیر میں تو ایمرجنسی نہ رہی
ہوگی۔ یہاں کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا۔ میں نے بے بس ہوکر ان کی طرف
دیکھا تو مجھے ان کی آنکھوں میں وہ ارادہ بجلی کے کوندے کی طرح لپکتا
نظر آیا جس کو دیکھ کر میں کانپ گئی۔ اف! یہ اجاڑ بیابان اور آگے جنگل۔۔
یہاں تو کوئی کسی کی مدد کو نہ پہنچ سکتا تھا۔ میں نے اپنے خدا کو پکارا
یااللھ! تو ہی میرا والی و نگہبان ہے تو ہی مددگار ہے میری مدد کر۔ صدق دل
سے نکلی دعا عرش پر گئی کہ اسی لمحے چاپ سنائی دی اور اچانک گھنی
جھاڑیوں سے چار آدمی نمودار ہوگئے۔ ان کی شکلیں خوفناک تھیں۔ بڑی بڑی
مونچھیں اور گھیر دار شلواریں… ان کے پاس بندوقیں تھیں اور وہ حلیے سے
ڈاکو لگ رہے تھے لیکن اس وقت مجھے اپنا بہنوئی ڈاکو اور وہ رحمت کے
فرشتے لگے۔ میں دوڑ کر ان کی طرف گئی اور کہا۔ میرے بھائیو! مجھے گھر
پہنچا دوء یہ مجھے نجانے کیوں ایسی جگہ لے آیا ہے۔ جونہی انہوں نے
مجھے ہاتھ جوڑ کر منت کرتے دیکھاء ہوا میں فائر کردیئے۔ مشتاق بھائی جہار
کھڑے تھے سہم کر رہ گئے۔ میں بھی ڈر کر واپس انہی کی طرف پلٹی۔
ا یت ے ہماری طرف آگئے۔ مشتاق بھائی کو چاروں نے گھیرے میں
لے لیا اور ان پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔ تو جانتا ہے کہ یہ
سے یا یہاں آگے ہماری بستی ہے۔ ادھر سے مسافر بسیں بھی
گزرکئ ہیں کو کاروان کی صضسورت میں آن کے آگے پولرین کئ بریگیڈ اور
پیچھے بھی پولیس کی گاڑیاں چلتی ہیں تب وہ کاروان اس علاقے کو پار
کرتے ہیں تب بھی ہم ان کو لوٹ لیتے ہیں۔ تیرا اس کو یہاں لانے کا کیا ارادہ
تھا اور کون ہے یہ تیری؟
یہ میری سالی ہے۔سالی کون ہوتی ہے؟ بہن…بہن ہوتی ہے نا… تو کس لئے
اس خطرناک علاقے میں بہن کو لایا تھا؟ اس کی ناموس خاکستر کرنے پا…
بتابتا بدبخت؛ بے غیرت! ہم بسوں کو لوٹتے ہیں مردوں کی تلاشی لیتے ہیں
مگر مسافر عورتوں کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ عورتوں کو حکم دیتے ہینکہ اپنی
چوڑیاں اور زیور خود اتار کر نیچے رکھ دو۔ ہم زیور لیتے ہیں لیکن عورتیں
نہیں اٹھاتے اور تو بے غیرت… اس ویرانے میں اس معصوم کو ہماری بستی
تک لے آیا ہے۔ آخر کیوں؟
میں… میں! گورش کے کہنے پر آیا ہوںء اس نے مجھے یہی مقام بتایا
تھا۔اچھا… ٹھیک ہے۔ ہم سمجھ گئے۔ ہم میں ایک ہی ایسا بے غیرت ہے جو
عورتیں خرید کر علاقہ غیر لے جاتا ہے اور وہاں ان کو فروخت کردیتا ہے۔ ہم
نے اسے اپنے گینگ سے خارچ کردیا ہے۔ جانے کیوں اس نے تمہیں یہاں تک
بلا لیا اور تو بے غیرت پیسے کی خاطر اپنی بہن یہاں لے آیاء اپنی غیرت
بیچنے آگیا۔انہوں نے بہنوئی سے گاڑی چھین لی اور مارمار کر زخمی کردیا۔
پھر کہا۔ اب پیدل بھاگ پکی سڑک تک! تیری قسمت اچھی ہوئی تو گشت کرتی
پولیس گاڑی شاید مل جائے گی ورنہ ہم آکر اس بندوق کی ایک گولی سے
تیری مشکل آسان کردیں گے۔
وہ ڈاکو تھے۔ روجھان کے آگے کچے کے علاقے کے تھے۔ اب مجھے کچھ
سمجھ میں آیا کہ میں کہاں آگئی تھی لیکن وہ ڈاکو میرے لئے فرشتہ رحمت بن
گئے۔ انہوں نے میرے بھائی کا نمبر لےکر اس سے رابطہ کیا۔میں ان کی بستی
میں ایک ڈاکو کے گھر ایک دن اس کی بیوی اور بہن کی تحویل میں رہی اور
پھر ان لوگوں نے مجھے میرے بھائی اور چچا کی تحویل میں باعزت و
بحفاظت دے دیا۔ان کے اس طرزعمل پر آج تک عقل حیران ہے کہ یہ جرائم
پیشہ قوم تھی جو مسافر بسوں کو لوٹتے تھے لیکن مسافر عورتوں کو ہاتھ نہ
لگاکے تھۓ:
حیرت ہے ڈاکوئوں کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں مگر ہمارے معاشرے میں
کچھ افراد ایسے موجود ہیں کہ جن کے دلوں میں مقدس رشتوں کےلئے بھی
لالچ کی وجہ سے احترام نہیں رہتا۔ ان ہی میں میرے بہنوئی مشتاق بھی تھے
جن کو بھاتئ کہنۓ کو دل نہیں چاہتا۔سوٹیلا سہی بھاٹی پھر بھاتی ہوٹا ہے۔ اس
واقعے کے بعد میرے دونوں بھائیوں نے آپا کے شوہر سے قطع تعلق کرلیا اور
مجھ کو ایک باعزت گھر میں بیاہ دیا۔ میری شادی دھوم دھام سے کی جیسے
بھائی اپنی بہنوں کی کرتے ہیں۔
میں اپنے گھرمیں خوش اور آباد ہوں۔ بھائیوں کو دل کی گہرائیوں سے دعا
دیتی ہوں لیکن آپا سے نہیں ملتی تھی۔ اب تو وہ اس دنیا میں نہیں ہیں اور نہ
بہنوئی رہے ہیں۔ میں بھی پچھتر برس کی ہوگئی ہوں لیکن یہ واقعہ بھلا نہیں
سکتی

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open