باپ ایک شجردارسایا پارٹ ١

والد صاحب کا بزنس عروج پر تھا اور والدہ گھر گرہستی میں کھوئی ہوئی
تھیں۔ شوہر بزنس کی مصروفیات میں ان کی ذات سے بھی بے نیاز رہنے
لگے تب بھی وہ پرسکون رہیں کہ جیون ساتھی کی محبت پر بھروسہ تھا۔ کبھی
سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ان کو دھوکہ دیں گے۔یقین کی شکست سے محبت کی
موت واقع ہوجاتی ہے تب زندگی زندگی نہیں لگتی۔ میری ماں بھی جب اس
دکھ سے دوچار ہوئیں اپنے پندار کی شکست کو برداشت نہ کر سکیں اور گھر
چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔
ان دنوں میری عمر پانچ سال تھی۔ مجھے کسی دکھ درد اور اونچ نیچ کی
سمجھ نہ تھی۔ والد شروع دن سے میرے لئے ایک بے نیاز اور مصروف
شخصیت تھے۔ وہ ہماری زندگی میں موجود تھے اور نہیں بھی۔ ماں ایک
پرسکون ماحول میں جینے کی عادی تھیں۔ ان کی شخصیت میں ٹھہرائو تھا۔
میرا وجود اور پرسکون گھر ہی ان کی کل کائنات تھے۔ وہ ہلچل کی عادی ہی
نہ تھیں۔
جب پتا چلا شوہر نے اپنی نوعمر سیکرٹری سے خفیہ شادی کرلی ہے
انہوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ گریجویٹ تھیں اور شادی سے قبل
ریڈیو پر مختلف پروگراموں کے لئے خاکے وغیرہ لکھا کرتی تھیں۔ ان دنو
ایسے لکھاریوں کو قلیل معاوضہ ملا کرتا۔ شادی کے بعد انہوں نے اس مشغلے
کو خیرباد کہہ دیا تھا اور مکمل توجہ اپنے گھر پر مرکوز کردی تھی۔
مجھے امی ساتھ لے گئیں۔ اب جانا کہاں تھا اور رہنا کہاں تھا یہ امی نے نہ
سوچا۔ سوچا تو بس یہ کہ تعلیم یافتہ ہوں کچھ نہ کچھ کرلوں گی۔ والد سمجھ
رہے تھے کہ بچی کی خاطر کبھی نہ کبھی حالات سے تھک ہار کر آخر یہ ان
کی طرف واپس پلٹ آئیں گی۔ لیکن میری ماں بھی جیسے فولاد کی بنی تھی
ہمت نہ ہاری۔ان کے پاس کافی زیور تھا۔ ایک پلاٹ بھی ان کے نام تھا۔ بینک
میں اتنا روپیہ موجود تھا کہ پانچ سال بآسانی گزارہ ہو سکتا تھا۔
سب سے پہلے وہ اپنی ایک پرانی سہیلی کے پاس گئیں۔ جس پر انہیں بھروسہ
تھا۔ میں ان کو آنٹی زرگل کے نام سے جانتی تھی۔ والدہ نے احوال بتایا۔ آنٹی
نے سمجھایا کہ تم صرف اپنی ذات کے بارے مینمت سوچو؛ اپنی بچی کے
بارے میں سوچو؛ جس کو تمہارے علیحدگی کے فیصلہ کی وجہ سے باپ کی
شفقت اور مضبوط تحفظ سے محروم ہونا پڑے گا۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اس کو
آگے چل کر کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جس گھر کا سربراہ
نہ ہو وہاں بچیوں کو غلط ہاتھونسے بچانا محال ہو جاتا ہے۔ماں نوکری کرےیا
بچی کی نگرانی؟
زرگل تم ایسی خوفناک باتیں ؛ بتا رہی ہو کہ میں تمہارے گھر پناہ لینے آگئی
ہوں۔ ایسا ہی ہے تو چلی جاتی ہوں۔ تم پریشان مت ہو۔ میں تم پر بوجھ نہ بنوں
گی۔ میرے پاس ابھی کافی بینک بیلنس ہے۔ تمہارے پاس تو محض اخلاقی
سپورٹ کے لئے آئی تھی۔آنٹی گل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہنے لگیں۔ ایسی
بات نہیں ہے تم چاہے عمر بھر میرے پاس رہو۔ مجھ کو کبھی بوجھ نہ لگو
گی۔ مخلص دوست کا صحیح بات سمجھانا فرض بنتا ہے۔ یہ تمہاری مرضی
ہے کہ تم جو بھی اپنی زندگی کا فیصلہ بہتر سمجھو کرو۔
آنٹی نے اپتے گھر کا اوپر والا حصہ رپنے کےائے امی کو دے دیا جو فرٹیچر
سے آراستہ تھا۔ یوں ہم ان کے پاس رہائش پذیر ہوگئے۔ہم تقریباً چھ ماہ آنٹی
کے گھر رہے۔ ان کی تین گاڑیاں تھیں۔ ایک شوہر آفس لے جاتے دوسری
بچوں کےلئے اور تیسری وہ اپنے زیر استعمال لاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی
گاڑی اور ڈرائیور امی کےلئے وقف کر دیا کہ جہاں چاہیں جب چاہیں یہ
سہولت ان کو حاصل ہو۔
یہاں ہمیں ہر طرح کا آرام تھا لیکن امی کی بے چینی کم نہ ہوئی۔ آنٹی کرایہ
بھی نہ لیتی تھیں اور روز کھانے کے وقت اصرار کرکے بلالیتی تھیں تب امی
کو احساس ہوتا تھا کہ جلد از جلد اپنی علیحدہ رہائش کا انتظام کرلینا چاہئے۔
دوست اتنا اچھا اور خیال کرنے والا ہو تو اس کو طویل عرصے تک آزمائش
میں ڈالے رکھنا ٹھیک نہیں ہوتا۔
والدہ نے مکان کی تلاش جاری رکھی۔ میری تعلیم کا حرج ہورہا تھا۔ بالآخر اللہ
تعالیٰ نے سنی اور آنٹی کے بھائی ناصر صاحب نے جو پراپرٹی کا کام کرتے
تھے؛ ایک بہت اچھے علاقے میں بارہ مرلے کا چھوٹا سا بنگلے نما مکان
ڈھونڈ لیا۔ ان دنوں پراپرٹی اتنی مہنگی نہ تھی جس قدر آج ہے۔ بہرحال والدہ
کو مکان پسند آیا فوراً خرید لیا۔ کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ رکھے ہوئے روپے
رفتہ رفتہ گھٹتے ہی رہیں گے۔ انہیں کوئی جاب بھی نہ ملی تھی کہ آمدنی کا
در کھلتا۔والدہ نے ایک چھوٹی سی سیکنڈ ہینڈ گاڑی لے لی خود ڈرائیونگ
سیکھی اور ایک اچھے اسکول میں مجھ کو داخل کرا دیا۔ یہاں ہمارا آہسنا بہتر
ثابت ہوا کہ اچھے اور ہمدرد پڑوسی مل گئے جو چھوٹے موٹے مسئلوں میں
کام آتے تھے۔ امی اور میں یہاں اکیلے رہ سکتے تھے۔ یہ لوگ اپنوں کی طرح
خبر گیری کرنے لگے۔
ادھر کی فکر سے آزاد ہو کر امی نے اپنی جاب کی فکر کی۔ لیکن میں اسکول
سے جلد گھر آجاتی تھی اس لنۓ وم کس ھن میں مستقل جاب نہ کر سکتی
کھرے۔ اکر نے ار کن از ےڈا کلاس ما جات اکنا لور الیں جع
پونجی سے گھر چلاتی رہیں یہاں تک کہ میں آٹھویں کلاس میں آگئی۔
وہ ریڈیو اسٹیشن صبح چند گھنٹوں کےلئے جاتی تھیں جب میں اسکول میں
ہوتی۔ ایسے پروگرام میں شرکت کرتیں کہ جو صبح کے وقت کے ہوتے تاہم
اب ٹی وی کا دور آچکا تھا۔ایک ریڈیو پروڈیوسر نے مشورہ دیا کہ آپ ٹی وی
میں قسمت آزمائی کریں۔ وہ وہاں جانے لگیں۔ اسکرپٹ ایڈیٹنگ کا تھوڑا سا کام
مل جاتاء تاہم معاون کے طور پر باقاعدہ جاب نہ ملی اور نہ یہ کر سکتی تھیں۔
اسی طرح وقت کٹتا رہا۔ اب بہت کم سرمایہ رہ گیا تھا۔ بہت کفایت شعاری سے
وقت گزاراء میری فیس:؛ اسکول کا خرچہ سبھی اخراجات لازمی تھے۔ جب
سرمایہ صفر ہوا تو والدہ نے گاڑی فروخت کردی؛ وہ رکشوں اور میں بس پر
اسکول آنے جانے لگی۔ شروع دنوں ڈیڈی نے دوچار بار رابطہ کی کوشش کی
لیکن امی نے ان سے صلح نہ کی۔ وہ مایوس ہو کر ایک طرف کے ہوگئے۔ ان
کی دوسری بیوی سے بچے ہوگئے تب وہ اُدھر ہی مگن ہوگئے پھر ہم سے
کوئی واسطہ نہ رکھا۔
اب ہمارے مالی حالات کافی دگرگوں ہوگئے تھے۔ اب روز و شب دال روٹی
کی فکر کے ساتھ میری پڑھائی کے خرچے بڑھنے لگے؛ نوبت زیورات
فروخت کرنے تک آگئی۔ والدہ کو کوئی معقول ملازمت نہ مل سکی تو انہوں
نے شیف کا کورس کرلیا اور کھانے کی چیزیں گھر پر تیار کر کے سپلائی
کرنے لگیں۔
اس روز سیکنڈ ایئر کا آخری پرچہ تھا۔پرچہ ختم ہوا۔ یاد نہ رہا کہ آج بسوں کی
ہڑتال ہے۔ سوچا اب کوئی رکشہ پکڑنا پڑے گا چند قدم آگے چلی؛ کسی رکشے
کا نام و نشان نہ تھا۔ سوچوں میں چلتی جا رہی تھی کہ ایک بڑی سی شاندار
کار قریب سے گزرتے ہوئے مجھے پیدل دھوپ میں چلتے پاکر ٹھہر گئی۔ چار
چھ قدم آگے چلی تو کار کی ونڈو سے ایک چالیس سالہ شخص نے سر نکال
کر کہا۔ بی بی۔میری گاڑی میں بیٹھ جایئے؛ جہاں کہیں گی پہنچا دوں گا۔ دھوپ
کافی تیز ہے حدت سے پیدل چلنا دشوار ہوتا ہے۔ میں نے نظر بھر کر دیکھا۔
یہ کوئی بانکا نوجوان یا کوئی طالب علم نہ تھا بلکہ کوئی بزنس مین بال بچے
دار مگر امیر آدمی لگ رہا تھا۔ لباس اور وضع قطع سے اشرافیہ میں سے
معلوم ہوتا تھا۔ گاڑی بھی چمکتی ہوئی بڑی سی؛ شاندار اور خود بھی متاثر
کرنے والی شخصیت تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر اس کا ڈرائیور بیٹھا تھا جس نے
اُجلی وردی پہن رکھی تھی۔ سوچا یہ عمر رسیدہ شریف آدمی ہے اور اس
دھوپ میں سواری ملنے کی نہیں ہے۔ رکشے والے بھی شاید ٭<سن اسٹروک““ سے بچنے کو درختوں تلے اپنے رکشے کھڑے کر کے اسی میں سو رہے ہوں گے۔ تیزی سے میں نے فٹ پاتھ سے سڑک پر قدم رکھے اور گاڑی کے پاس آگئی۔ ڈرائیور نے پچھلی نشست کی طرف اشارہ کیا اور کر ڈراہ کا میں بغیر ایک لفظ ادا کئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ پوری سیٹ پر میں ہی موجود هی تؤسراکوٹی تا تھا ےیک واہانوتوں آگے بناہنے برانے کے بی بی... طالبہ لگتی ہو؟ کہاں جانا ہے؟ جی... میرا آج سیکنڈ ایئر کا آخری پرچہ تھا۔ مجھے عالم روڈ جانا ہےە میں بھی ادھر جارہا ہوں وہاں میرے دوست کا دفتر ہے۔ گاڑی میں خاموشی طاری ہوگئی۔ مجھے گویا باتوں میں لگا کر موصوف نے گاڑی کو کسی اور رستے پر ڈالنے کا ڈرائیور کو خفیہ اشارہ کردیا تھا جو میں نوٹ نہ کر سکی۔ کچھ دیر اپنی سوچوں میں گم رہی۔ اچانک سوچوں کے بھنور سے نکلی۔ سڑک پر نگاہ کی؛ حیران ہوئی کہ کار تیزی سے کسی دوسرے رستے پر برق رفتاری سے دوڑ رہی تھی۔مجھے اندازہ ہوا کہ ہم شہر سے کافی دور نکل آئے ہیں۔ جب دیکھا کہ یہ کار تو بس چلتی ہی جا رہی ہے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ بالآخر جرأت کر کے چیخ پڑی۔ آپ گاڑی کو یہیں روک دیجئے۔ مجھے اسی جگہ اتار دیجئے۔ رکشہ لے لوں گی۔بی بی۔ یہاں تمہیں کوئی رکشہ۔ کوئی سواری نہیں ملے گی۔ ملے گی یا نہیں ملے گی یہ میرا مسئلہ ہے۔ بس آپ روکئے گاڑی۔ ڈرائیور نے سڑک کے بیچ گاڑی روک لی۔ مالک اترا اور پچھلی نشست کی طرف آکر دروازہ کھولا۔ میں سمجھی مجھے اتارنے کو دروازہ کھولا ہے لیکن اس سے قبل کہ میں اترتی وہ خود میرے برابر بیٹھ گیا اور ڈرائیور نے چشم زدن میں گاڑی چلا دی۔ اب کار اور تیز فراٹے بھرتی جا و جا اس شخص نے مجھے اپنے زور بازو سے قابو کرلیا تھا۔ اُف کیا بتائوں کیا میرے دل کی حالت تھی۔ چلتی گاڑی سے اترنا چاہتی تھی لیکن اس ہپ لاک کردیئے تھے۔ اس نے میری ایک نہ چلنے دی۔ میں حواس باختہ ہو چکی تھی۔ ڈرائیور نے ہاتھ پیچھے کر کے کوئی شے دی جو اس نے میری ناک میں گھسیڑ دی۔ میں خوف سے بے ہوش ہونے لگی۔ اس نے کس کر میرے منہ پر کپڑا باندھ دیا۔ گرمی اور حبس سے دم گھٹنے لگاء ہاتھ پیروں اور جسم میں جان نہ رہی میں گرنے لگی اس نے مجھے جہاں سیٹ سے نیچے پائوں رکھتے ہیں تنگ سی جگہ پر ہاتھوں سے دھکیل کر گرا دیا اور مجھ پر پائوں رکھ دیئے؛ میں بےہوش ہوگئی۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open