باپ ایک شجردارسایا پارٹ۲

ہوش آیا تو کسی دور افتاد جگہ بنے ایک بنگلے کے کمرے میں خود کو قید
پایا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ بس ایک کھڑکی تھی سلاخوں والی جس کے پٹ بھڑے
ہوئے تھے۔ میرا دم گھٹ رہا تھا۔ میز پر جگ رکھا تھا اس میں پانی تھا اور
ساتھ گلاس دھرا تھا۔ پانی گلاس میں ڈالا اور غٹا غٹ پی لیا۔ ذرا ہوش بحال
ہوئے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ذرا دیر بعد قدموں کی چاپ سنائی دی پھر ایک مردانہ
آواز آئی۔ کیا بات ہے؟ بھوک لگی ہے تو کھڑکی کھولو۔ میں ادھر سے کھانا
دے دیتا ہوں۔یہ ایک پٹھان کی آواز تھی۔ میں نے کہا۔ تم کون ہو؟ دروازہ کھولو۔
جواب ملا۔ ہم ادھر کا چوکیدار ہے کمرے کے باہر تالا ہے۔ ہمارے پاس چابی
نہیں ہے۔ ہم دروازہ نہیں کھول سکتا۔ برآمدے میں آکر کھڑکی سے تم سے بات
کر سکتا ہے۔ میں نے پٹ کھولے۔ کھڑکی میں عمودی موٹی موٹی سلاخیں
قریب قریب فاصلے سے لگی تھیں۔ سیدھی پلیٹ بھی نہیں گزر سکتی تھی۔
صراض ا لاق لاو کڑ سک ےکھے باگاتیں گزارا جا سکتا تھا۔ وہ گھوم کر
کھڑکی کے پاس آ گیا۔ اس کے کندھے پر بندوق تھی اور کارتوس چمڑے کی
نکی سح ہرونے وے کہے ہی ای کے کے سے کی کو خی برک کی
بولوکیا چاہئے۔ نان اور کباب اس کھڑکی سے پکڑ لو۔ کمرے کے ساتھ اسٹور
ہے۔ وہاں میز پر برتن رکھے ہیں۔ وہاں سے پلیٹ وغیرہ لے سکتی ہو۔ غسل
حاکرتے سی ظوت نے دی اماز دی گئہ ول نافع جن رکھی
تھی جس پر کچھ برتن تھے۔ اور ایک اسٹول بھی میز کے پاس رکھا ہوا تھا
جس پر بیٹھ کر کھانا کھا سکتے تھے۔ ایک طرف دیوار میں دروازہ تھا۔ شاید
یہ غسل خانہ تھا۔ اسٹور نما کمرے میں کوئی کھڑکی نہ تھی البتہ ایک روشن
دان تھا۔ جو کھلا ہوا تھاء وہاں سے ہی روشنی اور ہوا آرہی تھی۔ اگر یہ روشن
دان بند ہوتا تو پھر اس چھوٹے سے تنگ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو جاتا۔ دفعتاً
میرے ذہن میں آیا اگر میز کو دیوار سے لگادوں اور اس پر اسٹول رکھ دوں تو
روشن دان تک شاید میرا ہاتھ پہنچ جائے کیونکہ اسٹور کے کمرے کی اونچائی
اس کمرے سے کم تھی جہاں میں قید تھی۔یہ خیال آتے ہی میں کمرے میں آئی؛
میرے ہاتھ میں پلیٹ تھی۔
میں نے چوکیدار سے کہا۔ مجھ پر ترس کھائو اور مجھے اس جگہ سے باہر
نکالو۔ اگر تمہاری کوئی بیٹی ہے تو اس کا واسطہ۔ میں بھی کسی کی بیٹی ہوں
یہ لوگ مجھے دھوکے سے زبردستی یہاں بیہوش کر کے لائے ہیں۔کیا تم اپنی
مرضی سے نہیں آئی ہو؟ نہیں بابا۔ ایسی جگہ کون اپنی مرضی سے آتا ہے۔
میں تو کالج سے پرچہ دے کر باہر نکلی تھی۔ انہوں نے مجھے زبردستی اغوا
کرلیا۔اوء خانہ خراب۔ ہم سمجھا کہ اپنی مرضی سے آئی ہو۔ یہ لوگ جو عورت
یا لڑکی لاتے ہیں وہ سب اپنی خوشی اور مرضی سے آتا ہے۔ یہ ٹھیک لوگ
نہیں ہے۔ تم نے ہم کو بیٹی کا واسطہ دیا ہے ہماری بیٹی تم جتنی ہے۔ مگر اب
ہم مجبور ہے۔ ہم تم کو نہیں نکال سکتا۔تم مجھے یہاں سے نکل جانے میں مدد
تو کر سکتے ہو۔ کیسے مدد کر سکتا ہے ہم۔ کیا تم دیوار توڑ سکتا ہے ہم تو
نہیں توڑ سکتا۔ ہم ملازم ہے عرصہ سے ادھر ڈیوٹی کرتا ہے۔
مجھے یقین نہ تھا چوکیدار میری مدد کرے گا کیونکہ وہ تو ان ہی کا آدمی تھا۔
لیکن شاید وہ ایک اچھا انسان تھا۔ اس کا ضمیر زندہ تھا۔ کہنے لگا۔ تم بتائو
کیسے تمہاری مدد کروں۔ کوئی بھی باہر نکلنے کا رستہ نہیں ہے۔ میں نے کہا۔
اسٹور میں ایک روشن دان ہے۔ میں دبلی پتلی ہوں اس میں سے گزر سکتی
ہوں۔ وہ کہنے لگا۔ ہماری شامت لانے کا ارادہ ہے تمہارا۔ ہم کو پروا نہیں۔ ان
لوگوں کا بہت راز ہمارے پاس ہے۔ لیکن بات سمجھو یہاں سے باہر نکلنے کے
لئے روشن دان تک تمہارا چڑھنا ممکن نہیں ہے۔ روشن دان پر چڑھ جائو گی
تو ہم ادھر سے بانس کی سیڑھی لگا کر تم کو اتارلے گا۔ تم بھاگ جانا۔ ہم سیٹھ
کو بول دے گا کہ تم خود بھاگ گیا ہے۔ رات کو آٹھ سے نو بجے تک ہم کو
گھر جاکر کھانا لانے کی اجازت ہے۔ ہم تمہارے لئے بھی کھانا اپنے گھر سے
لائے گا۔ تم کل صبح سے پہلے اگر نکل سکتی ہو تو نکل جائو وہ صبح دس
بجے ادھر واپس آجائے گا۔ ہم کو نہیں معلوم تم کو ادھر لانے کا اس کا کیا
مقصد ہے۔ گھر کے ساتھ ہمارے دوست کا گھر بھی ہے ہم اس سے ٹیکسی
لاسکتا ہے؛ وہ ٹیکسی چلاتا ہے۔ میں نے کھانا میز پر دھرا اور میز کو دیوار
کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔ میز اتنی بھاری اور ٹھوس تھی کہ اگر کوئی
دوسرا وقت ہوتا وہ مجھ سے ایک انچ آگے نہ سرکائی جاتی؛ لیکن اس وقت اللہ
– نے ایسی ہمت دے دی تھی کہ میں نے پوری ثوت سے کبھی ایک طرف سے
اور کبھی دوسری طرف سے اس کو ذرا ذرا آگے سرکانا شروع کر دیا۔ یہا
تک دیوار سے لگانے میں کامیاب ہوگئی۔ ذرا دیر کو دم لیا۔ اب پیاس محسوس
ہوئی؛ پانی پیا۔ نان کا ٹکڑا توڑ کر منہ میں رکھا۔ یوں آدھا نان پیٹ میں اتار لیا۔
تھوڑی سی طاقت آئی۔ اسٹول کو گھسیٹنے اور اس کو میز پر رکھنے میں
کامیاب ہوگئی اور اس پر چڑھ گئی۔ دیوار کا سہارا لے کر دونوں ہاتھوں سے
روشن دان کی چوکھٹ پکڑ لی۔ پوری طاقت لگاکر روشن دان پ پر چڑھی۔ وہ
کافی کشادہ تھا۔ میں نے دیکھا سامنے بڑی بڑی مونچھوں وا و ےن
روشن دان پر نظریں جمائے تھا۔ وہ میز کے گھسیٹنے کی آواز سنتا رہا تھا۔
مجھے دیکھ کر وہ دیوار کے قریب آگیا۔ بولا۔ میں سیڑھی لارہا ہوں اب ادھر
ہی رہنا۔ اگر کوئی آتا نظر آئے تو اتر جانا۔ سہ پہر کا وقت تھا وہ پندرہ منٹ
میں سیڑھی لے آیا اور دیوار سے اس طرح لگادی کہ میں روشن دان سے گزر
کر سیڑھی کو پکڑ سکتی تھی۔ کچھ مشکل تو ہوئی؛ میرے پہلو روشن دان سے
باہر نکلتے وقت چھل گئے لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔جب سیڑھی کے ڈنڈے
پکڑ لئے تو خان نے سہارا دیا اور میں باہر آگئی۔ سیڑھی سے اتار کر اس نے
مجھے ایک گڑیا کی طرح زمین پر رکھ دیا۔ کہا کہ گھر سے چادر بھی لیتا آیا
ہوں یہ اوڑھ لو… میں سڑک پار کرا دیتا ہوں ادھر میرا دوست ٹیکسی لئے
موجود ہے۔اس میں بیٹھ جانا اور گھر کا پتا بتا دینا۔ وہ تمہیں تمہارے گھر پہنچا
ے‫
ڈاے گا
خان تم دھوکا تو نہ کروگے۔ میں ڈری ہوئی تھی۔ ڈرو نہیں۔ یہ خان کا وعدہ ہے
تم ہمارا بیٹی ہے۔ وہ آدمی ہمارا دوست ہے مگر سمجھو ہمارا بھائی ہے۔ تم نے
دھوکا کھایا ہے تو اب ڈرنا تو لازم ہے۔ اچھا چلو اب جلدی کرو۔ اب دیکھو وہ
سیٹھ لوگ آکر ہم سے کیسی باز پرس کرتا ہے۔ مگر پروا نہیں ہے۔ جب تم گھر
پیا ویج لاوق پر کل اس کنور وں اظلام کر ڈل چاو بجادی کہ اب۔ وہ آگے آگے
اور میں اس کے پیچھے پیچھے چادر میں لپٹی چل رہی تھی۔ وہاں آدم نہ آدم
ذات خدا جانے کون سی جگہ تھی۔ خان سڑک کے اس طرف ہی ٹھہر گیا۔
سڑک میں نے اکیلے پار کی۔ سڑک کے دوسری جانب ٹیکسی میں ایک شخص
موجود تھا جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس نے کہا۔ بیٹی جلدی کرو۔ ٹیکسی
کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مجھے اس نے پچھلی نشست پر بیٹھنے کا اشارہ کیاء
کچھ آگے جا کر پوچھا ۔کدھر جانا ہے۔ میں نے روڈ کا نام بتایا۔ بولا۔ تم بہت
دور آچکا ہے۔ ہم کو وہاں تک پہنچنے میں بھی ڈیڑھ دو گھنٹہ لگ جائے گا۔ تم
نیچے ہو کر بیٹھو۔ چاہتا ہوں تم کو کوئی نہ دیکھے۔
خدا کا شکر کہ کسی نے نہ روکا۔ یہاں تک کہ ہم شہر میں داخل ہوگئے۔ میں
چادر میں اچھی طرح خود کو لپیٹے بیٹھی تھی۔ چہرہ بھی چادر میں چھپا رکھا
تھا۔ جب وہ روڈ آیا جہاں سے میرا گھر نزدیک تھا جان میں جان آگئی۔ میں
راستہ بتاتی جاتی تھی وہ ٹیکسی کو ادھر موڑتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ میں اپنے
گھر کے دروازے پر پہنچ گئی۔ یہاں روک لو انکل۔ میں نے کہا یہی میرا گھر
ہے۔ اس نے پوچھا اندر کون ہے؟امی ہیں۔ تم ابھی اترنا نہیں۔ یہ کہہ کر وہ خود
اتر گیا اور در پر دستک دی۔ امی نے دروازہ کھولا۔ وہ بے حد پریشان حال
دکھائی دے رہی تھیں۔ باجی آپ کا بیٹی ہم لے آیا ہے۔ وہ گاڑی میں بیٹھا ہے۔
امی دوڑ کر آئیں۔ میں نے ان کو دیکھا تو چہرے سے چادر پٹائی۔ کہان تھیں تم
۔میری تو جان نکال دی تم نے۔میں اتری اور گھر کے دروازے پر ہی ان کے
گلے لگ گئی۔ وہ مجھے اندر لے گئیں۔پھول ہی گئی کہ جو شخص یہاں تک
لایا ہے وہ باہر کھڑا ہے۔ میں نے کہا۔ امی سب بتاتی ہوں پہلے اس انکل کا
شکریہ ادا کریں جو مجھے بڑی مصیبت سے بہ حفاظت نکال کر آپ تک لایا
ہے۔ امی کو ہوش آیا دوڑ کر باہر گئیں۔ کہا ۔بھائی اندر آجائو۔ کچھ پانی وغیرہ
پیو۔ تمہارا شکریہ۔ وہ بولا۔ ہم جاتا ہے باجی بس یہ اطمینان کرنا تھا کہ اپ کا
بیٹی صحیح جگہ پہنچ گیا ہے۔ وہ انجانا مخلص محسن بغیر کوئی انعام لئے چلا
گیا۔
امی کو احوال بتایا۔ روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ انہوں نے گلے لگایا
وہ بھی خوب روئیں۔ پھر کہا۔ کل جب تم نہ لوٹیں۔ میں نے شام تک انتظار کیا
جب رات ہو گئی؛ میں تڑپنے لگی؛ کبھی سوچتی تھانے جائوں پھر سوچتی کیا
خبر تم آجائو۔ پولیس والے تو اور رسوا کریں گے۔ تمہاری ایک دو سہیلیوں کو
فون سر ر ہے ہے بنا کر تمہارا پوچھا۔ اگر آج تم نہ آتیں تو محلے
محلے تم کو ڈھونڈنے نکل پڑتی۔ گلی گلی آواز لگاتی جاتی۔ اب میرا صبر
جواب دے گیا تھا۔ آج پہلی بار احساس ہو رہا ہے کہ میں نے تمہارے باپ کو
چھوڑ کر کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ ان کا ساتھ ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی۔ ماں کو
اس بات کا احساس کتنی مدت بعد ہوا تھا اور مجھے؛ جب ڈیڈی سے بچھڑی
تھی اس دن سے آج تک یہ احساس رات اور دن پل پل میرے ساتھ رہا ہے کہ
اے کاش میں اس سائبان تلے ہوتی جس کو باپ کہتے ہیں اور عورت سمجھتی
ہے کہ بچے اسی کو پیارے ہوتے ہیں۔ حالانکہ بچے باپ کو بھی پیارے ہوتے
ہیں۔ خدا کرے کبھی کسی بچے کی ماں اس سے نہ بچھڑے اور نہ باپ ہی جدا
ہو کہ اگر مائوں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ کا سایہ بھی اتنا ہی ٹھنڈا ہوتا
ہے جو بچوں کو زمانے کی کڑی دھوپ اور سختیوں سے بچاتا ہے۔
اس کے بعد والدہ نے مجھے آگے نہ پڑھنے دیا اور آنٹی زرگل نے میرا رشتہ
اپنے بھائی کے بیٹے سے کروا دیا۔ میں ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار
رہی ہوں لیکن آج بھی والد کی جدائی کی خلش دل سے نہیں نکال سکی۔ تہیہ
کیا ہے کہ حالات جو بھی ہوں اپنے بچوں کو ان کے والد سے جدا نہ کروں
گی۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *