کم عمری کی نادانی پارٹ ١

ان دنوں ہم راکھی منہ کے نزدیک ایک گائوں میں رہتے تھے۔ یہ ایک پہاڑی
علاقہ تھا اور کوہ سلیمان کے دامن میں واقع تھا۔ شہر سخی سرور سے فورٹ
منرو جاتے ہوئے سب سے پہلے ہمارا گائوں آتا تھا۔ گویا ہم میدانی علاقے سے
نزدیک ترین پہاڑی علاقے کے مکین تھے۔ تبھی ہمارے گائوں کے طالب
علموں کو یہ سہولت حاصل تھی کہ مڈل کے بعد وہ اگر میٹرک کرنا چاہتے تو
شہر کے ہائی اسکول میں داخلہ لے لیتے تھے تاہم یہ سہولت لڑکیوں کو
خاضنل ثہ ٹھی۔
یہ 1960ء سے چند سال پہلے کا دور تھا اور قبائلی علاقے کی لڑکیوں پر تعلیم
کے در وا نہ ہوئے تھے بلکہ یہ تو ناقابل تصور بات تھی۔ خوش قسمتی سے
میرے ایک ماموں جو تعلیم کے شیدائی تھے؛ پڑھنے کیلئے قریبی شہر ڈیرہ
لے گئے۔
ماموں نے میٹرک کرلیا تو مزید پڑھائی کا شوق بھڑکا۔ تعلیم کی پیاس بجھانے
کو وہ پہلے ملتان اور پھر لاہور چلے گئے۔ ان کے ایک ماموں لاہور میں
سکونت اختیار کرچکے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری نوکری ملی
اور پھر ان کا تبادلہ لاہور ہوگیا۔ رفتہ رفتہ ترقی کرتے اچھے عہدے تک جا
پہنچے۔ ان کو شہر لاہور کی رونقیں پسند تھیں وہیں مستقل سکونت پذیر
ہوگئے۔ اپنے بچوں کو بھی اسی شہر سے تعلیم دلوائی۔ تعلیم کی خاطر جب
میرے ماموں نے اپنے ماموں کے گھر لاہور میں قیام کیا تو جی لگا کر پڑھا
یہاں تک کہ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کرلیا۔ یوں ایک بارانی علاقے کا
قبائلی لڑکا لاہور میں آفیسر کی پوسٹ تک پہنچا۔
کہتے ہیں کہ ہمت مرداں مدد خدا! بندہ لگن سے محنت کرے تو کیا نہیں
ہوسکتا۔ ہمارے علاقے کی کل آبادی قبائل پر مشتمل تھی اور اکثریت کے گھر
پہاڑوں کی کھوہ کے اندر بنے ہوئے تھے۔ یہ قدیم قبائل کے مسکن تھے سو ان
کی ریت روایات بھی صدیوں پرانی تھیں۔ مرد سفر تجارت کرتے اور بڑے
شہروں کو آتے جاتے رہتے لیکن عورتیں اپنے علاقے سے باہر نہ جاتی تھیں۔
رواج سخت تھے عدالت کا نظام بھی قبائلیوں کا اپنا ہی رائج تھاء حتیٰ کہ
انگریزوں کی راجدھانی میں بھی اپنے فیصلے خود کرتے اور جرگہ سسٹم
رائج تھا۔ انگریزوں کا قانون یہ نہیں مانتے تھے۔
والد صاحب کا تعلق بھی ایسے ہی ایک قبیلے سے تھا تاہم سخی شہر قریب
ہونے کی وجہ سے وہ میٹرک تک پڑھ لکھ گئے۔ راکھی منہ گائوں میں جب
پہلا ہائی اسکول کھلاء کسی مقامی استاد کی ضرورت پڑ گئی۔ والد صاحب
واحد شخص تھے جو میٹرک پاس تھے اور شہر سے ٹیچر ٹریننگ کی تھی۔
انہیں اس اسکول میں سرکاری استاد کی ملازمت مل گئی۔
ایک استاد ہونے کے ناتے ان کو کبھی لاہور محکمہ تعلیم جانا پڑتا تھا جہاں ان
کے سالے کا گھر تھا۔ وہ انہی کے گھر قیام کرتے تھے۔ ماموں ان کی آئو
بھگت اور بہت خاطر تواضع کرتے۔ اکثر کہتے جمال خان! اگر تم کو اپنے
بچوں کو پڑھانا ہو تو ان کو میرے پاس لاہور بھیچ دو۔ میرا بھائی منصور خان
مجھ سے دو برس چھوٹا تھا۔ والد صبح تڑکے اسکول جاتے ہوئے اس کو بھی
ساتھ لے جاتے۔ سگرن سے بھئی جو افاض لاتاء اس میں رنگین تصویریں
دیکھ کر دل کرتا کہ میں بھی پڑھوں۔ جب وہ اپنا بستہ رکھتاء میں اس کو کھول
لیتی اور کتابیں نکال کر رنگین تصویریں دیکھتی۔
ایک روز ماموں لاہور آئے۔ امی بیمار تھیں وہ ان سے ملنے آئے تھے۔
مجھے منصور بھائی کے قاعدے کو گھورتے پایا تو بولے۔ کیا دیکھ رہی ہو؟
تصویریں دیکھ رہی ہوں۔ مجھ کو بھائی کی کتاب میں چھپی تصویریں دیکھنا
لھا لگااتے۔ کپتے لگے۔ کزاشہاز 1 جی چااٹاائۓ کا رک پی اسنکل:جلٹوااؤر
یہ کتابیں پڑھو؟ ہاں ماموں…! بہت دل چاہتا ہے لیکن میں نہیں پڑھ سکتی۔ میں
تو چھپ کر منصور بھائی کی کتاب کو دیکھتی ہوں کہ بھائی اور بابا جان
مجھے کتاب پکڑے دیکھ کر ناراض نہ ہوجائیں۔ کیا تم میرے ساتھ لاہور چلو
گی؟ ہاں ماما! کیوں نہیں اگر آپ لے جائیں گے تو ضرور چلوں گی لیکن بابا
جان کب جانے کی اجازت دیں گے۔ میں خود ان سے اجازت لوں گا۔ انہوں نے
جواب دیا۔
جب بابا جان اسکول پڑھا کر لوٹے تو ماموں نے ان سے پوچھا کہ کیا میں
بخت بی بی کو لاہور لے جا سکتا ہوں۔ میں اسے وہاں پڑھانا چاہتا ہوں۔ یہاں تو
نہ لڑکیوں کا کوئی اسکول ہے اور نہ بچیوں کو پڑھانے کا رواج ہے۔ والد خود
استاد تھے شہر سے میٹرک کیا تھا اور لاہور بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ قدیم
قبائلی ضرور تھے لیکن ننھیال شہری ہونے کے سبب وہ بہت زیادہ قدامت پسند
نہ رہے تھے۔ کہنے لگے۔ مجھے تو اعتراض نہیں لیکن میرے بھائی بند اور
رشتے دار اس بات پر راضی نہ ہوں گے۔ میرا ناطقہ بند کردیں گے۔ان کو مت
بتانا کہ لڑکی کو لاہور میں پڑھا رہے ہو۔ یہی کہنا کہ ماموں کے گھر رہنے
گئی ہے۔ یہ بات کب تک چھپی رہ سکتی ہے…! جب تک چھپی رہ سکتی ہے
تب تک بخت بی بی کو میرے پاس رہنے دو ورنہ لے آنا۔ غرض بہت حیل و
حجت کے بعد ماموں مجھے لاہور اپنے ساتھ لے آئے۔
امی کی بیماری کا پتا نہ چل رہا تھاء وہ ان کو بھی ساتھ لائے تھے تاکہ لاہور
کے کسی بڑے اسپتال میں ان کے طبی ٹیسٹ اور علاج کروا سکیں۔ امی نے
ایک ماہ ماموں کے گھر قیام کیا اور جب وہ پوری طرح ٹھیک ہوگئیں تو
ماموں خود ان کو واپس گائوں چھوڑ گئے مگر مجھے اپنے پاس ہی رکھا اور
اپنی بیٹی کے ساتھ اسکول میں داخل کروا دیا۔ وہ میری ہم عمر بھی۔ ہم دونوں
اکٹھے اسکول جاتیں؛ اکٹھے کھانا کھاتیںء کھیلتیں اور ایک ہی کمرے میں
سوایں۔۔ ءڈائاکالاتک تی تھا گل کوتی لات کے یرے آّے سے بھااتتا
خوش رہنے لگی۔ ممانی جو لاہور سے ہی تھیں مجھ سے خوش رہتی تھیں؛
میرا خیال رکھتی تھیں۔ پڑھی لکھی تھیں؛ بالکل تنگ نظر نہ تھیں۔ ماموں کا
گھر تو گویا میرے لئے جنت تھا۔ کہاں ایک پہاڑی گائوں کی زندگی اور کہاں
یہ پررونق شہر! میں تو اس شہر کی خوبصورتی کو دیکھ کر ہی ششدر رہ گئی
تھی۔
بابا جان نے کبھی اپنے گائوں سے شہر منتقل ہونے کا نہ سوچا جبکہ ماموں
جان تو ان کو قائل کرنے کی سعی کرتے تھے۔ وہ قائل نہ ہوئے۔ کہا کہ میں
یہاں خوش ہوں۔ پرائمری اسکول کا ٹیچر ہوں۔ دو بارانی فصلوں سے اتنی
آمدنی ہوجاتی ہے کہ سال بھر چین کی بنسی بجاتا ہوں۔ نوکری مل گئی ہے
عزت کے ساتھ سرکاری وظیفہ الگ ہے۔ بڑے شہروں میں سوائے ہنگامہ کے
کیا رکھا ہے۔ سکون تو یہاں پہاڑوں میں ہی ملتا ہے۔
مجھ کو والد کی یہ باتیں بالکل اچھی نہ لگتی تھیں۔ جانے وہ کیسا دماغ رکھتے
تھے کہ لاہور جیسا شہر بھی ان کو نہ لبھا سکا۔ میں تو اس گل و گلزار جگہ
کو دیکھ کر جھوم اٹھی تھی۔ اتنی رونق؛ اتنی دولت: اتنا حسن کہ جیسے کسی
اور ہی دنیا میں پہنچ گئی تھی۔ تصور بھی نہ کرسکتی تھی۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *