کم عمری کی نادانی پارٹ ۲

کہ شہر اتنے بھی خوبصورت ہوتے ہیں۔
میرے ماموں کے گھر کا ماحول پاکیزہ تھا۔ مجھے اور منزہ کو کہیں اکیلے
آنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ منزہ ایک کم گو اور شرمیلی لڑکی تھی۔ گھر
والوں کے سوا کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ جب میں نے آٹھویں پاس کرلی
تو میری والدہ نے اصرار کیا کہ اب بخت بی بی کو ہمارے پاس بھیج دو۔
ماموں نے مجھ سے پوچھا۔ میں رونے لگی کہ ہرگز نہ جائوں گی۔ منزہ کے
ساتھ پڑھوں گی۔ والدہ اور والد آکر مل جاتے مگر میں ان کے ساتھ جانے کا
نام نہ لیتی۔ ماموں اور ممانی ان کو سمجھا بجھا کر بھیج دیتے کہ میٹرک تک
پڑھنے دوء اس کے بعد ہم اس کو لے آئیں گے۔
منصور بھائی نے میٹرک کرلیا تو میں نے چاہا کہ وہ بھی لاہور آجائیں اور
کالج میں داخلہ لے لیں لیکن والدہ اس کو بہت چاہتی تھیں۔ وہ تو مجھے ماموں
کے حوالے کرکے اب پچھتا رہی تھیں کہ میں واپس اس ماحول میں جانا نہ
چاہتی تھی کہ جہاں نہ بجلی تھی اور نہ سڑکیں! لوگ جوہڑوں سے بدبودار
پانی استعمال کرنے پر مجبور تھے ورنہ بارش کا جمع شدہ پانی جانوروں کے
ساتھ انسان بھی استعمال کرتے تھے۔ یہاں کوئی اسپتال تھا نہ شفاخانہ…! کوئی
بیمار ہوجاتا تو پہاڑوں سے اترتے اور شہر تک پہنچتے مریض کا دم نکل جاتا
تھا۔
جب سے میں نے لاہور آکر شہری زندگی کو دیکھا تھاء پہاڑ اب مجھے ہیبت
ناک دیو جیسے لگتے تھے۔ یہ تو میری خوش بختی تھی کہ میرے والد تعلیم
کی اہمیت کو سمجھ چکے تھے اور انہوں نے ماموں کے گھر رہنے کی
اجازت دی تھی ورنہ کہاں ممکن تھا کہ 1955ء کے زمانے میں کوہ سلیمان
کی باسی کتاب ہاتھ میں لیتی۔
لاہور آکر کالج میں پڑھنا تو میزے بھائی منصور خان کا بھی خواب تھا لیکن
ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ منزہ اب بڑی ہوگئی تھی۔ ممانی کے والدین بیٹی کو
کہتے کہ گھر میں تمہاری جوان لڑکی ہے۔ تم نے شوہر کی بھانجی رکھ لی اور
اب بیٹا بھی بڑا ہوگیا ہے تو شوہر کی بھانجی کو بلا کر گھر رکھنا ٹھیک نہیں۔
اس کو واپس اس کے والدین کے پاس بھیجو۔ جب میں نے یہ سنا۔ دعا کرنے
لگی۔ یااللہ جلد منزہ کی شادی ہوجائے تاکہ وہ اپنے گھر چلی جائے اور پھر
ماموں؛ ممانی میرے بھائی منصور کو اپنے گھر بلا لیں۔ ابھی تک منزہ کا
کس سے رفک کرس 1ا تھا کی کلاس کامرمو کو کون جات
میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔
ہمارے پڑژوس میں جو فیملی رہتی تھی؛ ان کا لڑکا میرے ماموں زاد طاہر کا ہم
عمر تھا۔ کبھی کبھی طاہر سے ملنے سعد آیا کرتا تو طاہر اس کو ڈرائنگ روم
میں بٹھاتا۔ میں نے لڑکا ایک بار دیکھا تھا۔ سعد خوبصورت تھا۔ وہ انجینئرنگ
کا طالب علم تھا اور یہ خوشحال لوگ تھے۔ ممانی کا ان کے گھر کبھی کبھار
انا جانا ہوتا تھا تاہم سعد کی بہن عرشیہ جو ہماری ہم عمر تھی؛ ہمارے پاس
آجاتی تھی۔ اس کی منزہ اور مجھ سے دوستی ہوگئی تھی۔
ایک دن وہ آئی تو میں نے کہا کہ تمہارا بھائی انجینئر بننے والا ہے۔ منزہ اس
کو پسند کرتی ہے تم کیوں نہیں اس کو اپنی بھابی بنا لیتیں۔ وہ بولی۔ جس لڑکی
کو میرا بھائی سعد پسند کرے گاء ہم اسی سے اس کی شادی کریں گے کیونکہ
وہ ہماری پسند سے شادی نہیں کرے گا۔ اس نے امی کو کہہ دیا ہے۔ کیا اس
نے کوئی آڑکی پسنند کرلی بے؟ نہیں ابھی تک تو نہیں کی ہے۔
تم منزہ کی بات اس کے کان میں ڈالو۔ ہوسکتا ہے میری کزن اس کو پسند
آجائے۔ پہلے وہ لڑکی کو دیکھے گا پھر پسند کرے گا۔ تم منزہ کی تصویر اس
کو دکھائو پھر کسی بہانے دیکھ بھی لے گا۔ طاہر بھائی کے پاس تو آتا ہی ہے۔
لیکن منزہ تو اس کے سامنے نہیں جاتی۔ ارے بھئی اسکول آتے جاتے دیکھ لے
گا نا۔ تم پہلے تصویر تو دکھائو۔ واقعی منزہ تمہارے بھائی کو پسند کرتی ہے۔
میں نے اپنی طرف سے جھوٹ بولا حالانکہ بے چاری منزہ کو تو علم بھی نہ
اپنی کزن کی ایک تصویر ڈھونڈ کر عرشیہ کو دے دی۔ تاکید کی کہ تصویر
دکھا کر مجھے واپس لا دینا۔ ہاں منزہ کو اس بات کا بالکل بھی پتا نہ چلے۔
وہ لڑکی سیدھی سادی تھی میری باتوں میں آگئی کیونکہ خود بھی منزہ کو
پئیلد کرکئ تھی۔ ان فے تصبویر لے :جاکر اپنے بھاتی کو دکھائی اور کہا یۂ
لڑکی تم کو پسند کرتی ہے بہت خوبصورت ہے۔ اچھی لڑکی ہے۔ طاہر کی
بہن تمہیں اچھی لگے تو امی سے کہو کہ اس کے ساتھ تمہارا رشتہ کردیں۔
پہلے مجھے امتحان تو دے لینے دو۔ ابھی سے میری شادی کی پ بڑاگئی ئے۔
سعد نے جواب دیا۔ عرشیہ نے تصویر اپنے پاس رکھ لی۔ مجھ کو واپس نہ کی۔
جب میں مانگتی وہ آج کل؛ آج کل کردیتی۔ اس طرح وقت گزرتا گیا۔ ہمارے
میٹرک کے امتحان ہوگئے اور مجھے بالآخر اپنے گائوں لوٹ آنا پڑا۔
بھائی نے بھی میٹرک کا امتحان دے دیا تھا۔ اس کی اب کالج جانے کی باری
تھی۔ عرشیہ کے بھائی کے امتحان ختم ہوگئے اور جلد اس کی ملازمت اسلام
آباد میں ہوگئی تو وہ ساری فیملی اسلام آباد شفٹ ہوگئی۔ وہاں سعد کی شادی
کی بات چلی۔ عرشیہ نے ماں کو منزہ کے بارے میں کہا۔ سعد سے پوچھا گیا۔
وہ تصویر دیکھ چکا تھاء دوبارہ بھی دیکھی اور ماں سے کہا کہ اسی لڑکی
سے میری شادی کردیں۔ یہ ہمارے پرانے پڑوسی ہیں دیکھے بھالے لوگ ہیں۔
منزہ بہت اچھی لڑکی ہے اور ان کا ماحول پاکیزہ ہے۔
آنٹی نے سعد کے والد کو راضی کرلیا اور وہ بیوی کے ہمراہ لاہور ماموں کے
پاس رشتہ طلب کرنے آگئے۔ ماموں نے سعد کے والد سے کہا کہ بے شک آپ
اچھے لوگ ہیں اور ہمارے پرانے پڑوسی ہیں مگر میں آپ کو بیٹی کا رشتہ
نہیں دے سکتا۔ ہم برادری سے باہر لڑکی کا رشتہ نہیں کرتے۔ آپ انکار نہ
کریں۔ لڑکے کے باپ نے اصرار کیا۔ آخر کیوں سر نہ کروں…؟ آپ کی
بیتی ہمارے بیتے کو پسند کرتی ہے۔ دیکھئے اس نے اپنی تصویر بھی سعد کو
تصویر دیکھ کر ماموں کا رنگ بدل گیا۔ بیٹی کا فوٹو اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔
وہ لوگ چلے گئے تو انہوں نے منزہ کو بلا کر اس کی تصویر دکھائی اور کہا
کہ یہ تصویر تم نے پڑوسی کے گھر بھجوائی تھی؟
وہ حیران رہ گئی۔ حیرت کے مارے زبان گنگ ہوگئی۔ منہ سے ایک لفظ بھی
نہ نکال سکی۔ منزہ کی خاموشی سے ماموں نے یہی سمجھا کہ شاید تصویر
اسی نے سعد کو دی ہے۔ وہ لاکھ روشن خیال سہی: اس معاملے میں ابھی تک
قدامت پسند ہی تھے۔ انہوں نے والد صاحب کو بلوایا اور کہا کہ میں منزہ کا
رشتہ آپ کے بیٹے سے کرنے کا خواہشمند ہوں لیکن ایک شرط ہے۔ اگر آپ
کو منظور ہو تو منصور خان یہاں لاہور آکر میرے پاس رہے گا۔ میں اسے
لاہور میں پڑھائوں گا۔ اس کی منزہ سے شادی ہوگی۔ شادی کے بعد میری بیٹی
لاہور میں رہے گی۔ منصور خان اس کو گائوں نہ لے جائے گا۔ وہ وہاں نہ رہ
سکے گی۔ اس سخت زندگی کی وہ عادی نہیں ہے۔ البتہ یہاں رہ کر تمہارے
بیٹے کی زندگی بن جائے گی۔ وہ تعلیم بھی حاصل کرلے گا اور میں اس کی
اجھی نوکری بھی لاہور میں لگوا دوں گا۔

کچھ سوچ کر والد نے ماموں کی شرط مان لی۔ منصور خان کی شادی منزہ
سے ہوگئی۔ اس کا لاہور جاکر تعلیم حاصل کرنے کا خواب بھی پورا ہوگیا۔
ممانی مجھے اچھی طرح دیکھ پرکھ چکی تھیں۔ میں دس برس ان کے گھر
رہی تھی۔ انہوں نے ماموں کو تجویز دی۔ کیوں نہ ہم طاہر کے لئے منصور کی
بہن کا رشتہ لے لیں۔ دونوں بہن بھائی لاہور میں رہیں گے تو آپا اور ان کے
شوہر بھی یہاں آجائیں گے۔ دراصل ممانی نے عرصہ قبل مجھے ہہو بنانے کا
سوچ لیا تھا۔ وہ مجھے پسند کرتی تھیں۔
جب ماموں نے میرا رشتہ طاہر کے لئے بابا جان سے مانگا تو منزہ بہت خوش
ہوئی۔ اس نے منصور کو بھی راضی کیا کہ وہ اپنے والدین کو راضی کرے۔
منصور بھائی نے گائوں جاکر والدین کی منت کی بلکہ اس چچا کی متث
سماجت کی جو میرا رشتہ ماموں کی طرف نہ ہونے دے رہے تھے۔ اس طرح
میرا بھی لاہور میں رہنے کا خواب پورا ہوگیا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی
کہ منزہ میری اور میں اس کی بھابی بنی تھی اور ہمارا ساتھ نہ چھوٹا تھا تاہم
آج تک منزہ کو یہ علم نہیں ہے کہ محض اپنے بھائی کو لاہور لانے کی خاطر
اس کی تصویر میں نے عرشیہ کو دے کر اس بے چاری کو والدین کی نگاہوں
یسرم کا دراکھاز
اس بات کا آج بھی پچھتاوا ہے لیکن وہ نادانی والی عمر تھی۔ اسے نقصان
پہنچانے کی نیت ہرگز نہ تھی۔ اس پر اپنے رب سے اب بھی معافی کی
خواستگار ہوں۔ صد شکر کہ عرشیہ نے یہ راز نہ کھولا ورنہ منزہ کے دل
میں میرے لئے نفرت کے جذبات جنم لے سکتے تھے۔ نادان عمر میں لڑکیوں
سے بلاشبہ ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ میری غلطی کا
نتیجہ اچھا نکلا ورنہ میں خود کو کبھی معاف نہ کرسکتی۔
(اکگکٔ لام )

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *