وعدہ نیباہ دیا پارٹ 1

چھوٹی سی تھی کہ ایک دن امی سورہی تھی۔ان کے سنگھار دان کو کھول کر
بیٹھ گئی۔ چیزیں دیکھتے دیکھتے ایک ڈبی پر نظر پڑی۔ کھول کر دیکھا کچھ
سفوف سا تھا۔ جانے کیا من میں سمائی کہ اس سفوف کو چٹکی بھر کر منہ میں
بھرلیا اور نگل گئی۔ حلق میں جاتے ہی آناً فاناً گلا بند ہونے لگا۔ ڈر سے ماں
کو نہ جگایا۔ دوڑ کر کچن میں جا گھسی۔ کولر سے ٹھنڈا پانی پیا۔ غرض بڑی
دیر تک اکیلی ہی اپنے کئے سے نبردآزما رہی۔
امی کا تو خوف تھا کہ مار پڑے گی لیکن گھر میں اُس وقت اور بھی کوئی نہ
تھا جو میری مدد کو آتا۔ دادی بوڑھی؛ چلنے پھرنے میں ان کو دقت ہوتی تھی۔
سفوف تو پانی سے اندر چلا گیا لیکن ڈ ٹھنڈا پانی پینے سے گلا بیٹھ گیا۔ سہمی
سی بیٹھی رہی۔ کچھ دیر بعد امی اُٹھ گئیں۔ مجھے سہما ہوا دیکھا تو پوچھا کیا
ہواہیۓے؟
میں نے گلے کی طرف اشارہ کیا کیونکہ بولنے میں دقت محسوس ہورہی تھی۔
وہ قریب آئیں۔ کہا۔ کیا گلے میں درد ہورہا ہے؟ میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔
انہوں نے گلے کو ہاتھ لگایا۔ آنکھوں کی سُرخی اور انگلیوں پر لگے رنگ
سے شک ہوا کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے۔ کیا کچھ اُلٹا سیدھا کھا لیا ہے؟ میں
نے وہ ڈبی نکال کر دکھائی۔ جس میں سفوف تھا۔
اف میرے خدا اس میں تو ”’سندور“ تھا۔ میری ایک سہیلی کا ہے۔ اس روز
20 9 0 00000
میں کیا بولتی بڑی مشکل سے رندھی ہوئی آواز نکالی لیکن بے معنی۔ انہوں
نے اسی وقت برقعہ اوڑھا۔ دادی اماں کو جگاکر کہا آپ گھر کا خیال رکھئے
گا۔ میں اسے لے کر حکیم صاحب کے گھر جارہی ہوں۔ اس وقت مطب کھلا
ہوگا یا نہیں۔ خدا کا شکر کے ان کا گھر بہت قریب تھا۔ جبکہ کبھی مطب بند
ہوتا امی جان ایمرجنسی کی صورت میں ان کے گھر چلی جاتی تھیں کیونکہ
ان کی بیگم میری والدہ کی رشتے دار تھیں۔
سخت گرمیوں کے دن تھے۔ حکیم صاحب سو کر اُٹھے تھے۔ وہ عصر کی
نماز پڑھ کر مطب کھولتے تھے۔ نماز پڑھ کر آئے پوچھا۔ ٹریا کیا بات ہے۔
خیریت تو ہے۔ والدہ نے بتایا۔ اس نادان رابعہ نے سندور پھانک لیا ہے۔ کتنا
پھانک لیا تھا؟ انہوں نے مجھ سے سوال کیا۔ میں نے چٹکی بھر کا اشارہ کیا۔
بچت ہوگئی ورنہ عمر بھر کو گونگی ہو جاتیں۔ کچھ دن اس کا گلا بند رہے گا۔
دوا دے رہا ہوں دعا کرو کہ آواز کھل جائے۔ انہوں نے امی کو مخاطب کیا۔ دوا
دے کر بولے۔ الله شفا دےء تین روز بعد آکر بتا جانا۔
امی نے حکیم صاحب کی ہدایت کے مطابق دوا کھلائی اور تین روز بعد دوبارہ
ان کے پاس لے گئیں۔ اس کیفیت میں کہ جونہی بولتی زبان رُکنے لگتی؛ گلا
صاف نہ ہوا۔ رندھی رندھی سی آواز نکلتی۔ چند الفاظ ہی بول سکتی تھی۔ گلا
خشک ہو جاتا اور میں خاموش ہو جاتی۔ گھبراہٹ میں تو کافی دیر تک کوئی
لفظ ہی نہ نکلتا۔
وقت کے ساتھ ساتھ آواز تھوڑی صاف ہوئی؛ لیکن پوری طرح گلا نہ کھلا۔
الم نے دوگرسماا کرابا ہس ظیع کو بھی دوبارہ دکھایا۔ انہوں نے کہا اب بس
ایسا ہی گلا رہے گا اور آواز بھی۔ یونہی بیٹھی بیٹھی نکلے گی۔ میں اور دوا
نہیں دے سکتا۔
ڈاکٹروں سے علاج کرائے لیکن رندھی ہوئی آواز ٹھیک نہ ہوسکی۔ گھبراہٹ
کی صورت میں تو کوئی لفظ ہی منہ سے نہ نکلتا۔ یوں اللہ نے صورت میں
کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ خوبصورتی میں نمبرون تھی۔ لیکن یہ ایک بڑا عیب
لگ گیا تھا۔ والدین کا خیال تھا وقت کے ساتھ ساتھ شاید خود بہ خود صحیح ہو
جائوں؛ ایسا نہ ہوسکا۔ یہ نقص میری قسمت میں لکھا جاچکا تھا۔ اب عمر بھر
اسی بیٹھی سی آواز کے ساتھ ہی جینا تھا۔
وقت گزرتا رہا۔ آٹھویں تو کسی طرح پاس کرلی۔ نویں میں انگریزی آڑے آگئی۔
میرے منہ سے الفاظ نہیں نکلتے تھے۔ ذرا سا ٹیچر ڈانٹ دیتیں تو پھر کچھ بھی
ضر سے ےک او دی ا یا
ب شادی کا مسئلہ درپیش ہوا۔ اچھی صورت اور موزوں قد کاٹھ کے باعث
رشتے آتے اور میرا نقص پتا چل جاتا وہ لوگ لوٹ کر نہ آتے یا پھر چھوٹی
بہنوں کو پسند کرلیتے۔ جب عرصے تک یہی ہوتا رہاء والدین نے چھوٹی
بیٹیوں کے رشتے طے کردیئے۔ والدہ نے کہا کہ جب رشتے کے لئے تمہیں
دیکھنے آئیں تو زیادہ نہیں بولنا بس سلام کرکے چلی جانا۔
اب جو رشتہ آیا یہ بہت سیدھے سادے لوگ تھے۔ زیادہ امیر نہ تھے گزارے
لائق آمدنی تھی۔ ماں نے سوچا بہتر ہے کہ ان سے ہی ناتا جوڑ لیں۔ ورنہ
خوشحال لوگوں کے چکر میں کہیں رابعہ کی عمر ہی نہ نکل جائے۔ لڑکے کی
ماں اور بہن مجھے دیکھنے آئیں۔ ماں کی ہدایت کے مطابق چائے کی ٹرے
لائی سلام کیا اور فور الٹے قدموں پلٹ گئی تاکہ یہ دوسری بات نہ کردیں۔
والدہ نے کہا کچھ گلا بیٹھا ہوا ہے اس نے زیادہ ٹھنڈا پانی پی لیا تھا۔ خاتون
بولیں۔ کوئی بات نہیں لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔ ہمیں آپ کی بیٹی پسند ہے گلا
ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے۔ انہوں نے میری آواز
کے نقص پر زیادہ توجہ نہ دی اور یوں میرا رشتہ ثاقب سے طے ہوگیا۔ شادی
کے بعد سسرال اور دولہا پر یہ بھید کھلا کہ میری آواز مستقل خراب ہے۔ میاں
نے اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کرلیا۔ کہا کہ خدا نے شاید میرا اسی کے ساتھ
جوڑا بنایا تھا۔ شکل و صورت اچھی ہے۔ سیرت بھی اِن شاء اللہ اچھی ہوگی۔
اگر یہ عیب اس میں ہے اس کا تو قصور نہیں ہے۔
ثاقب کی بہت مشکور ہوئی۔ اللہ سے ڈرتے تھے۔ مجھ کو بغیر کوئی تلخ بات
کہے اپنا لیا… بلکہ ساس نے کہا اگر ہم نے اب دلہن میں عیب نکالے تو دنیا ہم
ہی کو کہے گی کہ پہلے کیوں نہ دیکھا۔ اس بچاری کا کیا قصور؟ لڑکی والے
بھی مجبور ہوتے ہیں۔ ہم خدا کو ناراض نہیں کریں گے۔ لوگوں کو جو کہنا ہے
کہیں ہمیں پروا نہیں ہے۔
شوہر اور سسرال والوں کے اس اچھے عمل نے مجھے ان کا تابعدار کردیا۔ دل
لگا کر گھر کے سب کام کرتی ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتی لیکن
اس احسان مندی کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار بھی ہوگئی تھی۔ دعا
کرتی یا اللہ کسی طرح میری یہ پھٹی پھٹی آواز ٹھیک ہو جائے۔ چاہتی تھی کہ
ایک بار کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج ہو جائے؛ ممکن ہے یہ نقص صحیح ہو
جائ
جائے۔
ثاقب ایک دفتر میں سرکاری ملازم تھے۔ میرے کہنے سے ان کی دسترس میں
جو ڈاکٹر تھے ان کو دکھایا مگر نقص تقو کلم کس لت اس ااقض
سے ادن سجھوکہ کرٹ تی یوقت کے سک ساکہیپنگائی پڑھنے لگی
ایکن کشر اسی خاطا خواہ اضافہ نہ ہوتاء تب ایک روز ثاقب نے سوچا کہ
اس طرح ساری عمر قلیل آمدنی میں کیوں کر اچھی زندگی کے خواب پورے
ہوں گے۔ کچھ اور تدبیر کرنی چاہئے۔ اپنے ایک کولیگ سے مشورہ کیا وہ
خود حالات سے تنگ تھاء اس نےکہا ہمیں نوکری چھوڑ کر کوئی چھوٹا موٹا
کاروبار کرلینا چاہئے۔ پس اُس نے بھی ثاقب کے ساتھ مل کر کاروبار کرنے
کی سوچی اور دونوں نے ایک ساتھ نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔
ہمارے سسر صاحب کا یہ مکان جس میں ہم رہتے تھے پانچ مرلے کا تھا۔ اس
ذاتی گھر کے علاوہ ایک پلاٹ جو انہوں نے عمر بھر کی جمع پونجی سے
سستے داموں خریدا تھا وہ اب خاصا مہنگا ہوگیا تھا۔ یہ پلاٹ سسر صاحب نے
ثاقب کو دے دیا تھا کہ اس پر کبھی گھر بنوالینا۔ انہوں نے اس کو فروخت کیا
ساتھی رمضان صاحب نے بھی ایسا ہی کچھ کرکے رقم اکٹھی کی؛ یوں دونوں
دوستوں نے مل کر ریڈی میڈ گارمنٹ کا کام شروع کردیا۔ ہمارے علاقے میں
اور دکانیں تھیں مگر ریڈی میڈ گارمنٹس کی کوئی شاپ نہیں تھی۔
ثاقب کی یہ دکان کیا کھلی… سارا محلہ یہیں سے شاپنگ کرنے لگا۔ بچوں کے
کپڑوں کی تو ہر گھر میں مانگ رہتی ہے۔ شاپ دنوں میں چل نکلی۔ میرے
شوہر کا پارٹنر بھی ایماندار اور محنتی تھا۔ غرض دکان دن دونی رات چوگنی
ترقی کرنے لگی۔
دیکھتے دیکھتے کھپت اتنی بڑھی کہ دورپار محلے والے بھی ہماری دکان
کارخ کرنے لگے۔ کیونکہ یہاں مناسب ریٹ پر وہ کپڑے مل جاتے تھے؛ جو
بڑے بازاروں میں زیادہ ریٹ پر ملتے تھے۔ دور بھی نہیں جانا پڑتا تھا۔ ہر
عمر کے بچوں کے روزمرہ کے لباس اور اسکول کے یونیفارم اب ثاقب کی
شاپ پر دستیاب تھے اس کے علاوہ بچوں کے کھلونے اور اسی قبیل کا
سامان بھی سجا دیا۔ خوشحال متوسط غریب ہر طرح کی آمدنی والوں کو
سہولت ہوگئی اور اللہ نے ایسی رزق میں برکت دی کہ وارے نیارے ہوگئے۔
ثاقب لاہور اور کراچی کی فیکٹریوں سے نت نئے ڈیزائن کے ملبوسات لاتے
تھے۔
رمضان بھائی دکان سنبھالتے تو ثاقب خریداری کو کراچی؛ لاہور جاتے۔ دونوں
مل کر محنت کر رہے تھے اللہ پاک برکت ڈالتا گیا۔ اب وہ کاروبار میں ا
قدر مصروف ہوگئے کہ ان کو کسی اور طرف توجہ دینے کی فرصت نہ رہی۔
دکان خریدلی اور پھر دو سال بعد ساتھ والی دکان برائے فروخت ہوئی تو وہ
بھی خریدلی۔ دکان کو اور بڑا کرکے شو روم بنالیا۔ ہماری دکان نے اس
چھوٹے سے بازار کی رونق اور شان بڑھا دی تھی جن کے گھر ن٭ےتتقف
تھے انہوں نے بھی اپنے گھروں کو دکانوں میں تبدیل کرنا شروع کردیا۔ یہ
بازار بڑے بازار میں بتدریج تبدیل ہونے لگا تو دکانوں کی اہمیت اور ویلیو
بڑھنے لگی۔ اس سارے عرصے میں ثاقب کو یہ خیال نہ آیا کہ ابھی تک ہم
اولاد کی نعمت سے محروم ہیں۔ شادی کو چھ سال گزر گئے۔
اپنی کاروباری مصروفیت سے ان کو فرصت نہ ملی تو ایک روز بڑی نند جو
شادی شدہ تھیں مجھے ایک لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ رپورٹیں دیکھ کر
کزان سےا کز کسے کؤں اوسکنے ان میں ڈازافا ی نقص ہے۔ یہ سن کر
وہ بجھ کر رہ گئیں۔ گھر آکر والدہ کو بتایا تو ان کی بھی آنکھیں اشک بار
ہوگئیں۔ لیکن ثاقب نے اتنی بڑی بات پر بھی کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا اور نہ
مجھ سے اپنا رویہ تبدیل کیا۔ مجھے ان کے حوصلے پر حیرت ہوئی کہ یااللہ ی
کیسا آدمی ہے انسان ہے کہ فرشتہ اتنی بڑی حقیقت جان کر بھی ایک لفظ
مایوسی کا منہ سے نہیں نکالا بلکہ ہر ایک سے میری تعریف کرتے رہتے۔
میری بیوی بہت بھاگوان ہے میں ایک مفلس سفید پوش تھاء رابعہ کے آتے ہی
دھن دولت سے گھر بھر گیا ہے۔
(جاری ہے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *