وعدہ نیباہ دیا پارٹ ۲

دولت زیادہ ہو تو اُلٹی سیدھی باتیں سوجھتی ہیں۔ ایک دن سنا کہ انہوں نے
اپنے آفس میں سیکرٹری رکھ لی ہے۔ اب وہ ثاقب سیٹھ کہلاتے تھے۔ زمانہ بدل
چکا تھا۔ سبھی سیٹھ لوگ اپنی سیکرٹری کسی خوش شکل؛ خوش لباس تعلیم
یافتہ خاتون ہی کو رکھتے تھے۔
جب ان کو آفس فون کرتی… کوئی خاتون آگے سے پیلو کہتی۔ زیادہ نہ بول
سکتی تھی؛ سوالات نہ کرسکتی تھی خاموشی سے رسیور رکھ دیتی تھی۔
ثاقب کو فون زیادہ تر میری ساس کراتی تھیں۔ کہتیں۔ بیٹی رابعہ ذرا فون تو ملا
دو۔ ضروری بات کرنی ہے گھر پر تو رات گئے آتا ہے۔ آخر کب بات کروں؛
اب میں فون ملا کر ساس کے کان پر رکھ کر پرے چلی جاتی۔
ایک دن میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے دفتر میں کون عورت بٹھا رکھی ہے؟
جب فون کرو وہی اُٹھاتی ہے۔ آخر عورت ہی کیوں؟ مرد بھی تو رکھ سکتے
تھے۔ بولے۔ یہ کاروباری معاملات ہیں تم ان میں دخل نہ ہی دو تو اچھا ہے۔
مجھ کو مطمئن کرنے کی بجائے اس قسم کا جواب دیا تو دل اور بھی ماندہ
ہوگیا۔
روایتی بیویوں والا حسد میرے اندر سر اُٹھانے لگا۔ جب آتے یہی کہتی کہ خدا
جانے وہ سیکرٹری کیوں رکھی ہے۔ کیا اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ میرے
بردبار اور تحمل مزاج میں اتنی تبدیلی ان کو ایک آنکھ نہ بھائی؛ بالآخر ایک
روز جھنجھلا کر کہہ دیا۔
رابعہ تم کو اس بات کے علاوہ کوئی اور بات نہیں سوجھتی۔ میں نے تمہارے
اندر ہر کمی کو برداشت کیا اور تم آج مجھ پر غرا رہی ہو۔ ذرا خود کو
دیکھو… ڈھنگ سے بول تک نہیں سکتیں نہ میں تم کو اپنے ساتھ کہیں دعوت
میں لے جاسکتا ہوں۔ نہ کسی کے گھر کہ تم کسی طریقے سے بات کا جواب
نہیں دے سکتیں؛ تم ہی میری قسمت میں رہ گئی تھیں۔
حیرت سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سوچا بھی نہ تھا کہ اتنا
باحوصلہ بڑے دل گردے والا آدمی کبھی اس طرح بول پڑے گا۔ مگر یہ حقیقت
ہے کہ انسان کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ بدلتے حالات کے ساتھ انسانوں کے
رویے بھی بدلتے جاتے ہیں۔ خود اپنا تجزیہ کرتی تو ان کو حق پر پاتی لیکن
ووٹ پھر بھی اپنی ذات کو ہی دیئے بن پڑتا تھا۔ اب تو ان کے صبر کا بند
جیسے ٹوٹ گیا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر یاد دلانے لگتے کہ انہوں نے میری
خاطر کتنی بڑی قربانی دی ہے۔
جب وہ ایسی باتیں منہ سے نکالتے دل خون کے آنسو رونے لگتا۔ الٰہی میں کیا
کروں کہ میرے گلے کا یہ نقص ختم ہو جائے اور میں بانجھ بھی نہ رہوں۔
ایک دن وہ بڑے موڈ میں تھے کافی دنوں بعد گھر میں سارا دن گزارا۔ کہنے
لگے رابعہ … ہماری اولاد نہیں ہے۔ تمہارے بارے میں اکثٹر سوچتا ہوں؛
کیوں نہ یہ کوٹھی تمہارے نام کر دوں۔ کل کلاں مجھے کچھ ہو جائے یا کوئی
حادثہ پیش آجائے۔ میں نے کہا۔ خدا نہ کرے۔ آپ کیوں ایسی باتیں منہ سے
نکالتے ہیں۔ کہنے لگے۔ دنیا میں سب کچھ ممکن ہے۔ آنے والا وقت اپنے دامن
میں کیا چھپائے ہے یہ کون جانتا ہے۔ پھر کچھ کاغذات نکالے۔ کہا کہ ان پر
دستخط کردو تاکہ کچھ اثاثہ تو تمہارے نام کردوں۔ میں نے بغیر کاغذات پڑھے
دستخط کر دیئے۔ اس کے بعد انہوں نے کاغذات مجھ سے لے لئے کہا کہ لاکر
میں رکھوا دوں گا۔
میں ان سارے معاملات سے نابلد تھی؛ بعد میں پتا چلا کہ شادی کے اجازت
نامے پر سائن کروالئے ہیں یہ میری نند نے مجھے فون کرکے بتایا۔ مدت بعد
میں امی کے گھر آئی تھی؛ ابو بیمار تھے میکے کچھ دن ٹھہرنا پڑاء بالآخر
والد کا انتقال ہوگیا۔ میکے میں دو ماہ اور رہنا پڑ گیا اس دوران ثاقب آتے؛
کہتے ابھی یہیں رُکو؛ میں تم سے مل جاتا ہوںء والد کی حالت نازک ہے
تمہاری ماں کو اس وقت تمہاری ضرورت ہے۔
ابو کی وفات کے بعد بھی انہوں نے ابو کے چالیسیویں تک میکے میں رہنے
کی ہدایت دی تھی جبکہ میں نے اتنے دن کبھی اپنے گھر کو نہیں چھوڑا تھا۔
جب چالیسواں ہوگیا۔ فون کیا کہ اب تو آکر لے جائوء تب نند نے بتایا کہ بھائی
ثاقب نے شادی کرلی ہے۔ اولاد کی خاطر کی ہے۔ مگر تمہاری اپنی اہمیت ہے
تم ہماری بڑی بھابھی ہو۔ دوسری کو الگ گھر میں رکھیں گے۔ ہم تمہارے ساتھ
ہیں۔ دل کو ایسا دھچکا لگا کہ پچھاڑ کھا کر گری اور پھر نہ اُٹھ سکی۔ بیمار
ہوگئی۔ والدہ نے تسلی دی؛ وہ بھی اکیلی ہوگئی تھیں۔ دونوں چھوٹی بیٹیاں اپنے
گھروں کی تھیں میرا دل گھائل تھا۔ سسرال نہ جانے کا تہیہ کرلیا کہ ثاقب اب
اپنی زندگی نئے ساتھی کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کریں۔ میں امی کا
سہارا بنوں گی۔ ۱
لیکن آرام و سکون تو اسی جگہ ملتا تھا۔ ماں کا گھر پرایا لگتاء جی کرتا کہ اڑ
کر گھر جا پہنچوں۔ ثاقب نے ایک دو بار فون کرکے پوچھا۔ آنا چاہو تو بتائو
میں آکر لے جاتا ہوں۔ اماں کی خواہش پر دوسری شادی کی ہے۔ ان کو میری
اولاد کی آرزو تھی۔ اس ضعیفی میں ان کی خواہش کو ٹھکرا نہیں سکا۔ تم اپنے
گھر میں رہو گی؛ وہ دوسرے گھر میں رہے گی۔ تمہارے سامنے بھی نہ لائوں
گا۔ میں مختصر بات کرسکتی تھی۔
بس آپ خوش رہیں؛ اس کے ساتھ میں امی کے پاس رہوں گی۔ یہ کہہ کر فون
بندکر دیا۔ کچھ دن صبر کیاء دل پر جبر کیاء پھر گھر جانے کی ٹھانی؛ اپ
جائوں کیسے خود تو انکار کیا تھا۔ ساس سے بھی ناراضگی تھی؛ ایک نند تھی
جو میری طرفدار تھی۔ اس سے سور وسسرجہ سے سو وت
کروائے تھے تمہار اوت نے وہ اگر لاکر دو تو میں گھر لوٹ آئوں
گی۔ وہ بچاری کھوجتی رہی۔ بالآخر ثاقب کی الماری سے ایک فائل میرے نام
کی نکل آئی۔ مجھے بھجوا دی۔
سمجھ میں نہ آیا کہ ان میں کیا لکھا ہےە کیسی قانونی باتیں درج تھیں۔ امی نے
مشورہ دیا کہ ان کاغذات کو کسی وکیل کو دکھانا چاہئے دیکھیں ان میں کیا
درج ہے بغیر ان کو سمجھے لوٹ کر شوہر کے پاس مت جانا۔ نہ جانے کیا
شرائط اپنی طرف سے لکھ کر تم سے دستخط کروا لئے ہیں۔
یہ اصل کاغذات نہ تھے۔ ہمارے ایک دور پر ے کے عزیز تھے ان کے ایک
بیٹے احتشام ء وکیل تھے۔ امی نے ان کو فون کیا وہ گھر آگئے۔ کہا کہ فائل لے
کر میرے دفتر آجانا۔ دفتر کا پتا اور فون نمبر ان کے کارڈ پر درج تھا جو
مجاقے نڑے گان ال روز وَالطا از کوژاں نس کرس جاوے :2ؤ ھا مو انی
احتشام کو فون کیا کہ آپ نے آج بلایا تھا لیکن امی بیمار ہیں اکیلی نہیں
آسکتی۔ میں گاڑی بھیج رہا ہوں میرا ڈرائیور لینے آئے گا اس کے ساتھ آجائو۔
واپسی میں گھر ڈراپ کرادوں گا۔ میں آج فارغ ہوں بعد میں وقت نہ ملے گا۔
ایک گھنٹے بعد ان کا ڈرائیور گاڑی لے کر آگیا۔ میں کاغذات والی فائل کے
ساتھ احتشام کے دفتر چلی گئی۔ منتظر تھے بہت خوش دلی سے استقبال کیا۔
فائل دیکھی۔ بولے۔ نام تو تمہارے پراپرٹی کرنا چاہتے تھے لیکن صرف
کاغذات کی حد تک۔ رجسٹری نہیں ہوئی ہےء شاید ارادہ ہوگا پھر بدل گیا ہوگا۔
دوسری شادی کے لئے اجازت نامے پر بھی دستخط کرائے ہیں۔ تمہارے ساتھ
اس شخص نے دھوکا کیا ہے۔ ثاقب پر کیس بن سکتا ہے کہو تو کیس کرتا ہوں۔
میں ان پر کیس نہیں کرنا چاہتی۔ اگر کیس کیا تو وہ مجھے طلاق دے دیں گے۔
والدہ ضعیف ہیں بالآخر ثاقب میرا سہارا ہیں اور انہی کا گھر میرا گھر ہے۔
ہرگز ایسا نہ چاہوں گی کہ یہ دروازہ بڑھاپے میں مجھ پر بند ہو جائے۔ تم اس
کی فکر مت کروہ اگر اس نے ایسا کیا میں تم کو سہارا دوں گا۔ اس پر دھوکہ
دہی اور جعل سازی کا کیس بنتا ہے ہرجانے کا دعویٰ تمہاری طرف سے دائر
کردوں گا
یہ سن کر گھبرا گئی۔ یہ کہہ کر جان چھڑائی۔ اماں سے مشورہ کرکے بتائوں
گی۔ انہوں نے واپس مجھے خود اپنی گاڑی ب پر گھر چھوڑا تھا۔ اس کے بعد میں
نے وکیل صاحب کو فون نہ کیا لیکن وہ روز فون کرتے کیا سوچا ہے؟ کیوں
دیر کررہی ہو دیر سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ دوسری شادی وہ کرچکا ہے۔ اس
کو تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تو ہے… یہ کہنا چاہتی تھی نہ کہا۔
صرف یہ کہا کہ کیس نہیں کرنا ہے۔ اماں نے منع کردیا ہے۔
میں نے توبہ کی پھر ان وکیل صاحب سے رابطہ نہ کیا مگر وہ پنجے جھاڑ
کر پیچھے پڑ گئے۔ روز فون کرتے؛ کیس کی افادیت بتاتےە دفتر آنے کا
کہتے۔ میں زچ آگئی؛ بالآخر گھبرا کر ثاقب کو فون کیا کہ آجایئے میں آپ کی
منتظر ہوں: وہ بھی جیسے منتظر تھے فوراً آگئے۔ میں رو پڑی؛ ہر بات
حرف بہ حرف سچ سچ بتا دی۔ کہا کہ آپ کی محبت میں یہ سب کیا ہے۔
گھر چلو؛ امی کو بھی لے چلو؛ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ میری اماں بیمار ہیں تم
کو بہت یاد کرتی ہیں۔ ان کو تمہاری اشد ضرورت ہے اور مجھے بھی… میں
تو یہی چاہ رہی تھی؛ اس طرح کی غیر محفوظ اجاڑ زندگی سے تو اپنا گھر
اچھا تھا۔
اپنے گھر آکر اس قدر سکون ملا کہ سوتن یاد ہی نہ رہی؛ جو علیحدہ گھر میں
رہ رہی تھی۔ ثاقب نے دوسری شادی ضرور کی لیکن مجھے نہ بُھلایا۔ میرے
ساتھ اُسی طرح وج سے ملے ونکے کرتے الک لپ لیگ سو راتفرہت
بیوی کے پاس اور پھر ہمارے پاس زیادہ بھی رہ جاتے کہ والدہ علیل تھیں۔
میں نے ساس کی بہت خدمت کی وہ مجھ کو دعائیں دیتی رخصت ہوگئیں۔ اللہ
ان کو جنت نصیب کرے۔ بڑی نند بیوہ ہوگئیں تو میرے پاس آگئیں ان کی اولاد
نہ تھی بہنوں کی طرح ساتھ رہتیں۔ ان کے پیار نے میرے دکھ بھلا دیئے..
سوتن کے چار بچے ہوگئے۔ بچے بھی آجاتے تھے مگر سوتن کو ثاقب میرے
سامتنے تر لاٹۓ کہے۔لیں کا انہوں کے جم سے رہ زا تھا ای لَااکز میررے
نام اتنی پراپرٹی کرگئے کہ ان کی وفات کے بعد مجھے کسی کا محتاج نہ ہونا
پڑا۔ خدا ان کو جنت نصیب کرے۔ ثاقب جیسے شوہر قسمت والیوں کو ملتے
ہیں۔ آج ان کے بچے جوان ہوگئے ہیں میرے پاس آتے رہتے ہیں اور یہ ان ہی
کی تربیت ہے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *