وہ منظربھلانہیں سکتی پارٹ ١

جب موت کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دینے لگتی ہے اور اجل کے
فرشتوں کی آمد کا ادرک ہوجاتا ہے سانس کی دھونکنی کبھی تیز کبھی ہلکی
اور کبھی بالکل خاموش ہوجاتی ہے۔ مادّی دنیا سے آہستہ آہستہ ناتا ٹوٹنے لگتا
ہے۔ انسان کبھی عالم ہوش میں اور کبھی بے ہوشی کی کیفیت میں چلا جاتا
ہے۔
ایسے ہی لمحات میں امجد جو کلینک میں زندگی کی ڈور ٹوٹنے کے انتظار
میں بستر مرگ پر تھاء اُسے آگہی ہوگئی تھی کہ وہ اب نہیں بچے گا۔ اس نے
نرس اینا سے التجا کی کہ کسی مسلمان کو بلادے جو سورۂ یسین کی تلاڈوت
گررک ےی
اینا نے مجھے فون کیا اور میں ازراہِ ہمدردی اس کے کلینک چلی گئی۔ ایک
بڑے سے ہال میں بہت سے مریض لیٹے ہوئے تھے جو لاعلاج اور موت کے
منتظر تھے۔ انہی مریضوں کے درمیان امجد بھی آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔اس
کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا , ہوا تھا۔ اینا نے اسکرین پر اس کے پھیپھڑوں
میں آکسیجن کی تسلی بخش مقدار دیکھ کر منہ پر سے نلی ہٹادی اور میرا
تعارف کروایا۔ یہ یاسمین ہیں۔ ہوسٹن ہی میں رہتی ہیں اور یہ ہیں مسٹر امجد
اسلام۔ وہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا۔ اس نے بتایا کہ انہوں نے سورۂ یٔسین
سننے کی درخواست کی ہے۔ میں نے پرس سے پنچ سورہ نکال کر تلاڈوت
شروع کردی۔ اس شخص کے چہرے پر ایک عجب سی سختی مگر لاچاری
الله تعالیٰ نے چہرہ بھی عجیب چیز بنایا ہے جو انسان کے اصل کردار کو بے
نقاب کردیتا ہے۔ جس پر نمایاں کام آنکھیں کررہی ہوتی ہیں۔ اس کی آنکھوں
سے آنسو بہہ کر کنپٹیوں سے ہوتے تکیئے میں جذب ہورہے تھے۔ حیران تھی
کہ ایسے انسان کو وقت آخر سورۂ یٔسین سننے کی تمنا تھی جس کی سخت دلی
اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔ سچ ہے کہ جب کسی کو موت کا یقین ہوجاتا
ہے تو ساری زندگی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگتی ہے۔
درندہ صفت انسانوں کو بھی اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے۔
جب تلاوت کرچکی تو میں نے اس سے گفتگو کا آغاز کیا۔ اس وقت مجھے
محسوس ہوا کہ تلاوت سن کر اسے یک گو نہ سکون ملا تھا۔ تاہم اس کے دل
پر کوئی بوجھ گراں موجود تھاء جس کو اتارنے کو اس کا جی بے چین تھا۔
میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔ کیونکہ جب میں نے اس سے بہانے بہانے اور
گفتگو جاری رکھنے کی خاطر کچھ سوالات کئے تو اس نے کہا۔
میری زندگی کی کہانی عجب ہے لیکن اب جبکہ موت کو بہت قریب سے
محسوس کررہا ہوںء اس بوجھ کو مرنے سے پہلے اتار دینا چاہتا ہوں۔ اگر آپ
کے پاس اتنا وقت ہے کہ تسلی سے میری باتیں سن سکیں تو سنائوں۔
ہاں کیوں نہیں ضرور سنائو۔ میں نے دلجمعی سے کہا۔ دراصل خود یہی چاہ
رہی تھی کہ وہ جو کہنا چاہے؛ کہہ دے تاکہ اسے تو سکون نصیب ہو۔
اب اس نے کہنا شروع کیا۔ میرا تعلق ایک ایسے ملک سے ہے جو پہلے آپ
کے ملک کا حصہ تھا پھر ہمارے درمیان علیحدگی پسندی نے جنم لے لیا۔ اس
تحریک کے جو بھی محرکات ہوں اس سے قطع نظر؛ جب ایک قوم یہ تہہ
کرلیتی ہے کہ اس نے اپنی خطہ زمین پر ایک الگ راجدھانی کو تشکیل دینا
ہے تو اس انقلاب کے لئے انسانوں کو بہت سے عذابوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
ہمارے اندر بھی علیحدگی پسندی نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا کہ ہم ان
لوگوں سے نبردآزما ہوگئے کہ جنہیں پہلے ہم اپنے ہم وطن اور بھائی کہتے
تھے۔ میں علیحدگی پسند تحریک میں مخبر بن گیا۔ اس زمانے میں ہمارے
اسکولوں؛ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ہر طالب علم اپنے وطن کے اس حصے
کے باشندوں کا دشمن بن گیا تھا جہاں سے ہم علیحدگی چاہتے تھے۔
میں بھی کالج کا طالب علم ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے خلاف ہر کام
کرنے پر تیار ہوگیا تھا۔ ہمارے کچھ ساتھی اب تک علیحدگی پسندی کو قبول نہ
کررہے تھے اور اس عمل کو ناپسندیدہ نظر سے دیکھتے تھے جو ایک ملک
کو دولخت کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اب وہ بھی ہمارے لئے دشمن کا درجہ
رکھتے تھے حالانکہ وہ سارے وطن کے وفادار تھے کہ ان کے بزرگوں نے
یہ وطن اتفاق رائے سے بنایا اور تعمیر کیا تھا۔ تب ہم اپنے سے مخالف خیال
رکھنے والوں کو بھی دشمن جان کا درجہ دینے لگے اور ان کو گھروں میں
محصور رہنے پر مجبور کردیا۔
جب تحریک نے زور پکڑا ان لوگوں کو بھی لوٹنا اور جان سے مارنا شروع
کردیا گیا۔ یہ بھی اکثر ہوتا کہ لوٹ مار کے بعد ان کے گھروں کو جلا دیا جاتا۔
جو بھی مخالف خیال لوگ تھے ہم ان کے گھروں کو آگ لگانے کے بعد ان
کی جوان لڑکیوں کو اٹھا لے جاتے اور بے حرمتی کرتے: پھر انہیں بعد میں
زندگی سے محروم کردیتے اور کچھ ان بدنصیب لڑکیوں کو سرحد پار لے
جاکر فروخت کردیتے یا قحبہ خانوں کے سرپرستوں کے ہاتھ بیچ دیتے۔ جو ان
مظلوموں سے اپنے قحبہ خانے کے بالاخانے سجاتے۔ان مظلومء ہم وطن
لڑکیوں کو جب ہم گھسیٹ کر اپنی گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح بھرتے
تو ان کی گھٹی گھٹی سسکیاں عرش تک جاتی ہوں گی لیکن ہمیں ترس نہ آتا
کہ یہ سب کچھ جنگ کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
ایک بڑا پڑژوسی ملک جس کی مدد ہمیں میسر تھی وہاں سے عمدہ مئے ہم
ایسے نوجوانوں کو بطور تحفہ بھیجی جاتی تھی۔ کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ
یہ شے انسان کی حمیت اور خمیر کو سلا دیتی ہے اور اگر انسان نشے کا
عادی ہوجائے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی مفقود ہوجاتی
ہے۔ اس کام میں پڑژوسی ملک کی فوج پورا پورا ساتھ دے رہی تھی۔ ان کا ایک
مقصد یہ بھی تھا کہ وہ ہماری ملوں میں لگی بہت سی مشینری یہ کہہ کر اُکھاڑ
لے جائیں کہ جب تم لوگ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے بعد امن میں آجائو
گے اور نکی عاروتگی کاہامول کرو لئے گا ٹویروراہاٹرونیں
کردیں گے۔ لیکن بعد میں انہوں نے یہ قیمتی مشینری واپس نہ کی اور اپنے ہاں
کی ملوں میں لگادی۔
وطن کے محافظوں کے لئے یہ بڑی آزمائش کا وقت تھا کہ وہ اپنے ہی لوگوں
کے مدمقابل آجانے پر مجبور تھے اور علیحدگی پسندوں سے نبردآزما ہونے
کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بعض اوقات ہمارے ساتھی اغوا کٹ اؤکزون کو ان
ٹرکوں میں بھی دھکیل دیتے جو مشینری لے جانے کی غرض سے آتے تھے
اور یہ قیمتی اثاثہ پڑوسی ملک لے جارہے ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی
نوجوان خون کو جس میں اکثریت طالب علموں کی تھی۔ زہریلے پروپیگنڈے
کے ساتھ مالی مدد اس شرط پر دی جاتی کہ وہ اپنے وطن کے ان وفاداروں پر
جو علیحدگی نہ چاہتے تھے عرصۂ حیات تنگ کردیں۔ گھر جلا کر ان کا مال
و متاع اپنے قبضے میں کرلیں۔ ان کے وطن کے محافظوں کی مخبری کریں۔
جس کا انہیں بڑا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ لوٹے ہوئے مال اور پڑژوسی ملک کی
طرف سے معاوضے اور عنایات نے ہم ایسوں کو تو بالکل ہی بدحواس کردیا
تھا… جو کہ مشرقی بازو کو مغربی بازو سے علیحدہ کروانے کے در پہ
تھے۔ ہم نے بھلا اتنا پیسہ کہاں دیکھا تھا۔ رہی سہی کسر وقت کی مئے ناب نے
پوری کردی تھی تاکہ عقلیں معطل رہیں اور ہم ظلم ڈھانے میں بے باک
ہوجائیں۔.. اب ہم کو خنجر چلانے اور پستول داغنے سے عار نہ تھا۔ انسانی
جانیں لینا سہل اور دو دھاری خنجر سینوں میں گھما دینا ہمارے لئے بائیں ہاتھ
کا کھیل تھا۔ ہمارے نزدیک انسان کھلونا ہوگئے تھے۔ اس طرح خنجر گھمانا
دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے… اس کی ہم کو تربیت مل چکی تھی۔ یہ ہم ان کے
ساتھ بھی کرتے جو ہمارے شہرء ہمارے دیہات کے ساتھی تھے مگر ہمارے
سلوگن میں ہم آواز ہونے سے انکاری تھے۔
(جاری ہبے)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *