وہ منظربھلانہیں سکتی پارٹ ۲

ایک اندھیری رات جب میں دو چار جام پی کر ساتھیوں کے ہمراہ کوئی خونی
کارنامہ کرکے آرہا تھا۔ ایک گھر سے دھواں اٹھتے دیکھا۔ گھر کے دروازے
کھلے نظر آگئے۔
انسان جب حد سے باہر ہوتا ہے وہ انسان نہیں رہتا۔ مجھے تو یقین تھا کہ اس
گھر کا ہر مکین مرچکا ہے۔ کیونکہ شام کو یہ گھر برباد ہوچکا تھا۔اندر داخل
ہوا تو وہاں ہُو کا عالم تھا۔ سامنے ایک خالی پلنگ نظر آیا۔ ابھی تک ایک مدھم
یں ا ا تق سے کس ا ا 9
ہوا اس پلنگ پر گرگیا۔
آدھ گھنٹے بعد کسی کے سسکنے کی آواز سنائی دی۔ اِدھر اُدھر دیکھا۔ کوئی
نظر نہ آیا۔ جیب سے ٹارچ نکالی اور سارے کمرے میں اس کی روشنی
گھمانے لگا۔ تبھی وہاں ایک کونے میں بمشکل آٹھ نو سال کی بچی سمٹی ہوئی
بیٹھی سسکیاں لیتی نظر آئی۔ اس کو گھسیٹ کر پلنگ پر ڈال دیا۔ اس کا بدن
بخار کی شدت سے پھنک رہا تھا۔ شاید شیطان نے میرے اندر سے رحم اور
ترس کا ہر قطرہ نچوڑ کر نکال دیا تھ۔صبح جب نشہ اُتراء اس پھول سے
خوشبو وداع ہوچکی تھی۔ کھلی آنکھوں اور کھلے منہ کے ساتھ وہ مرچکی
تھی۔ اس کو اسی طرح چھوڑ کر میں اس آدھ جلے برباد گھر سے نکل گیا۔ یہ
علاقدتفضورین کا لہ تھا۔
ہر انارکی؛ خونریزی؛ خانہ جنگی کا انجام و اختتام بھی ہوجاتا ہے۔ وہ وقت
بھی آگیا کہ ایک بازو دوسرے بازو سے کٹ گیا اور وطن دولخت ہوگیا۔ جو ہم
چاہتے تھے اس میں کامیاب ہوگئے۔ وطن کو نیا نام مل گیا … ہمارا سنہرا
دیش…
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے محافظوں کے کندھوں پر لگے ستارے تار
دیئے گئے۔ ۔ وہ سب جس ٹرین میں سوار تھے میں بھی ایک مخبر کے طور پر
اُسی میں سوار تھا۔ ہر ڈبے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف ٹرین کی
گڑگڑاہٹ تھی… میں زیر لب اس لئے مسکراہا تھا کہ میری جیب نوٹوں سے
بھری تھی۔ مجھ ایسے غریب نے بھلا کہاں اتنی دولت دیکھی تھی۔ جہاں سے
یہ مال و دولت ہم ایسوں کو ترنوالے کے طور پر ملا کرتی تھی؛ اب وہاں
ہماری ضرورت نہ تھی۔ مجھے کسی نے منہ نہ لگایا… دل ماندہ ہوگیا تو ان
پیسوں کو لئے کلکتہ پھر وہاں سے برازیل: وہاں سے ال سلواڈور پھر کولمبیا
پہنچا۔ جہاں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا موقع مل گیا
اور میں اسی سلسلے میں یہاں آپہنچا۔
انسان کو اپنے کئے کا ایک نہ ایک دن احساس ضرور ہوتا ہے جو پچھتاوا بن
کر دل میں ای کی طرح اترنے لگتا ہے۔ اس تکلیف سے بچنے کے لئے میں
نے ڈرگز کا سہارا لینا شروع کردیا۔ کیونکہ میرے ہاتھ بے گناہوں اور
کمزوروں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔
شادی میں نے نہ کی… کیونکہ اب مجھے گھر بسانے کی چاہ نہ رہی تھی
جب جی گھبراتا آزادانہ ان جگہوں پر چلا جاتا کہ جہاں وقتی راحت کا سامان
ملتا تھا۔
میں نے پوچھا۔ امجد صاحب ایک بات بتائیےە اتنے دل لرزا دینے والے کام
کرنے کے بعد کیا کبھی کسی کے تڑپنے سسکنے پر آپ کو اب احساس ہوتا
ہے کہ کوئی جو آپ کے ہاتھوں مرگیاء اس کی یاد پر افسوس؟
ہاں کچھ کو نہیں بھلا سکتا… ایک تو وہ بچی جو نیم جلے گھر سے بخار میں
ملی تھی اس کا خیال آتا ہے۔ دوسرے ایک وہ لڑکی جو میری کلاس فیلو تھی
اس کو میں نے کلکتہ کے ایک بردہ فروش کو فروخت کردیا تھا۔ وہ مجھے
کلکتہ کے قحبہ خانے میں بے حال نظر آئی تھی۔ مجھے دیکھ کر چیخ پڑی
تھی کہ امجد تو نے میرے ہم جماعث: ہم مذہب ہونے کا بھی لحاظ نہ کیا… تو
نے مجھے کس حال میں پہنچا دیا… روز محشر میں الله کے حضور تیرے
خلاف فریادی ہوں گی۔ امجد کی آنکھیں نم تھیں اور آواز تھکن سے ڈوبتی
جارہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بھیگی پلکوں کو اُٹھا کر میری جانب
دیکھا اور کہا۔ مرنے سے پہلے یہ سب کہہ کر اپنا دل ہلکا کرنا چاہتا تھا۔
ہوسکے تو میرے لئے دعا مغفرت کرنا۔ یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کرلیں۔۔
سانس تو چل رہی تھی لیکن اب اس میں بولنے کی سکت نہ رہی تھی۔
میں دیر تک گم صم رہی۔ سوچا یہ کبھی میرا ہم وطن تھا اس کو اور اس
جیسے سبھی کو اپنا علیحدہ ””سنہرا دیش“ تو مل گیا جو ان کا نعرہ تھا۔ لیکن
آج موت کو اپنی شہ رگ کے قریب پاکر اپنی زندگی کی ان بیتی یادوں سے
کس قدر مضطرب اور تکلیف میں تھے۔ دو دن بعد نرس اینا کا فون آیا کہ مسٹر
امجد جان کئی کی اذیت میں ہیں ممکن ہو تو انسانیت کے ناتے اخری بار اپنی
مذہبی کتاب سے کچھ پڑھنا چاہو تو آجائو۔
جب میں وہاں پہنچی تو امجد کے نرخرے سے عجیب سی آواز نکل رہی تھی۔
لگتا تھا نچلے دھڑ سے جان نکل چکی ہے لیکن سانس حلق میں پھنس گئی
کہی۔ لی کر سپکے اگ رتے تھے کہ جسے وودروروسے دای سپتا رہی
ہو۔ میں نے پنچ سورہ کھولا تو جھٹکے ختم ہوگئے اور سر ایک طرف کو
ڈھلک گیا۔ میں نے پنچ سورہ بند کردیا اور اینا سے کہا۔ سسٹر اب آیت پڑھنے
کا وقت گزر چکا۔ شاید توبہ کے دروازے بند ہوگئے تھے۔ اس کی روح پرواز
ع وس تھا۔ اسلامک سینٹر والور ں نے میت تیار کردی نماز جنازہ کے
لئے۔ ۔ بعد نماز ظہر ظہر اعلار ن کیا کہ نمازی؛ نمازِ جنازہ میں شریک ہوجائیں۔ چھٹی
کا دن نہ ہوتے کی وجہ سے ظہز پڑھنے مسجد کے اطرات مین کام کزتے
والے چند لوگ ہی امجد کی نماز جنازہ میں شریک ہوسکے۔ عورتوں میں وہاں
میرے علاوہ صرف دو اور تھیں۔
نماز جنازہ شروع کرنے سے پہلے امام نے اعلان کیا کہ میت کے رشتے دا
پہلی صف میں آجائیں۔ کوئی بھی آگے نہ وا کر د وھ ان ۹ مر ار
دار موجود نہ تھا۔نماز ختم کرکے سب نے اپنی اپنی راہ لی کیونکہ وہ سب لنچ
بریک میں نماز پڑھنے آئے تھے۔ صرف چار لوگوں نے میت گاڑی میں رکھی
اور قبرستان کی طرف چلے گئے۔ میں سوچتی ہوں کہ کیا یہ شخص جس کے
پھیپھڑے اور مئے نوشی اور منشیات کی وجہ سے گل چکے تھے جو سانس
لینے میں انتہائی تکلیف محسوس کررہا تھاء جس کی آخری سانس بڑی مشکل
سے نکلی؛ کیا عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچ سکے گا؟ یہ تو بس وہی جانتا
ہے جو پیدا کرتا ہے اور جان لیتا ہے۔ ہم نہیں جانتے؛ وہی منصف بھی ہے اور
رحیم و کریم بھی کہ جو رب عرش عظیم ہے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *