زندگی اک الجھی کہانی پارٹ ١

جب ابا جان نے میری ماں سے دوسری شادی کی: ان کی عمر پچاس سال تھی۔
امی ایک یتیم لڑکی تھیں؛ دادی کے پاس رہتی تھیں۔ بوڑھی دادی بھی اب
زندگی کا بیشتر سفر طے کرچکی تھیں۔
دادی کو پوتی کے بیاہنے کی جلدی تھی جو اب سولہ؛ سترہ برس کی ہوچکی
تھی۔ وہ اسے کسی محفوظ اور کھاتے پیتے گھرانے میں عزت سے رخصت
کرنے کی عجلت میں تھیں۔
ہمارے والد اس بوڑھی خاتون کے دورپرے کے عزیز ہوتے تھے۔ ایک روز
اتفاق سے دادی؛ پوتی کو کسی رشتے دار کے گھر دیکھ لیا اور اپنی پہلی بیوی
کے انتقال کے بعد اچانک ان کے ذہن میں افسر جہاں کو دیکھ کر بجلی کا ایک
کوندا سا لپکا کہ اب مجھے دوسری شادی کرلینی چاہئے۔
افسر جہاں کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد وہ ان کی دادی سے ملے اور
شادی کے لئے پیغام دیا۔ اگرچہ عمروں کا فرق زیادہ تھا مگر ابا جان کی
صحت پچاس کے سن میں بھی قابل رشک تھی اور وہ جوان نظر آتے تھے۔ اپنا
جما جمایا کاروبار اور ذاتی خوبصورت اور کشادہ مکان تھا۔ غرض ہر طرح
سے دادی کو رشتہ موزوں لگا۔ عمر کے فرق کو انہوں نے اہمیت نہ دی۔ یہی
سوچا کہ دوسرے کے انتظار میں کہیں افسر جہاں بن بیاہی نہ رہ جائے؛ کون
پھر بعد میں اس کی شادی کرے گا۔ بس انہوں نے جھٹ پٹ پوتی کے لئے
میرے والد کے رشتے کو قبول کرکے جلد شادی کی تاریخ رکھ دی۔ ان کی
شادی کے بعد وہ صرف چھ ماہ زندہ رہیں۔ جب میں پیدا ہوئی؛ ابا تریپن برس
کے ہوچکے تھے۔ جب ان کی وفات ہوئی؛ پندرہ سال کی تھی جبکہ میرے
سوتیلے بہن بھائی اب جوان تھے۔ باپ کے مرتے ہی گھر پر ان کا راج ہوگیا
اور وہ سوتیلی ماں کو اپنے گھر میں ایک فاضل وجود گرداننے لگے۔
بڑی آپا کی شادی ہوچکی تھی؛ باقی چاروں غیرشادی شدہ تھے۔ ان چاروں میں
سے کوئی بھی نہ چاہتا تھا کہ میری ماں اب اس گھر میں رہیں اور والد کے
اٹاٹوں میں سے حصہ دار بنیں۔ ان کو یہ راہ دکھانے والے ہمارے چچا اور
چچی تھے۔ وہ ان کو بھڑکاتے تھے۔ میرے دو بھائی اور تین سوتیلی بہنیں
تھیں۔ آپا تو گھر بار والی اپنے گھر میں رہتیں باقی ابا جان کی جملہ اولاد ایک
جیسی تھی۔ ان چاروں کے دل میں امی اور میرے لئے جگہ نہ تھی خاص
طور پر منجھلی والی تو ہم کو نفرت اور حقارت سے دیکھتی تھی جس پر میں
اور امی بیچاری مسلسل اذیت میں رہنے لگی تھیں۔
والد صاحب کیا اس دنیا سے گئے کہ زمین ہم پر تنگ اور ان کی اولاد نے
ہمارا جینا دوبھر کردیا۔ اب دل سے فریاد نکلتی کہ ابا جان! اگر آپ کو اتنی
جلدی اس دنیا سے رخصت ہونا تھا تو کیوں میری ماں سے شادی کی۔ ماں
اپنے ہی گھر میں مسلسل اذیت سہنے سے بیمار پڑگئیں۔ وہ بیٹھے بیٹھے خود
سے باتیں کرنے لگتیں۔ بلاسبب سر پر برقع ڈال کر گھر سے نکل جاتیں۔ روز
بلاسبب گلیوں کے چکر لگا کر کچھ دیر بعد واپس آجاتیں۔ وعدہ کرلیتیں کہ اب
کہیں باہر نہ جائیں گی لیکن جب سوتیلی اولاد میں سے کوئی ان سے بدسلوکی
کرتا تو باہر نکل جاتیں۔ مجھے پتا تھا کہ وہ جی بھر کر رونے کے لئے باہر
چلی جاتی ہیں۔
ایک روز والدہ چپکے سے باہر نکل گئیں۔ روبینہ نے ان سے اپنا غسل خانہ
دھلوایا اور یہ کہہ کر ابانت بھی کی کہ دن میں تین بار دھو کر صاف کرو گی
تب کھانا ملے گا۔ماں کا دل بھر آیاء آنسو بہنے لگےء منہ سے کچھ نہ بولیں۔
میں کچن میں سبزی کاٹ رہی تھی وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ کمرے کو
اندر سے کنڈی لگا لی اور کھڑکی سے باہر نکل گئیں۔ انہیں گھر سے جاتے
کسی نے نہ دیکھا۔ جب میں سبزی کاٹ چکی: تب مجھے امی کا خیال آیا۔ ان
کو دیکھنے کے لئے کچن سے نکلی۔ سارے گھر میں نظر نہ آئیں تو کمسرے
کی طرف گئی کمرے کا دروازہ بند ملا میرا ماتھا ٹھنک گیا۔ بہنوں کے ڈر
سے زور سے دستک نہ دی۔ برآمدے میں گئی؛ ان کے کمرے کی کھڑکی ادھر
کو تھی اور سامنے گیٹ تھا۔ کھڑکی کے پٹ کھلے تھے۔ میرا دل دھک سے
رہ گیا۔ کھڑکی سے کمرے میں جھانکاء امی وہاں موجود نہ تھیں۔ سمجھ گئی
کہ ادھر سے نکل کر گئی ہیں۔
میرے ہاتھ لرزنے لگے۔ باہر جاکر ان کو نہ ڈھونڈ سکتی تھی کہ بھائیوں نے
سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ ہماری اجازت کے بغیر کبھی گھر سے باہر قدم
نہ رکھنا ورنہ یہ اس گھر میں تمہارا آخری دن ہوگا۔بہنوں سے کیسے کہہ
سکتی تھی وہ تو پہلے ہی برہم رہتی تھیں کہ یہ پاگل عورت جب جی کرتا
ہے منہ اٹھا کر گھر سے نکل جاتی ہے۔
تمام دن گزر گیا۔ میں دل میں دعا کرتی اور چپکے چپکے آنسو پونچھتی رہی
اور گھر کا کام کرتی رہی۔ منجھلی بہن کو پتا چلا کہ سوتیلی ماں غائب ہے
بڑبڑاتی رہی۔ یہ پاگل؛ آوارہ عورت باہر جاکر جانے کیا گل کھلائے گی۔ کسی
دن ہمارے باپ کی عزت آبرو خاک میں ملائے گی۔
میندعا کرنے لگی۔ یاالٰہی! ماں جہاں بھی ہےء اس کو گھر کا راستہ سجھا دے۔
اگر راستہ بھول گئی ہے تو اپنی رحمت سے یاد کرا دے۔ ان کی یادداشت بھی
اب کمزور ہوگئی تھی۔دعا قبول ہوگئی۔ کسی نے بیل بجائی۔ بڑا بھائی گھر میننہ
تھا اور چھوٹا کالج سے آنے کے بعد سو کر اٹھا ہی تھا کہ بیل بجی وہی گیٹ
اسٹیشن ہمارے گھر کے قریب تھا اور ماں ریل کی پٹری کراس کرتے ہوئے
ریل تلے آگئی تھی۔ اسپتال سے یہ اطلاع دینے جو شخص آیا تھاء ساتھ دو
پولیسں والے بھی تھے۔ امی کی یادداشت کمزور ہوگئی تھی تبھی میں ان کی ہر
قمیص کی جیب میں والد کا ہبزنس کارڈ ڈال دیا کرتی تھی۔ جب وہ لباس تبدیل
کرتیںء میں بغیر بھولے یہ عمل کرتی کیونکہ جب سے وہ گھر سے بغیر بتائے
نکلنے لگی تھیںء مجھے خوف رہنے لگا تھا کہیں یہ راستہ نہ بھول جائی
شکر ہے کہ اس روز بھی امی کی قمیص کی جیب میں ابا مرحوم کا وز ی
کارڈ موجود تھا۔ اگرچہ خون میں بھرا ہوا لیکن پتا دیکھا جاسکتا تھا۔ کارڈ پر
آفس کا جو نمبر درج تھاء وہ تو نہیں بدلا تھا۔ جب اس نمبر پر فون کیا گیاء
بھائی نے اٹھایا۔ فوراً چچا کے ہمراہ گھر آگئے۔ ادھر سے پولیس بھی آگئی۔
انہوں نے امی کی میت کو وصول کیا جو حددرجہ مضروب ہوگئی تھی۔آپا کو
بھی فون کرکے اطلاع دے دی گئی۔ وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ہمراہ آگئیں۔
ماں کی لاش دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔ میں بلک بلک کر رو رہی تھی کہ
اب میرا کوئی نہ رہا تھا۔ آپا نے جو مجھے یوں تڑپتے اور بلکتے دیکھاء ان کا
دل جانے کیسے پسیچ گیا۔ شاید اپنی ماں کی موت کا منظر یاد آگیا۔ آگے بڑھ
کر بانہوں میں بھرلیا اور گلے سے لگا لیا۔تسلی دینے لگیں۔ نویدہ! رو مت؛ میں
تمہیں اپنے پاس رکھوں گی۔وہ تین روز رہیں اور پھر مجھے اپنے ساتھولے
آئیں۔ یہاں اکر مجھے سکون ملا۔ ان کے پیار نے ماں ایسی محبث کا احساس
دلایا۔ تھیں تو وہ بھی سوتیلی لیکن اپنے باقی سب بہن؛ بھائیوں سے مختلف

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open